شام کے ایشو پر جس طرح باقی صحافیوں، دانش وروں نے اپنی رائے پیش کی تھی میں نے بھی کچھ دوستوں کے بار بار اصرار پر چند جملے عرض کئے تھے ۔ پھر کیا تھا بس اہل ایمان نے میری ایسی خبر لی کہ کئ دنوں تلک تلخ ذائقہ کا احساس رہا۔
چلیے پہلے تمہیں یاد دلاتا ہوں کہ میں نے کسی خفیہ خبر کا حوالہ دے کر کیا لکھا تھا۔۔
” امریکی فوج کے سربراہ نے شام کے حوالے سے پانچ نکاتی عسکری طریقہ کار وضع کرلیا ہے۔ شام میں فوجی مداخلت پر اربوں ڈالر خرچ ہوں گے۔ امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی نے شام میں فوجی مداخلت کیلئے پانچ تجاویز پیش کی ہیں جن میں شامی باغیوں کو اسلحہ چلانے کی تربیت دینا، انہیں مشورہ اور ا ن کی مدد کرنا، شام میں محدود پیمانے پر فضائی حملے کرنا، شام کی فضائی حدود میں ہوائی جہازوں کی پروازوں پر پابندی عائد یعنی نو فلائی زون قائم کرنا، شام کے اندر غیرجانبدار محفوظ مقامات قائم کرنا اور شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں پر قابو پانا شامل ہیں۔ تاہم جنرل ڈیمپسی نے خبردار کیا کہ شام میں فوجی مداخلت سے قبل امریکا کو عراق اور افغانستان جنگ سے سبق سیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شام کے خلاف اس کارروائی پر اربوں ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں۔ جنرل ڈیمپسی نے امریکی سینیٹرز کے نام خط میں شام میں امریکی فوجی مداخلت کے حوالے سے تجاویز سے کانگریس کو آگاہ کردیا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کو افغانستان اور عراق میں براہ راست مداخلت سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ایک ایسے ملک کیلئے جو پہلے سے افغانستان اور عراق میں ایک طویل جنگ میں مصروف ہے شام میں فوجی مداخلت خطرناک ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں حملے کے بعد ہمیں اس کے بعد آنے والے حالات کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا پڑے گا۔
امریکہ نے شام میں دہشت گردوں کو بشار اسد کی حکومت کے خلاف کھڑا کیا اور اس کے اس گھناؤنے کھیل میں ترکی اردن سعودی عرب اور قطر سمیت بہت سے پٹھو ممالک اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ شام میں دہشت گردی کا بازار گرم کرنے کے بعد اس نے باقی دنیا خاص طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کو شام بھیجنا شروع کر دیا ہے اور اس وقت پوری دنیا سے امریکہ کے حمایت یافتہ دہشت گرد شام میں بشار اسد کی حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں اور امریکہ اور اس کے حواری انہیں ہر قسم کی مدد فراہم کررہے ہیں ۔۔
بس میرا یہ کہنا تھا کہ مجھ سے اہل ایمان اہل جمعیت وجماعت سبہی ناراض ہوئے کہ جناب ہم تو تمہیں اپنا سمجھ رہے تھے اور یوں کئ احباب نے سوشل میڈیا پر اپنی راہیں الگ کرلیں۔۔
آج امریکہ شام کے بارے میں بھی وہی کھیل کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے جو اس نے عراق کے بارے میں کھیلا تھا۔ عراق پر اس نے مہلک ہتھیار رکھنے کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا۔ اور اسی الزام کو بنیاد بنا کر اس نے عراق پر لشکرکشی کی یہ الزام بعد میں جھوٹا ثابت ہوا اور خود اس وقت کے امریکی وزیر کولن پاول نے اس کا اعتراف کیا۔ آج بھی شام کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ ا س کے پاس کیمیاوی ہتھیار موجود ہیں جو اس نے شامی عوام کے خلاف استعمال کیے ہیں۔ جبکہ خود اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ شام میں کیمیاوی ہتھیار دہشت گردوں نے استعمال کیے ہیں شامی حکومت نے نہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ شام میں سرگرم دہشت گردوں کے پاس کیمیاوی ہتھیار کہاں سے آئے؟ اس کا سوال کا جواب بالکل واضح ہے کہ جو دہشت گردوں کو ہتھیار اور دیگر وسائل فراہم کر رہا ہے اسی نے انہیں کیمیاوی ہتھیار بھی فراہم کیے اور ان ہتھیاروں کو ان دہشت گردوں نے شام میں نہتے عوام کے خلاف استعمال بھی کیا ہے۔ امریکہ اس اقدام سے کے ذریعے ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتا ہے ایک تو وہ شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کے ذریعے قتل و غارتگری کا بازار گرم کرنا چاہتا ہے اور دوسری طرف وہ انہی ہتھیاروں کو بہانہ بنا کر شام پر چڑھائی کرنا چاہتا ہے ۔
دوسری طرف جب میں سوشل میڈیا پر اپنے ادھ پڑھے پاکستانی اہل ایمان کا بشار الاسد کے خلاف ہرزہ سرائ ملاحظہ کرتا ہوں تو پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے دور دور تک مایوس ہوجاتا ہے۔۔
مسئلہ یہ نہیں کہ بشار خود کیا ہے مجھے اس کی ذات سے بھلا کیا دلچسپی ہوسکتی ہے ، تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اس پوری صورت حال کو مذہب کے تناظر میں کیوں دیکھا جارہا ہے۔ کیا ہمیں مذہب کے سامراجی استعمال کے باب میں آج بھی کوئ سبق حاصل نہیں ہوا۔۔!
مجھے اسد جٹ سے اتفاق ہے کہ ۔۔۔۔
بشار الاسد کوئی فرشتہ نہیں اور نہ ہی اُس کی حمایت ضروری ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عرب کی باقی ساری ریاستوں میں جمہوریت ہے اور وہاں کے عوام کو تمام جمہوری حقوق مل رہے ہیں؟اور کیا مشرق وسطٰی میں بشار الاسد ہی واحد آمر اور ڈکٹیٹر ہے؟ باقی سارے عرب ممالک جمہوریت پسند اور عوام کے خادم ہیں؟ باقی تمام عرب ممالک میں حقیقی جمہوریت رائج ہے؟
بشار الاسد کو اقتدار میں آئے ہوئے پورے سولہ سال ہو گئے ہیں، اُسے سولہ سال بعد یاد آیا کہ میں نے سُنیوں کو مارنا ہے؟ اُس سے پہلے 29 سال اُس کے باپ کی حکومت رہی، اُسے بھی یاد نہیں رہا کہ سُنیوں کو مارنا ہے؟ آج بشار الاسد کو اچانک یاد آیا کہ میں نے ملک سے سُنیوں کا خاتمہ کرنا ہے؟
یہ بات خاص طور پر قابل غور ہے کہ شام کی تقریباً 75٪ آبادی سُنی افراد پر مشتمل ہے اور شام کی فوج میں 70٪ سُنی ہیں۔ 75٪ سُنی شامی مسلمانوں کو 10٪ شیعہ کس طرح مار سکتے ہیں؟
سُنی بشارالاسد کے خلاف کیوں نہیں اُٹھتے؟ اس کے پیچھے ایک بہت بڑی وجہ ہے اور وہ یہ کہ وہ سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ کی پیداوار داعش کی حقیقت سے واقف ہیں۔ یہ داعش ہی تھی جس نے شام میں سُنی شافعی امام الشیخ محمد سعيد رمضان البوطي کو بم دھماکے میں شہید کر دیا تھا۔ اُس وقت حلب کا رونا رونے والوں کو سُنیوں کا درد کیوں محسوس نہیں ہوا؟
اُس وقت کہاں تھے سُنیت اور اسلام کے یہ نام نہاد ٹھیکے دار اور محافظ؟ جب داعش شام اور عراق میں اہلسنت کے اماموں کو چُن چن کر مار رہی تھی اس وقت تو کسی نے سنیوں کے حق میں آواز بلند نہیں کی۔ ان لوگوں کو ان شامی بچوں سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ ان لوگوں کو دُکھ ہے کہ داعش حلب میں ہار گئی ہے۔ اور آگے بھی نوشتہ دیوار سامنے ہے۔ جو بچے داعش نے مارے اُن پر ان لوگوں کی آنکھوں سے آنسو کیوں جاری نہیں ہوتے؟ اگر بچوں کے مرنے کا واقعی دُکھ ہوتا تو یمن کے بچوں کی تصویریں بھی پھیلاتے اور سعودیوں کو گالیاں نکالتے۔ انِ یمنی بچوں کی تصویروں کو دیکھ کر بھی ان کے ویسے ہی آنسو بہتے جیسے اب مگرمچھ کی طرح آنسو بہا رہے ہیں۔ لیکں ایسا ممکن نہیں کیونکہ یمن میں مارے جانے والے بچے بشار الاسد نہیں بلکہ سعودی عرب مار رہا ہے۔
اگر سعودی عرب یمن میں با گناہ انسانوں، جنازوں اور معصوم بچوں پر بمباری کرے تو وہ تو جائز اور حلال ہے اور اگر بشار الاسد داعش جیسے درندوں سے اپنی عوام کو آذاد کرانا چاہے تو ان معصوم بچوں کو ڈھال بنا کر ان کے دل میں انسانیت کا درد جاگ جاتا ہے؟
یہاں پاکستان میں ماڈل ٹاؤن سے لے کر ھزارہ، کوئٹہ، گلگت اور کراچی تک بچوں، عورتوں، بزرگوں اور جوانوں کا خون بہایا گیا، کیا کسی نے اس وقت ان بے گناہوں کے حق میں آواز اُٹھائی؟ کسی نے پاکستان کے معصوم بچوں کے درد میں آنسو بہائے؟ نہیں ، کیوں کہ اسے امریکہ اور سعودیہ نے ظلم نہیں کہا اس لئے یہ معمول کے واقعات ٹھہرے۔۔
یہاں امریکہ میں ٹرمپ برسر اقتدار آیا تو پاکستانی ” دانے شوروں” نے بڑا غم و غصے کا اظہار کیا کہ یہ بندہ مسلمانوں کے خلاف ہے، سب سے بڑا کافر ہے لیکن بات جب عمل کی آتی ہے تو فکر و عمل کے تضاد اور گمراہی کی انتہا تو ملاحظہ کیجئے کہ وہی لوگ ٹرمپ کے بشار الاسد کے خلاف جنگ کے معاملے میں ان کے اقدام پر بغلیں بجا رہے ہیں۔۔
آپ اک سادہ منطق پر غور کیجئے کہ جب پاکستان میں طالبانی ٹولے نے سر اٹھایا تو پاکستانی عوام کو ان سے دلچسپی تھی۔ اور ہونی بھی چاھیے تھی کہ پاکستان کا ظالمانہ جھوٹا اور فرسودہ نظام کسی بھی طور پر قائم رہنے کے قابل نہیں ہے ۔ لیکن کیا طالبانی ٹولہ اس مسئلے کا حل ہوسکتا تھا، کبھی نہیں ۔ اور پھر انہوں نے جو گل کھلائے وہ سب ہمارے سامنے ہے۔ خون کی اک بھاری قیمت چکانے کے بعد آرمی نے تیر وتفنگ سنبھالے اور اس ناسور کو منطقی انجام کا راستہ دکھایا ایسے میں سوات، وزیرستان،با جوڑ اور دیگر کئ جگہوں پر بمباری کے نتیجے میں بے گناہ لوگ بھی مارے گئے، جس کا سب کو دکھ رہا۔ لیکن اب ایسے میں اگر بھارت حملہ آور ہو کہ بھائ پاکستان بے گناہ لوگوں پر بمباری کررہا ہے اس لئے ہم حملہ آور ہوئے تو یہ کتنا قرین انصاف ہوگا۔۔! کیا شام کی مثال بھی یہی نہیں ہے۔ آپ ہی بتائیں اگر شام امریکی جہاد کے ردعمل میں دفاعا تیر وکمان سنبھالے اور فرض کیجئے کچھ بے گناہ لوگ کام بھی آتے ہیں تو کیا کفر لازم آتا ہے ، کیا حملہ آور ٹولے کے ہاتھ میں پھول اور ریشم ہیں۔۔؟ نہیں تو پھر ہم یہ سمجھ لیں کہ خیر یہ سعودی اور امریکی ٹولہ لیبیا اور عراق کی طرح شام کو بھی ہڑپ کر جائے اور بشار کوئ ردعمل ظاہر نہ کرے۔۔۔ ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیئے ۔
المیے کا دوسرا رخ ملاحظہ کیجئے کہ عین اس موقع پر جب شام پر امریکہ بہادر عربی خطبوں وفتووں کا سہارا لے کر آگ برسا رہا ہے وطن عزیز میں ” اسلام اسلام” کا بین الاقوامی ڈرامہ کھیلا جارہا ہے۔۔
جس میں اہل اسلام کے ان موٹے قاف والوں نے بھی جبے قبے زیب تن کرکے خطابت کے جوھر دکھائے جنہیں اپنے وطن میں ” سیاست ” کے لفظ پر بھی غائب کردیا جاتا ہے۔۔
یہاں آکر وہ ہمیں جمہوریت کی پٹی پڑھارہے ہیں جب کہ اپنے ہاں وہ اکیسویں صدی میں بھی بادشاہت کے رٹے رٹائے خطبوں سے آگے نہیں بڑھے۔۔۔
یہاں آکر وہ ہمیں عدل و انصاف کا قاعدہ پڑھا رہے ہیں اور اپنے ہاں عرب اور عجم کے لئے ” وطنی اور خارجی” کے نام سےعملا الگ الگ قانون جاری کئے ہوئے ہیں ۔۔۔۔
یہاں آکر وہ ہمیں انسانی حقوق کا چارٹر سمجھا رہے ہیں اور اپنے ہاں دنیا بھر کے مزدوروں کے پانچ پانچ مہینے کی تنخواہیں روکے ہوئے ہیں۔۔۔
یہاں آکر وہ ہمیں توحید رب کا درس دے رہے ہیں اور اپنے ہاں لاکھوں ارباب پال کر دنیا بھر کے مزدوروں کی تقدیر کا حوالہ بنائے بیٹھے ہیں۔۔۔
“چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی۔۔۔”
جب میں اپنے اہل وطن کو سیاست کے ان خدی خوانوں کے سامنے بنی اسرائیل کی طرح دیدے پھاڑ اوربا چھیں کھول کر مسحور بیٹھے دیکھتا ہوں تو اپنی اجتماعی ذلت و غربت کا سارا فلسفہ سامنے آجاتا ہے۔۔۔!
رہے نام اللہ کا۔۔۔۔!!!