یہ بات تو طے ہے کہ جلد یا بدیر سیاسی نظام پر حاوی اشرافیہ کے موجودہ دھڑے کسی نہ کسی بہانے منظر عام سے ہٹ جائیں گے لیکن اہل دانش اور ملک و قوم کا درد رکھنے والوں کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان کے بعد سیاسی نظام پر جو لوگ غالب آئیں گے وہ ملک و قوم سے مخلص ہوں گے؟ کیا وہ دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق معاشرے کی تشکیل کے تقاضوں سے آگاہ اور ان تقاضوں کو پورا کرنے کے صلاحیتوں سے لیس ہوں گے؟ اگر جواب ہاں میں ہے، پھر تو بات اطمینان کی ہے اور موجودہ حکمران خاندان کو خطرے میں دیکھ کر ہمیں خوشی کے شادیانے بجانے چاہیں۔ لیکن اگر غالب امکان یہ ہے کہ حکمرانوں کی اگلی کھیپ بھی اسی ذہنیت، پس منظر اور ترجیحات کی حامل ہوگی جس کا اظہار موجودہ حکمران دھڑے کرتے ہیں اور گزشتہ ریکارڈ کی روشنی میں یہ بھی ممکن ہے کہ نئے آنے والے پچھلوں سے دو ہاتھ آگے ہوں تو پھر یہ صورت حال ہم سب کے لئے لمحہ ء فکریہ ہے۔ آئیے اپنےمعاشرے میں رائج سیاسی ، معاشی اور عدالتی نظام کا جائزہ لیں کہ وہ کن کے مفادات کے تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے اور آج تک کی اس کی کارکردگی کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے کردار، قوانین اور دائرہ کار پر غور کریں اور الیکشن کے عمل کا گہرائی میں جاکر جائزہ لیں اور اس میں سرمائے اور جاگیر کے فیصلہ کن کردار کو سمجھیں۔ اشرافیہ کے مختلف دھڑوں (سرمایہ دارو جاگیردار، سول و ملٹری بیوروکریسی، عدلیہ اور میڈیا ) کے باہمی تعلقات اور گٹھ جوڑ کو پہنچانیں۔ پچھلے ستر سال کی ملکی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی تشکیل کے پس منظر اور مقاصد کو سامنے رکھیں۔ ان تمام عوامل کی تحقیق اور جائزے کے بعد اگر ہم اس نتیجے پر پہنچیں کہ ہمارے موجودہ نظام ریاست (پارلیمنٹ، عدلیہ ، بیوروکریسی اور میڈیا ) میں اصلاح کی گنجائش باقی ہے تو سو بسم اللہ! ہم ضرور نئے آنے والے حکمرانوں سے اپنی امیدیں وابستہ کریں، لیکن اگر ہم مخالف نتیجے پر پہنچتے ہیں تو کیوں نہ سماجی تبدیلی کے پہلے مرحلے پر جس شعوری مکالمے اور مطالعے کی ضرورت ہے اس کا آغاز کریں۔