حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ عرب کو گھوڑوں سے نیچے نہ اترنے دو ورنہ یہ ہوسِ دولت واقتدار کا شکار ہو جائیں گے۔پھر ایسا ہی ہوا کہ عرب نے دنیا پرستی کی وہ مثال قائم کی جس کی بنیاد پر، مسلم تاریخ کے ان خون آ شام واقعات کاذکر کرتے مسلمان ہی نہیں بلکہ انسان بھی شرماتا ہے۔ جو ملوکیت کی طوالت کا باعث بنا اور صدیوں پہ قائم اقتدار کی سرکشی نے مسلمانوں کو آخر کار زوال پذیر کر دیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کاارشاد اس حقیقت کا بیان ہے کہ دولت و اقتدار کسی مقصد کے حصول کا جہاں ذریعہ ہے وہاں یہ بہت بڑی رکاوٹ بھی ہےاقتدار کی رسّہ کشی نے جہاں نیک نام لوگوں کو ”حق“ سے ہٹادیا وہاں انہیں نیک نامی سے بھی محروم کر دیا۔ معاشرے میں، وہ اپنے اُس موثرکردار سے بھی محروم ہو گئے جو وہ میدانِ سیاست میں داخل ہونے سے پہلے ادا کر رہے تھے۔ صدیوں سے، اسلاف صالحین نے خود کو اقتدار کی ذمہ داریوں سے علیحدہ رکھ کر، اہلِ اقتدار کی اصلاح کا رویہ اپنایا ،یہ رویہ برصغیر کے بہت سے جیّد اور متبحر علماءنے بھی اختیار کیے رکھا۔ انہوں نے اسی اصول کو اختیار کیے رکھا کہ ہمیں اقتدار کا حصہ بننے کی بجائے اپنی صلاحیت اور وقت علمِ دین کی تبلیغ میں صَرف کرتے ہوئے، حکمرانوں کی اصلاح کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ ان کایہ بھی اعتراف تھا کہ ہم ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی شاید اہلیت بھی نہیں رکھتے۔ اس حوالے سے مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کا یہ حوالہ اس نقطہ نظر کامویّد ہے:
”مولانا شبیر علی تھانوی اپنی ”روئیداد تبلیغ“ میں فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت تھانوی ؒ نے مجھ سے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔”میاں شبیر علی! ہوا کا رخ بتا رہا ہے کہ لیگ والے کامیاب ہو جائیں گے اور بھائی جو سلطنت ملے گی، وہ ان ہی لوگوں کو ملے گی جن کو آج سب فاسق و فاجر کہتے ہیں، مولویوں کو تو ملنے سے رہی۔ لہٰذا ہم کو یہ کوشش کرنا چاہیے کہ یہی لوگ دیندار ہو جائیں اور بھائی آج کل کے حالات ایسے ہیں کہ اگر سلطنت مولویوں کو مل جائے تو شاید مولوی چلا بھی نہ سکیں۔ یورپ والوں سے معاملات، ساری دنیا سے جوڑ توڑ ہمارے بس کا کام نہیں اور سچ تو یہ ہے کہ سلطنت کرنا دنیا داروں ہی کا کام ہے۔ مولویوں کو یہ کرسیاں اور تخت زیب بھی نہیں دیتا۔ اگر تمہاری کوشش سے، یہ لوگ دین دار اور دیانت دار بن گئے اور پھر سلطنت ان ہی کے ہاتھ میں رہی تو چشم ما روشن، دل ماشاد۔ کہ ہم خود سلطنت کے طالب ہی نہیں۔ ہم کو توصرف یہ مقصود ہے کہ جو سلطنت قائم ہو، وہ دیندار اور دیانتدار لوگوں کے ہاتھ میں ہو اور بس: تاکہ اللہ تعالیٰ کے دین کا بول بالا ہو“۔ میں نے یہ ارشاد سن کر عرض کیا کہ پھر تبلیغ نیچے کے طبقے یعنی عوام سے شروع ہو یا اوپر کے طبقے یعنی خواص سے؟ اس پر ارشاد فرمایا کہ: ”اوپر کے طبقہ سے۔ کیونکہ وقت کم ہے۔ خواص کی تعداد کم ہے اور اور الناس علیٰ دین ملو کہم۔ اگر خواص دیندار اور دیانتدار بن گئے۔ تو انشا ءاللہ عوام کی بھی اصلاح ہو جائے گی“۔ (ص ۱،۳بحوالہ تعمیرِ پاکستان اور علمائے ربانی)
افسوس ناک صورتِ حال یہ ہے کہ پاکستان میں موجود مذہبی جماعتیں اپنے غیر ضروری وجود کے باعث پاکستان کے سیاسی ماحول میں اکثر منفی کردار ہی ادا کرتی آرہی ہیں وطنِ عزیز کی خیر خواہی میں ، اُن کا مذہبی کردار اور نہ سیاسی کردار قابل تحسین ہے مذہبی کردار فقط یہ ہے کہ حسّاس مسائل پہ سیاست کرتیں اور ”یہود و ہنودکا ایجنٹ“ اور” مغربی تہذیب کی یلغار“ جیسی اصطلاحات متعارف کرواکر اس کے سامنے خودکو ”سدِّ سکندری“ ثابت کرتی ہیں اور سیاسی کردار کا یہ عالم ہے کہ ان کی حیثیت فقط ”بلیک میلر“ کے اور کچھ نہیں ہے۔ ”بلیک میلر“ بھی وہ جنہیں حکومت وزارتیں دے بھی دے تو محکمے نہیں دیتی۔ محکمے دے دے تو اختیارات نہیں دیتی، اختیارات بھی دے دے، تووزیر اعظم ملاقات کا وقت نہیں دیتے۔ الغرض کسی نہ کسی مقام پہ بے عزتی اور بے قدری کا مزہ چکھتی رہتی ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ جس دور میں صرف پی ٹی وی ہوتا تھا، اس دور میں آئے روز یہ مذہبی جماعتیں فحاشی، عریانی اور بے حیائی کے خلاف مظاہرہ کرتے دکھائی دیتی تھےں۔ جبکہ اب پرائیویٹ چینلز سب کچھ دکھا رہے ہیں بلکہ وہ سب کچھ دکھا رہے ہیں جن کا پی ٹی وی کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ آج کسی بھی جماعت کی رگ”حمیت دین “ نہیںپھڑکتی ، کسی کو بھی مظاہرے اور احتجاج یاد نہیں آتے۔ آخر کیا وجہ ہے؟
ہم ہرگز یہ نہیں کہتے کہ علمائے کرام انتخابی سیاست نہ کریں،ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر کسی عالمِ دین کا رجحان میدانِ سیاست کی طرف ہے تو وہ پاکستان کی مقبولِ عوام جماعتوں سے کسی کا انتخاب کر لے اور اس میں رہ کر اپنے ہم خیال لوگ تیار کرے اور اس طرح قومی دھارے میں شامل ہو جائے۔ اس سے جہاں عوام کی خدمت کے جذبے کو تسکین ہو گی وہاں اسلام کے مقاصد بھی پایہ تکمیل تک پہنچیں گے ورنہ موجودہ مذہبی طرزِ سیاست نے اسلام اور عوام کی خدمت دونوں کو مختلف فیہ بنا کر رکھ دیا ہے۔