اسلام آباد ایرپورٹ سے کراچی کیلئے جہاز میں بیٹھا تو میرے سامنے والی نشست پربراجمان تھا۔ ہوائی جہاز جیسے ہی اُڑا، میرے سامنے والی نشست پر بیٹھی پندرہ سولہ لڑکی نے رونا اور چلانا شروع کردیا۔ اس کے ساتھ اس کی فیملی کے پانچ مزید ارکان والدہ، والد، بھائی، ماموں، ماموں زاد موجود تھے۔ وہ لڑکی چلاتے ہوئے کہہ رہی تھی، مجھے گاڑی سے کراچی جانا ہے، میں نے ہوائی جہاز میں نہیں بیٹھنا۔
جیسے جیسے جہاز اُڑان لے رہا تھا، ویسے ویسے وہ لڑکی کھڑکی طرف دیکھ کر اپنی آواز بلند کررہی تھی۔ لڑکی نے پورا جہاز سر پہ اٹھا رکھا تھا۔ اس کا ماموں جو اس کے برابر والی نشست پر بیٹھا تھا، اسے ڈانٹنے لگا۔ باقی رشتے دار اس پر متوجہ تھے اور اپنے تئیں اسے نصیحت کررہے تھے کہ کچھ نہیں ہے۔ ماموں چونکہ برابر ہی میں تھا، اس لیے وہ اپنی بھانجی کو زیادہ ڈانٹ رہا تھا اور اپنئے تئیں جو نصیحت بھی بن پڑسکتی تھی، کررہا تھا۔ تقریباً تین سے پانچ منٹ یہ حالت رہی تو مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں نے ماموں سے کہا کہ یہ بچی Acrophobia (بلندی کا خوف) میں مبتلا ہے۔ اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں اس کا یہ خوف دور کردوں۔
ماموں نے میرا ظاہری حلیہ دیکھ کر مجھ سے پوچھا، کیا آپ کوئی وظیفہ پڑھیں گے؟
میں نے عرض کیا، نہیں… میں مائنڈ تھیراپسٹ ہوں۔ میں اس کا خوف مائنڈتھیراپی کے ذریعے دور کروں گا۔
ماموں نے اپنی بہن (لڑکی کی والدہ) کی طرف دیکھا جنھوں نے اثبات میں نظر ہلائی تو ماموں اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری نشست پر چلے گئے اور میں اُن کی نشست پر آگیا۔ اب میں اس بچی کے برابر والی نشست پر تھا اور وہ لڑکی مسلسل چیخے جارہی تھی، روئے جارہی تھی۔
میں نے اس لڑکی سے پوچھا کہ کیا وہ اس کیفیت سے نکلنا چاہتی ہے؟ کیا وہ اس خوف کو دور کرنا چاہتی ہے؟ لڑکی نے ہاں میں جواب دیا۔ میں نے اس لڑکی سے کہا کہ میں اسے جیسا کہوں،وہ ویسا ہی کرے۔ پھر میں نے اسے مائنڈ تھیراپی کی ایک مشق کرائی اور اگلے تین سے چار منٹ میں اس لڑکی کا ایکروفوبیا غائب ہوچکا تھا اور وہ بالکل سکون سے اپنی نشست پر بیٹھی تھی۔ اب جہاز خاصی بلندی پر جاچکا تھا۔
مطالعات کے مطابق، دس فی صد افراد کو بلندی کا خوف ہوتا ہے۔ یہ خوف ان لوگوں کی کامیابی اور ترقی میں بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے کہ جنھیں اکثر ہوائی جہاز پر سفر کرنا ہوتا ہے۔ جو مشق میں نے اس لڑکی کا ایکروفوبیا دورکرنے کیلئے ہوائی جہاز میں کرائی، آپ جاننا چاہیں گے کہ وہ مشق کیا ہے۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ ہوائی جہاز کا خوف یا کوئی بھی بلندی کا خوف ایک ایسا ذہنی مسئلہ ہے جسے آپ بلا دوا حل کرسکتے ہیں اور مائنڈسائنس میں اس کیلئے بہت ہی موثر اوزار موجود ہیں۔ میرے پاس جو افراد ایکروفوبیا خاص کر ہوائی جہاز کے خوف کے علاج کیلئے آتے ہیں، میں انھیں عموماً درج ذیل مشق کراتا ہوں۔ یہ مشق اگرچہ ہوائی جہازکے سفر میں بلندی سے متعلق ہے، لیکن اگر آپ کسی اور شے کی بلندی سے خوف زدہ ہیں تب بھی یہ مشق اتنی ہی موثر ہے۔ آئیے، میں آپ کو وہ مشق بتاتا ہوں۔
کسی جگہ تنہائی میں اطمینان سے بیٹھ جائیے کہ جہاں آپ کو تنگ کرنے والا، بلانے والا کوئی نہ ہو۔ بہتر ہے، کم از کم اگلے پندرہ منٹ آپ کی کوئی مصروفیت نہ ہو۔ اب کرسی پر بیٹھ جائیے۔ کرسی ہتھے والی ہو تو بہتر ہے۔ کرسی پر اس انداز سے بیٹھئے کہ آپ کے دونوں ہاتھ کرسی کے ہتھے پر ہوں۔ دونوں پیر فرش پر ٹکے ہوں۔ پیروں میں جوتے نہ ہوں، یعنی ننگے پیر ہوں۔ اب آنکھیں بند کرلیجیے اور نارمل رفتار سے سانس لیجیے اور اپنی توجہ تمام مصروفیات پر سے ہٹا کر صرف سانس پر لے آئیے۔
پہلا مرحلہ ۔ یاد کیجیے کہ آپ کب آخری بار کب ہوائی جہاز میں بیٹھے تھے۔ اگر یاد نہ آئے تو اپنا شیڈیول دیکھ لیجیے تاکہ تاریخ کا پتا چل جائے۔ تصور کیجیے (imagine) کہ آپ ہوائی جہاز میں بیٹھے ہیں۔ آپ جب یہ تصورکریں گے تو آپ کو وہ سفر یاد آجائے گا۔ آپ کو جب ہوائی جہاز کا سفر یاد آئے گا تو آپ کے ذہن میں ایک خاکہ (تصویر یعنی امیج) بنے گا۔
یہ خاکہ ایک ساکت تصویر بھی ہوسکتا ہے کہ جیسے still cameraسے فوٹو کھینچی جاتی ہے یا مووی کی طرح بھی ہوسکتا ہے کہ جس میں ایک تصویر بدستور نہیں ہوگی، بلکہ مختلف تصویریں چل رہی ہوں گی۔یہ خاکہ کیسا ہے … ساکت یا متحرک؟
اس تصویر میں اس بات کا امکان ننانوے اعشاریہ نو فیصدی ہے کہ آپ خود کو تصویر کے اندر دیکھ رہے ہوں۔
دوسرا مرحلہ ۔ اب اپنے ذہن میں موجود تصویر پر توجہ کرتے ہوئے اس میں بعض تبدیلیاں لائیے۔ پہلے یہ تصور کیجیے کہ یہ تصویر جو آپ اس وقت اپنے ذہن میں دیکھ رہے ہیں، دراصل آپ خود اس تصویر کے اندر نہیں، بلکہ آپ ایک مووی یا فلم دیکھ رہے ہیں جس میں یہ منظر ہے کہ ایک شخص (جو آپ نہیں، کوئی فلمی اداکار ہے) ہوائی جہاز میں بیٹھا ہوا ہے، ہوائی جہاز اُڑ رہا ہے اور اس ہوائی جہاز کے بلندی پر ہونے کی وجہ سے خوف زدہ ہے۔ یہ ایسا ہی ایک فلمی منظر ہے جیسے آپ کوئی ڈراؤنی فلم دیکھتے ہیں، ایسے ہی سسپنس سے بھرپور یہ فلمی منظر دیکھ رہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ فلم حقیقت نہیں ہوتی، بلکہ ڈراؤنے اور مار دھاڑ سے بھرپور مناظر دیکھتے ہوئے آپ ان سے لطف لیتے ہیں۔
تیسرا مرحلہ ۔ تصور کیجیے کہ آپ نے یہ پوری فلم دیکھ لی ہے۔ جس اسکرین پر ہوائی جہاز والا منظر تھا، اس وقت وہاں The End کا لفظ لکھا ہوا نظر آرہا ہے۔ آپ یہ لفظ ددیکھ رہے ہیں اور وہاں سے اٹھنے کیلئے پر تول رہے ہیں، کیوں کہ اب آپ کو کسی ضروری کام سے کہیں اور نکلنا ہے۔
پہلے مرحلے میں جب آپ اپنی توجہ ذہن میں بننے والے امیج پر دیتے ہیں تو آپ جتنی دیر اس پر توجہ رکھیں گے، ہوائی سفر کا خوف کا احساس آپ کے اندر دوبارہ آجائے گا۔ یہ اس لیے ہوا کہ آپ کے ساتھ جو واقعہ ہوا، اس کے ساتھ ایک احساس مربوط (associated) ہے۔ جب آپ نے وہ واقعہ یاد کیا تو اس سے مربوط وہ احساس یا جذباتی کیفیت (Emotional State) بھی آپ کے اندر آگئی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے ساتھ حقیقتاً باہر کی دنیا میں (Outer/Physical World) کیا ہورہا ہے۔ آپ کے ذہن میں جو خیال ہے، آپ کیلئے وہی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ (اس پر کسی اور قسط میں تفصیلی بات کریں گے۔)
دوسری مرحلے میں جو تصور کیا، اس سے آپ کی جذباتی کیفیت میں واضح تبدیلی ہوگی جسے آپ اسی وقت نوٹ بھی کرسکتے ہیں۔ تیسرے مرحلے میں جب آپ اپنے ذہن میں اسکرین پر The Endکا تصور کریں گے تو اِن شاء اللہ تعالیٰ ہوائی جہاز (یا کسی بھی بلندی) کے سفر کا خوف ختم ہوچکا ہوگا۔
یہ مشق جدید ترین مائنڈ ٹکنالوجی کی ایک مشہورِ زمانہ ٹیکنیک ’’این ایل پی‘‘ میں استعمال کی جاتی ہے۔ این ایل پی میں اس قسم کے بہت سے اوزار ہیں جنھیں استعمال کرکے آپ اپنے بیشتر جذباتی اور نفسیاتی مسائل کو صرف تین سے تیس منٹ میں حل کرسکتے ہیں کہ جو روایتی سی بی ٹی یعنی Cognitive Behavior Therapy سے چار سے چھے ماہ بھی بہ مشکل حل ہوتے ہیں۔ آپ اگر اس جادو اثر اور تیز ترین مائنڈ ٹکنالوجی کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو ذیل میں اپنے کمنٹس ضرور دیجیے۔