رمضان المبارک میں مختلف چینلز پہ دکھائی جانے والی سحراورافطار ٹرانسمیشن نے ہمار ی تہذیب و اقدارکی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں ۔ سرمایہ دارکسی بھی ملک اور معاشرے کا ہو،اس کی ذہنیت اورسوچ ایک جیسی ہوتی ہے۔ اس کی نظرصرف اور صرف سرمائے پہ ہوتی ہے، وہ اس سرمائے کے ہاتھوں مجبور بھی ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک ارب اس لیئے لگاتا ہے کہ اسے دو ارب نہیں چارارب حاصل ہوں۔ اس مقابلے کا آغازکون کرتا ہے؟ ۔ واضح بات ہے مقابلے کی فضاء وہی سرمایہ داربناتا ہے جس کی پاس زیادہ سرمایہ ہوتا ہے ۔ مارکیٹ میں،وہ اس لئے سرمایہ پھینکتا ہے کہ وہ چھوٹی مچھلیوں کو ہڑپ کرجائے اوراپنے جیسے مگرمچھوں کو بھگا بھگا کر تھکا دے اور تھکا کے ہلکان کر دے ، مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں یا میدان سے بھاگ جائیں اس طرح وہ اکیلا ’’مقدرکا سکندر‘‘ قرار پائے۔ سرمائے کی کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی اور سرمایہ دار سرمائے کے تابع ہوتا ہے۔
میں پاکستان کی سیاست، مذہب اورمیڈیا کی جنگ کو سرمائے کی جنگ خیال کرتا ہوں ۔ سیاست میں اقتدارکی جنگ سرمائے کی جنگ ہے۔ مذہب میں اہل مذہب کی تفرقہ بازی سرمائے کی وجہ سے ہے۔ میڈیا میں ریٹنگ کی جنگ بھی درحقیقت سرمائے کی جنگ ہے۔
سیاست کے ’’پردھان ‘‘اقتدارکی مسند پہ براجمان ہونے کے لئے سرمایہ پانی کی طرح بہاتے ہیں۔اُن کا اختلاف برسرِاقتدار شخص سے یہی ہے کہ اگر سرمائے کی بنیاد پر وہ اقتدار کا حقدار ہو سکتا ہے، ہم کیوں نہیں ہو سکتے؟ اتنا سرمایہ تو ہمارے پاس بھی ہے۔ وہ پروٹوکول ، ہیلی کاپٹرز، سکیورٹی،اعلیٰ رہائش اورمہنگی ترین گاڑیوں کے ذریعے دولت کی نمودونمائش اس لئے کرتے ہیں تاکہ عوام پہ اپنی دولت کی دھاک بٹھاکر کسی طرح اقتدار کی سیڑھیاں چڑھ سکیں۔
ایک سرمایہ دار دوسرے سرمایہ دار کے بارے میں واشگاف الفاظ میں کہتا ہے’’ اسے کوئی سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ وہ اقتداروسطوت کا مالک بنا ہوا ہے ، جتنا سرمایہ اس کے پاس ہے اتنا ہی ہمارے پاس بھی ہے بلکہ اس سے زیادہ ہے‘‘۔
مذہب میں بھی سرمایہ دار کا جھگڑا ہے اس میں بھی سرمایہ دارانہ سوچ رکھنے والے افراد نے مالی اورافرادی قوت کو زیادہ سے زیادہ جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ مالی قوت میں وہ کسی دنیاکے سرمایہ دار سے کم نظر نہیں آتے۔ انہیں بھی اقتدار کی ’’گدگدی‘‘ اس لیئے ہوتی ہے کیونکہ ان کے پاس بھی کافی سرمایہ جمع ہوچکا ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہ ’’مائو زے تنگ‘‘ نہیں ’’امام خمینی‘‘ بننے کے لئے بے چین و بے قرار ہیں۔
پاکستان کے قسمت مارے عوام انہیں تقدس واحترام کا جو مقام دے چکے ہیں اب انہیں اس مقام سے اتارنے کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ اترنا چاہتے ہیں بلکہ اتر چکے ہیں لیکن عوام ہے کہ انہیں کسی اورروپ میں دیکھنے کے لئے تیارہی نہیں ہیں۔ ان کے بارے میں میرا کہنا ہے کہ ان میں تمام سیاسی سرمایہ داروں والی علامات موجود ہیں لیکن بد قسمتی سے انہوں نے یہ سب کچھ ’’اسلام‘‘ کے نام پہ جمع کیا ہے اس لئے وہ ایک نا کام سرمایہ دار ہیں جو اپنے سرمائے کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ ان کے پاس سرمایہ ہے اور افرادی قوت بھی …… کثیر تعلیمی ادارے بھی ان کے کریڈیٹ پہ ہیں لیکن یہ لوگ اقتدار کی نعمت سے محروم ہیں۔ انہوں نے ہر طریقہ اور چال اختیار کی لیکن تاریکیاں ہیں کہ ڈھلنے کا نام ہی نہیں لیتیں۔
تیسرا سرمایہ دارمیڈیا کا سرمایہ دار ہے۔ یورپ کے سرمایہ دار نے عورت کو اجناس کی طرح ایک جنس بنا کر رکھ دیا، اسے اس سے غرض نہیں تھی کہ اس سےعورت نیلام ہوکر بیوی، ماں، بیٹی اوربہن کے مقام سے محروم ہو جائے گی جبکہ یہ سارا کھیل ’’آزادی‘‘ کے نام پہ کھیلا گیا ۔یورپ خاندانی نظام کے حوالے سے جس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے وہ اسی سرمایہ دارانہ سوچ کا نتیجہ ہے۔
پاکستان میں کئی عالمی دن شان وشوکت سے منائے جاتے ہیں ۔ ان کی تشہیر پہ کروڑوں روپے لگا دیئے جاتے ہیں ۔ میڈیا کو اس سےغرض نہیں کہ ان ایّام کے منانے یا ان کی تشہیر سے نوجوان نسل کا اخلاق خراب ہوتا ہے یا مشرقی روایات پامال ہوتی ہیں۔ میڈیا کامقصود و منتہاسرمایہ ہے لہٰذا اس نے اسے حاصل کرنے کے لئے ہرحربہ استعمال کیا اور کرتا ہے۔
رمضان المبارک جیسا مقدس مہینہ بھی اسی ہوس مال وزرکی نذرہو چکا ہے ۔ سب سے پہلے رمضان المبارک کے مہینے کو مذہب کےنام پہ اپنے مزعومہ مقاصد کے لئے ایکEventکی شکل دے دی گئی۔ لوگوں کا وقت،دولت اورصلاحیت اجتماعات کے انعقاد و انصرام کی نذرکر دیاگیا ۔ زائرین کو ظاہری شان و شوکت ، کثیر تعداد اور خطابات کے ذریعے مسحور کیا گیا اور پھر انہیں سیاست کی بھٹی میں جھونک دیا گیا ۔ باقی رہی سہی کسر چینلز نے پوری کر دی کہ انہوں نے نہ صرف لوگوں کو ان کی خلوت و تنہائی سے نکال باہر کیا بلکہ انہیں ما ل وزر، انعامات اورلاٹریوں کی لالچ میں رمضان کے مقاصد سے بھی غافل کر دیا۔ ایک مسلم معاشرے میں سرمایہ داراس سے زیادہ گھنائوناکھیل اورکیا کھیل سکتاتھا کہ اس نے اپنی طرح پورے معاشرے کو مال وزر کی ہوس میں مبتلا کر دیا … وہ بھی ایک بابرکت اور مقدس مہینے میں۔