چین کا ترقیاتی ماڈل شائد کچھ لوگوں کو الجھا دے، یا مشکل لگے، لیکن اس کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
چین ایک کمیونسٹ نظریہ پہ متحد، ایک پارٹی سسٹم کے حامل منظم ملک کے طور پہ ابھرا تھا۔ چینی معاشرے کو مخلص اور محنتی قیادت ملی جس کو دیکھ کر وہاں کی عوام بھی فرماں بردار اور لیڈرشپ کی اطاعت گزار بن گئی۔ لیڈرشپ کے دل میں عوام کی محبت تھی لیکن عملی نظام بنانے میں جو ناکامیاں آئیں، اس کے بعد عوام نے قیادت پہ انگلیاں نہیں اٹھائیں، بلکہ قیادت نے جو نیا منصوبہ دیا اس پہ عمل کیا۔ ۱۹۴۹ء میں زرعی اصلاحات کے بعد بھی ملک خوشحال نہیں ہوا تو انہوں نے اپنے بنیادی نظریات میں تبدیلیاں کی اور ۱۹۷۵ میں عالمی حالات کے پیش نظر نیا سسٹم لائے۔ اس نئے منصوبے میں چینی قیادت نے متفقہ طور پہ درج ذیل اقدامات کیے۔
-مینجرز اور منصوبہ سازوں کو اختیارات دئیے اور طاقت دی۔
-ورکرز کو زیادہ معاشی فوائد دیئے۔
-تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کو اپنی مادری زبان میں حاصل کرنے پہ زور دیا۔
-بیرونی تجارت کو بڑہایا۔
ملک میں پلانٹ، روڈ اور تعمیرات کے وہ منصوبے شروع کئے جن کے ٹھیکے لینے کے لیے بین الاقوامی کمپنیاں چین میں آئیں اور اپنے ساتھ ٹکنالوجی بھی لائیں۔
– اپنے سماج کو پرامن بنایا۔
ان بنیادی منصوبوں کو بنانے کے بعد پلانرز اور قیادت سوئی نہیں، بلکہ محنت کو جاری رکھا، اور نہ ہی پاکستان اور انڈیا کی طرح نئی حکومت نے آ کر ان پرانے منصوبوں کو ختم کیا۔ ان منصوبوں پہ مسلسل عمل پیرا ہونے سے پوری دنیا میں چین کی اچھی شہرت بن گئی۔ پھر، پیسہ پیسہ کو کھینچتا ہے، کے پرانے اصول پہ سارے گورے سرمئی چائینہ جانے لگے۔
اس دوران کیا امریکہ نے چین کی ٹانگیں نہیں کھینچیں؟
ضرور کھینچیں، حسد اور بین الاقوامی قیادت کا جنون جو امریکہ کو ہے، وہ کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتا ہے۔ لیکن چینی قیادت نے اپنی خود داری اور عقل کا استعمال نہیں چھوڑا۔ اس دوران آنے والے سارے پراپیگینڈے کو رد کیا اور اپنے عوام کا اعتماد کھونے نہیں دیا۔ امریکہ اور اتحادی زبردستی کام کروانے کا طعنہ دیتے رہے، چین نے پروا نہیں کی، اور نہ امریکہ کو ختم کرنے کے لیے مسلمان رہبروں کی طرح بڑھکیں ماریں، نہ ہی امریکہ کی بین الاقوامی قیادت کو چیلنج کیا۔ اس طرح اپنے سے طاقتور دشمن کو ایک حد سے زیادہ اشتعال نہیں دیا اور دشمن ایک حد کے اندر رہا۔
اس سارے عمل سے جو سبق ملا ہے وہ درج ذیل ہے۔
۱۔ سماج کی ترقی کے لیے ثانوی نظریات تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں، جو تبدیلی نہیں کرتا وہ ختم ہو جاتا ہے، سووئیت یونین کی پارٹی ختم ہو گئی لیکن چین کی پارٹی موجود ہے، وہ بھی عوام کے اعتماد کے ساتھ۔
۲۔ ملک کا معاشی ڈھانچہ مسلسل تبدیل کرتے رہنا چاہئے، لیکن بین الاقوامی حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد۔ دو قومی نظریہ والوں کو اس عمل سے سبق سیکھنا چاہے۔
۳۔ قیادت کا اخلاص اور عوام سے محبت ہی ترقی کو عوامی سطح تک لے جاتی ہے۔
۴۔ رجعت پسند بائیں بازو اور رجعت پسند مذہبی ٹولہ حالات کے حساب سے تبدیل نہیں ہوتا اور زمانہ ان کے نظریات کی وجہ سے قوم کو کچل دیتا ہے۔
۵۔ قوم اور لوگ اصل ہیں، کوئی حکمت عملی اصل نہیں ہوتی ۔ لوگوں کے فائدے کے لیے ثانوی نظریات اور حکمت عملی تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ۵ صدی کی شریعت کے ساتھ چپکا ہوا مذہبی ٹولہ اور ۱۹۱۸ میں رہنے والہ کمیونسٹ ٹولہ، خود کو دوبارہ منظم کرے ورنہ اپنے فاسد نظریات سے قوم کے ذہن کو آلودہ مت کرے۔
۶۔ سانئس اور ٹکنالوجی کسی خاص قوم کی جاگیر نہیں، کام کرنے والی اقوام ہی کی میراث ہے، مناسب منصوبہ بندی سے قوم سائنس کے شعبے میں آگے اس وقت جاتی ہے، جب قومی معیشت اور سماج ترقی کرتا ہے۔