امریکہ اور جاپان کی دو نامور نیوکلیر توانائی اور ٹکنالوجی سے متلعق کمپنیاں بنک کرپٹ ہو گئی ہیں۔ پچھلے ہفتے واشنگٹن ہاؤس نے اپنی بنک کرپٹسی کا اعلان کیا ہے۔ واشنگٹن ہاؤس نے دنیا کا پہلا نیوکلیئر ری ایکٹر ۶۰ سال پہلے متعارف کروایا تھا اور نیوکلیئر کے شعبے میں ٹاپ کی کمپنی تھی،جس نے کوریا اور باقی دنیا بھر کو نیوکلیئر توانائی کا استعمال سکھایا اور پوری دنیا کے 430 نیوکلیئر ری ایکٹرز میں آدھے واشنگٹن ہاؤس نے ہی لگائے تھے۔ واشنگٹن ہاؤس اور توشیبا کا باہمی پیکٹ تھا، جس کے بعد دونوں کمپنیاں آپس میں زم ہو گئی تھیں۔سول نیوکلئر معاہدہ کے بعد انڈیا سے جو بھی بزنس ملا تھا، وہ سب واشنگٹن ہاؤس-توشیبا نے ہی شیٔر کیا تھا۔ لیکن یہ معاہدہ سرمایہ داری نظام کے باقی رشتوں جیسا تھا کہ ایک کمزور ہوا تو پارٹرنشپ ختم۔ اب ایک کے کرپٹ ہونے کے بعد معاہدہ ٹوٹ گیا ہے۔
اب کمپنی خود کو بیچنے کے لیے کوریا الیکڑک اینڈ نیوکلیئر کمپنی یا چاینئز نیوکلیئر اینڈ کنسٹریکشن کمپنی کے دروازے پہ دستک دے رہی ہے، لیکن دروازہ کھلتا ہے کہ نہیں، یہ یقین نہیں ہے، کیونکہ کوریا اور چین دونوں کے پاس اپنے پلانٹ کے ڈائزائن ہیں۔ جبکہ امریکہ کے اندر موجود دوسری چھوٹی نیوکلیئر کمپنیاں اس بڑی کمپنی کو خریدنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں ہیں۔
واشنگٹن ہاؤس کے بنک کرپٹ ہونے کی مایئکرو وجوہات جو بھی ہوں، اس میں سیاسی قیادت کی غلط پالیسیوں کا ہاتھ ضرور ہے۔ ۱۹۷۰ سے لے کر ۲۰۰۰ء تک امریکہ نے دنیا کو نئے پلانٹ لگانے سے روکے رکھا اور دنیا کی ترقی کے راستے میں ایک رکاوٹ بنا رہا ہے۔ اس دوران ان کمپینوں کو نیا کاروبار تو کم ہی ملا تھا اور اس طرح دوسروں کو آگے بڑہنے سے روکنے میں تو وہ کامیاب نہ ہوئے اپنا ہی کاروبار بند کر بیٹھے۔ سرمایہ داری سسٹم میں ریاست کب تک ان کمپنیوں کا سہارا بنی رہتی۔ پچھلی دو تہایئوں سے چین نے امریکہ کی پروا کیے بغیر نیوکلیئر توانائی کی کمپنیوں کو سپورٹ کیا اور دنیا بھر میں اپنے اور اپنے اتحادی ممالک میں پلانٹ لگائے۔ اس سے ایک طرف تو چین دنیا بھر میں اس شعبے کا رہنما بن گیا دوسری طرف دوست ممالک بھی خوش ہوگئے۔ جبکہ امریکہ کی مثال اپنے ہی جال میں صیاد آ گیا کے مترادف دیکھائی دیتی ہے۔ کوریا نے بھی اپنے ابتدائی مراحل میں واشنگٹن ہاؤس سے مدد لینے کے بعد اپنے نیوکلیئر پلانٹ کا ماڈل خود تیار کر لیا۔ اب کوریا بھی اپنے ماڈل کے ۴ پلانٹ دوبئی کے شیخوں کو سپلائی کر رہا ہے۔
کولڈ وار وقت میں ہم نے ایٹم بم تو بنا لیا، لیکن ہماری سوئی ہوئی اور کند ذہن انفرادیت پسند لیڈرشپ قوم کے بڑے اداروں کو بنانے کی پوزیشن میں نہ آ سکی۔ آج اگر پاکستان کی معیشت اچھی ہوتی تو پاکستان اس کمپنی کو خرید سکتا تھا اور ایک شعبے میں اپنا لوہا منوا سکتا تھا۔ تاریخ میں رہنے والی قیادت جو ۱۰صدی کے عرب سانئسدانوں پہ فخر کرنے میں راحت تلاش کرتی ہے، آج کی دنیا سے کہاں سبق سیکھے گی۔ سرمایہ داری نظام کے اندر کیسے فوائد حاصل کیے جاتے ہیں اور ان کو اپنے قومی اور عوامی خوشحالی کے لے کیسے استعمام میں لایا جا سکتا تھا، کوریا یا چین کی لیڈرپ ہی اس کو سمجھ پائی ہے۔
اس سارے عمل سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے:
– دنیا میں لامتناہی وقت تک کسی ایک گروپ کی اجارہ داری نہیں چلتی۔
– جو محنت اور مسلسل محنت کرتا ہے وہ ہی اور اس کے بچے ہی آگے جاتے ہیں۔
– آپ کمزور ہیں تو طاقتور سے سیکھیں اور مسلسل محنت کریں، غالب آ جایئں گے۔
– نیت کی خراب طاقتور قوم اپنی پالیسوں کی بدولت مار کھا سکتی ہے، عقل کل کہیں نہیں ہے۔
– سوئی ہوئی قومیں کبھی نہیں سیکھ سکتی بےشک طاقتور ہو یا نہ ہو۔
– عربوں کا۱۲ صدی کا زوال ایک فطری عمل تھا ہمارے سماج کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور آج ان کو برا بھلا کہنے کی بجائے موجودہ دور میں محنت کرے تو آگے جا سکتا ہے۔