قسط نمبر تین میں میں نے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ وہ ٹیکنالوجیز جو ملک میں موجود نہیں ہیں ان کو کیسے حاصل کیا جائے۔ وہ کون سے عوامل ہیں جو دوسرے ملکوں کی کمپنیوں کو پاکستان میں کھینچ سکتے ہیں۔ موجودہ قسط میں ایک دوسرے نقطہ نظر سے بات کی جائے گی، کہ اگر کوئی کاروبار یا ٹیکنالوجی پہلے ہی ہمارے ملک میں موجود ہے تو وہ کیسے پھلے پھولے اور ترقی کرے۔
قسط نمبر۱ میں مرعوبیت پہ بات ہوئی تھی، کہ کس طرح دوسروں کی زبان ہمارے نوجوانوں کو اس بات پہ قائل کردیتی ہے کہ ہمارے پاس کحچھ نہیں ہے، سب کحچھ باہر ہے اور باہر بھاگو۔ اس لیے قومی ترقی قومی زبان میں ہی ممکن ہے۔
اب تخلیقی صلاحیتوں پہ بات ہو گی۔ موجودہ اداروں اور ان کی پراڈکس کو بہتر کرنا، آبادی کی رفتار سے مقدار بڑھانا، اور قومی پراڈکس کو قومی سرحدوں سے نکال کر دوسری قوموں کی طرف لےجانا اور عزت و ڈالر کمانا۔
ایک پڑاڈکٹ چاہے وہ صابن دانی جیسی چھوٹی پراڈکٹ، واپڈا کی بجلی ہو، لالی وڈ کی کوئی فلم، یا جی۔ایف تھنڈر لڑاکا طیارہ جیسی بڑی پراڈکٹ۔ سب مسلسل ارتقا مانگتے ہیں۔ ان کے بنانے سے لے کر بیچنے تک سب مراحل میں سوچ اور نئی سوچ کی ضرورت پڑتی ہے۔ بنانے والوں، پلان کرنے والوں اور بیچنے والوں سب کو دماغ لڑانا پڑتا ہے، دنیا پہ نظر رکھنی پڑتی ہے اور سمجھداری سے اپنے مارکیٹ بنانا پڑتی ہے۔ اگر دل و دماغ دونوں کو کام میں لگا دیا جائے تو پھر ممکن ہی نہیں کہ یہ پراڈکٹس دنیا میں اپنا لوہا نہ منوایئں۔ وقت لگ سکتا ہے لیکن ہوتا ضرور ہے۔
اب بات یہ ہے کہ سوچے کون؟ دل ودماغ کو ایک پیج پہ کیسے لایا جائے؟ ہمارے معاشرے میں سوچنے والے کی نہ تو کوئی عزت ہے، طاقت اور نہ ہی پیسہ۔ جب سوچنے والوں کویہ چیزیں نہیں ملیں گی وہ کہاں سوچیں گے۔ سوچنے اور تخلیق کرنے میں دماغ کادایاں حصہ لگتا ہے جبکہ کاپی کرنے میں بایاں،جوکہ آسان لگتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم خود سوچ کر بہتری کرنے کی بجائے چاپلوسی کر کے کام نکوانے کو آسان سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر ہم تخلیق کاروں کو عزت، پیار،اعتماد اور اختیار دے دیں تو ان کے دماغ کا تخلیقی حصہ زیادہ کام کرے گا، جب یہ صلاحیت پوری قوم میں آ جائے گی تو پھر ہمیں خوشامد مشکل اور محنت و تخلیقی کام آسان لگنا شروع ہو جائےگا۔ یہاں سے ہی دل و دماغ ایک پیج پہ آ جائیں گے۔
یہ دن قوم کی ترقی کا اصل دن ہوگا۔