جمعیت علماء اسلام کے صدسالہ یادگاری اجتماع میں سعودی عرب کی نمائندگی اور جمعیت علماء اسلام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دوشخصیات تشریف لائیں ایک شیخ محمد صالح بن ابراہیم جو امام کعبہ جیسے وقیع منصب پرفائز ہیں اور دوسرے صالح بن عبدالعزیز جو وزیر برائے مذہبی امور ہیں. گویا سعودی حکومت طرف سے مولانا فضل الرحمن کی تائید اور حمایت دو صالح اسم بامسمی فرمارہے ہیں اور جماعت اسلامی بھی اجتماع میں خیر سگالی کے طور پر شامل ہوئی اور مولانا مودودی کے ہاں معاشرے میں حکومت کا حق صرف “صالحین” کو حاصل ہے اور وہ شرط یہاں وقتی طور پر پائی جارہی ہے کہ دو صالحین موجود ہیں.
جمعیت علمائے اسلام آج کل جس جمعیت علماء ھند کا نام بڑے تسلسل سے استعمال کررہی ہے انہوں نے مولانا مودودی کے نظریہ حکومت( جسے وہ حکومت الھیہ اور صالحین کی حکومت سے تعبیر کرتے تھے)کو نہ صرف رد کردیا تھا بلکہ اسے اسلام کے لبادے میں سرمایہ دارانہ طرز فکر کی نمائندگی قرار دیا تھا ۔ جمعیت علمائے ھند کے خیال میں مولانا مودودی مسلم اشرافیہ جو سرمایہ داروں اور مذہبی اجارہ داروں پر مشتمل ہوتی ہے کی حکومت چاہتے تھے. اس بحث کو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں اور امام کعبہ جو سعودی اشرافیہ کی نمائندگی کررہے ہیں ان کی طرف آتے ہیں. انہوں نے اجتماع میں جمعہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے دھشت گردی کی سخت لفظوں میں مذمت کی تھی اور اسلام کے پیغام امن کو خوب اجاگر کیاتھا لیکن دہشت گردی میں سعودی عرب کے کرداراور سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ کے اتحادی ہونے کے سبب پوری مسلم امہ کو جہاد کے نام پر دھشت گردی کے راستے پر ڈالنے کے سعودی کردار پر ان سے کوئی جملہ صادر نہ ہوا. حالانکہ ماضی قریب میں افغانستان میں امریکی اور مسلم دنیا کی لیڈر شپ سعودی کوششوں کے سبب ہی ایک پیج پر تھی اور اس خانہ جنگی نے مسلم دنیا کے لیے لاتعداد مسائل کھڑے کئے تھے آج بھی امریکی سامراج اور مسلم دنیا ایک پیچ پر کھڑی تاریخ کا مونہہ چڑا رہی ہے اس کی عملی مثال شام کے مسئلے پر دیکھی جاسکتی ہے صرف جگہ اور وقت تبدیل ہوا ہے باقی کچھ وہی ہورہا ہے نہ جانے ہمارے صالحین کس دھشت گردی کے خلاف بات کررہے ہیں حالانکہ پرانی ہی سازشی قوتیں نئی ماچس کے بجائے لکڑی سے اسی پرانی آگ سے نیا الاؤ جلانے کی کوشش کر رہے ہیں.
. اس وقت مسلم دنیا بری طرح تقسیم کا شکار ہے اوردوسرے مذہبی قائدین کی طرح امام کعبہ بھی اس تقسیم کا شکار ہوکر باقاعدہ ایک دھڑے کا حصہ ہیں جبھی تو امام کعبہ کی شام پر امریکی اتحاد کے حملے کے نتیجے میں 204 انسانی ہلاکتوں جن میں 32 بچوں اور 34 خواتین کی ہلاکت پر خاموشی معنی خیز ہے جب کہ دوسری طرف خود امریکی عوام اس موقع پر اپنی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں.
امام کعبہ خون مسلم کی حرمت کے سچ کو عراق اور لیبیا میں خون مسلم کی ارزانی کے وقت کس کے ساتھ کھڑے تھے امریکہ بہادر اور اس کی اتحادی نیٹو نے جب خون مسلم بہایا تھا تو سعودی عرب نے ان کا ہاتھ کیوں نہ پکڑا بلکہ اس سارے عمل کو مسلم امہ خصوصاً سعودی عرب کی طرف سے اخلاقی، قانونی، آئینی اور سفارتی حمایت حاصل تھی.
انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بار بار گہری سازش کا ذکر بڑے تسلسل کے ساتھ کیا ہے مگر انہوں نے سازش کے کسی منبع کی نشاندہی نہیں فرمائی اگر چہ یہ کوئی راکٹ سائنس نہ تھی سازشوں کے مرکز سے ان کی حکومت اور ارباب اقتدار کی گاڑھی چھنتی ہے. اور وہ امریکہ بہادر ہیں جو آج کل پھر سعودی ارباب اختیار کو عالمی سطح پر نئی ابھرتی فرقہ وارانہ لھر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرچکا ہے اور امریکی سامراج مسلم دنیا کو ایک نئی شیعہ سنی جنگ میں دھکیلنے کی سازش میں سر گرم ہے.
امام کعبہ نے فرقہ واریت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور اس کی اسلام میں کسی بھی سطح پر گنجائش کا انکار کیا لیکن خودامام کعبہ کی ایک مخصوص طبقہ فکر سے ملاقاتیں خود ان کے قول و فعل کے تضاد کو ظاہر کرتی ہیں وہ کسی معاصر دینی طبقے کے مدرسے یا ادارے میں تشریف نہیں لے گئے. حالانکہ وہ پاکستان کی فرقہ وارانہ کشیدگی کی جڑوں سے واقف ہیں انہیں مسلمانوں کے مقدس مرکز کا امام ہونے کے ناطے پاکستان کی مذہبی فرقہ وارانہ فضا کو بدلنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا.
امام کعبہ سعودی سیاست میں وہی مقام رکھتے ہیں جومقام ہماری سیاست میں صدر ممنون حسین رکھتے ہیں مسلم ملکوں میں اقتدار پر قابض مسلم اشرافیہ عالمی سامراجی نظاموں کے اتحادی ہونے کے سبب وہی کچھ کرتے ہیں جو ان کے اتحادیوں کا مفاد ہوتا ہے لیکن سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے وہ مذہبی عہدوں اور روایتی نیک لوگوں کو اپنے مفادات کے لیے صرف استعمال کرتے ہیں.