برِصغیر میں بنائی جانے والی عمومی فلموں میں ہیرو کا کردار کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔ ہیرو اکثر ایسا فرد ہوتا ہے جو تمام تر کام اکیلا سرانجام دے سکتا ہے۔ وہ طاقت میں بے شمار لوگوں پر بھاری ہوتا ہے۔ پولیس اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔ ظالم سیاستدان، جاگیردار اور وڈیرے، مافیا کے سربراہ، سب اس سے خوف کھاتے ہیں۔ وہ تنِ تنہا ہیروئن کو غنڈوں سے بچا لاتا ہے اور کسی قسم کا ہتھیار اس کو روک نہیں پاتا۔ ہمارے ہاں سیاسی لیڈرز کا تصور بھی کچھ اسی قسم کا ہے۔ ہمارے تصور میں لیڈر ایک ایسی مافوق الفطرت ہستی ہے جو اداروں کے کرنے کام اکیلا کر سکتا ہے اور ہر شعبے کا ماہر ہوتا ہے۔ ظلم کے سامنے وہ تنہا کھڑا ہو جاتا ہے اور سیاسی جدوجہد بھی اسی کے کندھوں پر استوار ہوتی ہے۔ اس کو مخلص اور تربیت یافتہ ٹیم کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بوقتِ ضرورت وہ موجودہ سیاسی چہروں میں سے کچھ کو اپنے ساتھ ملا کر ایک ایسی مرکزی جماعت تشکیل دے لیتا ہے جس کے اراکین کا ماضی کسی بھی صورت قابلِ تقلید نہیں ہوتا۔ مگر چونکہ وہ لیڈر ہے اس لیے عوام کا اعتماد اسے پھر بھی حاصل ہو جاتا ہے ۔ نیز فیصلہ سازی میں بھی اس کی ذات مرکزیت کی حامل ہوتی ہے اور مشاورت کی اسے کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی۔
درحقیقت ہمارا سیاسی شعور زوال کے دور میں غلامی کے اثرات کے تحت حقیقی قیادت کے تصور سے عاری ہو چکا ہے۔ فردِ واحد کی لیڈرشپ و حکمرانی کا ایسا تصور جس کے تحت لیڈر عظیم ترین اجتماعی کام تنِ تنہا سرانجام دے سکے، اسی غلامانہ ذہنیت کا مظہر ہے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھتے ہوئے ہمارے ہاں بہت سے لیڈرز پر تقدیس کا لبادہ اوڑھا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہم من حیثُ القوم اپنی لیڈرشپ کے کیے گئے فیصلوں کا تنقیدی جائزہ لینے اور ماضی سے سیکھتے ہوئے مستقبل کے لیے رہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم میسر آنے کی بدولت کسی درجہ میں انفرادی طور پر ماضی کی لیڈرشپ کا تجزیاتی مطالعہ کرنے کی کاوش کی جاتی ہے مگر وہ کسی ادارہ جاتی عمل کے ماتحت نہ ہونے کو وجہ سے پالیسی سازی کا حصہ نہیں بن پاتی اور اپنی افادیت کھو بیٹھتی ہے۔ اس کے برعکس زندہ قومیں اپنی اجتماعی زندگی میں ماضی کی لیڈرشپ کا گہرا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ کرتی ہیں تاکہ مستقبل کی تعمیر میں ماضی کی غلطیاں شامل نہ ہوں۔
جس قسم کی جزباتی وابستگی اور اندھی عقیدت ہمارا نوجوان طبقہ اپنے آئیڈیل لیڈرز کے ساتھ رکھتا ہے، یہ بالکل جدید دور کی بت پرستی کی مانند ہے۔ ایسی بت پرستی پتھر کے بتوں کی پرستش سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس کہ وجہ یہ ہے کہ یہ عقل مار دیتی ہے اور نوجوان اپنی توانائیاں سراب و خواہشات کے پیچھے ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ بلکہ غیر دانستہ طور پر انہی مفادپرست حکمران طبقات کے ہاتھوں استعمال ہو جاتے ہیں۔
ان نام نہاد لیڈرز کا وطیرہ یہ ہے کہ یہ نوجوانوں کو اپنے خوش کن نعروں سے متاثر کرتے ہیں اور مسائل کو اجاگر کر کے ان کے جذبات کو برانگیختہ کر دیتے ہیں۔ ملک اور قوم کی خاطر کچھ کرنے کی خواہش رکھنے والے نوجوانوں کو شخصیت پرستی کی رومانویت میں مبتلا کیا جاتا ہے اور پھر ان کی توانائیوں کو ایسا رخ دیا جاتا ہے کہ نہ وہ عقل و شعور حاصل کرسکیں اور نہ ہی تعلیم و تربیت کے عمل سے گزر کر ایسی حقیقی قیادت پیدا کرسکیں جو ایک اجتماعیت قائم کر کے ملک کے مسائل کا حقیقی اور پائیدار حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ایسے لیڈرز نوجوانوں کو دلیل اور تجزیاتی صلاحیت سے آراستہ کرنے کی بجائے مخالفیں پر ذاتی حملے کرنے اور اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مختلف جماعتوں کے پیجز اور ان پر ہونے والی پوسٹس اور بحثیں اس بات کا عملی ثبوت ہیں۔
یہی نوجوان جب اپنی زندگی کے قیمتی بیس سے پچیس سال شخصیت پرستی اور نعروں کی سیاست کی نذر کر بیٹھتے ہیں تو شدید مایوسی ان کا مقدر ہوتی ہے۔ جب جوانی ادھیڑ عمری اور بڑھاپے میں تبد یل ہوتی ہے تو ماضی کے انقلاب پسند آج کے رجعت پسند بن جاتے ہیں۔ پھر اپنی ہی قوم کو غدار کہتے ہیں اور خونی انقلاب کی آرزو رکھتے ہیں۔ کبھی کسی امام خمینی کی خواہش کرتے ہیں تو کبھی امام مہدی کا انتظار۔ اور اکثر اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم ہی ایسی ہے کہ یہاں کچھ بدلنے والا نہیں۔
ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے آج کے نوجوانوں کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے ماضی اور حال کا مطالعہ و تجزیہ نہایت اہم ہے کہ ہم یہ جان سکیں کہ وہ کونسی دانستہ یا غیردانستہ غلطیاں تھیں جو ماضی کے لیڈروں نے کیں اور کیا آج بھی انہی کا اعادہ تو نہیں کیا جا رہا۔ نیز نظریہ ضرورت کے نام پر کیا آج بھی مفاد پرست طبقات کے ہاتھوں میں کھلونا بننے کو جائز تو قرار نہیں دیا جا رہا۔
نوجوانوں کو چاہیئے کہ وہ جس بھی پارٹی سے جزباتی وابستگی رکھتے ہوں، اپنی قیادت کو جماعتی پیرائے میں دیکھنا شروع کریں۔ اگر پارٹی پر مفاد پرست طبقات کا قبضہ ہے تو اس کے خلاف جماعتی پلیٹ فارم پر آواز اٹھانا ضروری ہے۔ پھر ہی مخلص نوجوانوں کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کے آئیڈیل لیڈرز بتائے گئے مقاصد کو پورا کرنے میں کتنے سچے ہیں اوراس کے لیے اصولوں پر ڈٹ جاتے ہیں یا ہر قدم پر سمجھوتہ کرنا روا رکھتے ہوئے اقتدار تک پہنچنا مناسب سمجھتے ہیں۔ اگر ان جماعتوں کے لیڈرز مخلص نوجوان کارنان کے جائز مطالبات پر کان دھرنے کو تیار نہ ہوں تو نوجوانوں کو اپنی عقلی اور عملی قوت پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔ مفاد پرست و بے شعور لیڈرز کے پیچھے زندگی برباد کرنے سے بہتر ہے کہ حقیقی لیڈرشپ کی تیاری کی جائے۔ اس کے لیے حقیقی لیڈرشپ کے تمام تر خواص معلوم ہونا ضروری ہے۔