ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں کایہ دعوی ہےکہ پارلیمنٹ میں اگروہ نہ ہوتےتوآج اسلام کےنام پرحاصل کیےگئےاس ملک میں اسلام کانام لیواکوئی نہ ہوتا۔ یہ جماعتیں ہرالیکشن میں اسی خیال اورمفروضہ پرلوگوں کوبلیک میل کرتی رہی ہیں۔ مدارس جوکہ ان جماعتوں کےووٹ بینک ہیں انہیں ان جماعتوں کی طرف سےہمیشہ اس خوف کااحساس دلایاجاتارہتاہےکہ ریاستی نظام انہیں مٹانےکےدرپہ ہے اورانہیں کسی طورریاستی نظم کےتابع نہیں آنا! کیسی دوعملی ہےکہ ایک طرف تویہ جماعتیں مدارس کوریاستی نظم کےتابع نہیں آنےدیناچاہتیں تودوسری طرف خودریاستی نظم سےجدانہیں ہوناچاہتیں!
تعجب اس بات پرہےکہ یہ جماعتیں ایک طرف توخودکوپارلیمانی سطح پر اسلام کی بقاکاسبب بتاتی ہیں تودوسری طرف عوامی سطح پراس بات کارونابھی روتی رہتی ہیں کہ ملک میں اسلام کونافذنہیں کیاجارہا۔کوئی پوچھےکہ اجی صاحب! یہ مینڈٹ توعوام نےآپ کودیاتھااوراسی اشوپرتوعوام نےآپ کوپارلیمان میں بھیجاتھا اوراسی وجہ سےتوآپ وزارتوں کےمزےلوٹ رہےہیں۔
کچھ لوگ یہ خیال رکھتےہیں کہ ان مذہبی سیاسی جماعتوں کومکمل اقتدارملاہی کب ہےجوان پرتنقیدکی جاتی ہے۔توصاحب!عرض یہ ہےکہ اس کاسبب بھی ان جماعتوں کی داخلی ومسلکی حدبندیاں ہیں۔ ان میں سےہرایک جماعت اپنےمسلک کااسلام نافذکرناچاہتی ہے۔ کبھی ان جماعتوں کےمنشوراٹھا کردیکھیےتومعلوم ہوگاکہ الفاظ کی نشست وبرخواست کےعلاوہ کوئی فرق نہیں۔ تحریری طورپرہرجماعت ملک میں اسلام نافذ کرناچاہتی ہےلیکن عملی طورپرحالت یہ کہ ذاتی مفادات کےسواایک مجلس میں جمع ہونابھی عارسمجھتےہیں۔زیادہ عرصہ نہیں گزراکہ افغان طالبان کےخون پران جماعتوں نےایک ”اسلامی نیٹو”تشکیل دیاتھااورایک صوبہ میں واضح کامیابی بھی حاصل کی تھی لیکن اس ”اسلامی نیٹو”کی پانچ سالہ مایوس کن کارکردگی یہ سوال چھوڑگئی کہ اگریہ سب مل کربھی اسلام کانظام غالب نہ کرسکےتوان میں سےکوئی ایک کیا کرےگا۔
ایک مذہبی سیاسی جماعت کےامیرجوتمام زندگی امریکہ کوگالیاں دیتےرہےاورجنہیں مسجدسےجوتی چوری ہونےمیں بھی امریکہ کی سازش نظرآتی تھی،ان کےبارےمیں انکشاف ہواکہ ان کی اپنی اولادیں ٹھیک اسی دورمیں امریکہ سےاعلی تعلیم حاصل کرتی رہی ہیں۔ان مذہبی سیاسی جماعتوں نےجمہوریت میں ملوکیت کواس طورزندہ رکھاہےکہ ان جماعتوں میں جوایک بارسربراہ بن گیاتوحضرت عزرائیل ہی اس کی سربراہی چھین سکتےہیں اورکسی میں یہ ہمت نہیں۔ ایک جماعت کےامیرتمام زندگی ملوکیت کےخلاف سرگرم رہےلیکن آج ان کےصاحبزادے اس جماعت کےامیرہیں۔ان جماعتوں نےسرمایہ دارانہ جمہوری نظام کےتابع رہ کراپنی جماعتی سطح پرجوشورائی نظام بنارکھےہیں اس کی حیثیت بھی معجون مرکب کی سی ہے اوریہ شورائی نظام جماعت کےسربراہ کی ملوکیت کی دوامیت اوربقاکےٹول کاکرداراداکرتاہے۔ساری زندگی کسی جماعت کی خدمت کرنےوالا اگرصاحب زادگی کےشرف سےمحروم ہےتووہ کبھی جماعتی سطح کے اعلی عہدہ کااہل نہیں ہوسکتا۔ ایک اورجماعت کےسربراہ ہیں جونہ صرف تہترکےآئین کے”حافظ”ہیں بلکہ ہرمقتدراورحکمران جماعت کےکبھی گیسواورکبھی دامن میں جگہ تلاش کرلیتے ہیں اوروسیع ترقومی و مذہبی مفاد میں وزارتوں کےمزےلوٹتےہیں۔حیرت اس پرہےکہ ان کےکارکن ان کےاس عمل کوسیاست کی معراج سمجھ رہےہوتےہیں۔ابھی کچھ دن ہوئےکہ امریکہ مخالف اس مذہبی سیاسی جماعت کےمخلص کارکن کہہ رہےتھےکہ امریکہ کی ایک سروےرپوٹ کےمطابق ان کی جماعت کےسربراہ پاکستان کےسب سےزیرک سیاست دان ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیانظام کاحصہ بن کرنظام تبدیل کیاجاسکتاہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کومکی دورمیں ہرچیزکی پیش کش کی گئی حتی کہ ریاست کاسربراہ بننےکی بھی پیش کش کی گئی اوربدلہ میں یہ بات چاہی گئی کہ ہمارےنظام کےخلاف اپنی دعوتی سرگرمیاں ختم کردیں۔ مگرآپ نےنظام کاحصہ بن کرنظام کوٹھیک نہیں کیابلکہ نظام کےمقابلےمیں برترنظام دیکراس نظام کو”ری پلیس” کیا۔ لیکن آج ہماری اکثرمذہبی سیاسی جماعتیں اپنےتئیں یہ گمان رکھتی ہیں کہ نظام کاحصہ بن کرنظام کوتبدیل کیاجاسکتاہے۔جوجماعتیں اپنی جماعت کونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کاجانشین قراردیتی ہیں ان سےیہی کہاجاسکتاہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت ”نظام” بنانےوالی تھی اورآپ کی جماعتوں کو”نظام”بنانےوالاہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہےکہ علماء انبیاء کےوارث ہیں اورسیاست انبیاء کی سنت ہے۔ لیکن عصری سیاست کرنےوالی ان مفادپرست مذہبی سیاسی جماعتوں کوانبیاءکاوارث کہناشایدانبیاءکرام کی بھی توہین ہے۔
برچہرہ حقیقت گر ماند پردہ
جرم نگاہ دیدہ صورت پرست ماست