مشرقی اییشیاء کے تمام صنعتی ممالک جن میں تائیوان، جنوبی کوریا، سنگا پور، چین، جاپان شامل ہیں، لیکن کسی نے بھی صنعتی سماج کی بنیادیں جمہوری دور میں نہیں رکھیں۔ چین کی 1970ء کی اصلاحات نے چین کو صنعتی قوم میں مکمل طور پہ ڈھال دیا۔ سیاسی بے چینی، بغاوت، پارٹی کے اندر کرپشن اور حکومت کے اندر بھی کرپشن کے ہوتے ہوئے چین نے ترقی کی، لیکن ان کی بالائی لیڈرشپ میں ایک جذبہ اور نیک نیتی تھی، ان کے 1997ء کے صدر جیئنگ زیمن نے اعتراف کیا کہ وہ اکژ سو نہیں سکتے تھے۔
جدت کی مغربی تعریف کچھ یوں ہے، معاشرہ صنعتی ترقی کرے، شہری زندگی بڑھ جائے، جمہوریت آ جائے اور گلوبلائزیشن کی طرف مائل ہو جائے جبکہ مروجہ سرمایہ داری نظام اور معاشی رشتے تبدیل نہ ہوں۔
چینی جدت کی تعریف مختلف انداز میں کرتے ہیں، معاشرے میں ہم آہنگی آئے، باہمی فائدہ ہو، اچھے عقائد کا غلبہ ہو، اور معاشرے سے لالچ کم ہو جائے۔
ان دونوں تعریفوں کے اوپر قائم سماج کے اداروں کی سوچ اور اپروچ میں بنیادی فرق تھا۔ مغربی مملالک کا اکثر بین الاقوامی مالیاتی اداروں پہ تسلط تھا جس کی وجہ سے چین نے کچھ تبدیلیاں کی جس کی تفصیل آگے آئے گی۔
چین اور جاپان کی صنعتی ترقی کا موازنہ ایک الگ مضمون میں کیا جائے گا لیکن یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ جاپان میں صنعت اور سماجی تبدیلی پہلے آئی (1850ء کے لگ بھگ) جبکہ جمہوریت 1945ء کے بعد، جبکہ چین میں چار تبدیلیاں ایک ہی وقت میں آئی۔ چین 1840ء میں سماجی تبدیلی اور صنعتی سوچ کو اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں تھا جبکہ مغرب اس وقت جنوبی ایشیاء کو اپنا غلام بنا چکا تھا اور اپنے معاشروں میں صنعتی سوچ کو اختیار کرچکا تھا۔ صعنعتی سوچ کے ساتھ آنے والے معاشی نظام کی چین کے کنفیوژن نظریات سے ٹکراؤ کی وجہ سے چین کو نئی صنعتی سوچ کو اختیار کرنے میں وقت لگا۔
چین میں ایک کہاوت مشہور ہوگئی اگر کسی شخص کو اپنے وجود اور اخلاق میں ایک چیز کو چننا پڑے تو وہ اپنے وجود کو چنے اور اخلاق کو وقتی طور پہ بھول جائے۔ چین نے پہلے صنعتی سوچ کو ٹھکرا دیا جبکہ 1900ء کے بعد جب اس کو جاپان سے شکست ہوئی اور مغربی سامراج اس کے دروازے توڑ کر اندر گھسنے لگا تو اس نے اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے اپنے نظریات کی قربانی دی، پھر بھی مغربی نظریات مکمل طور پہ قبول نہ کیے بلکہ 1949ء میں کمیونزم کا نظریہ اور ریاستی طاقت کے ذریعے تمام کاروباری اداروں کو چلانے کا سٹالن کا سوئیت ڈنھانچہ قبول کر لیا۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ مزید تبدیلیاں کیں اور 1970 ء کے قریب دیہاتوں کو اپنی مرضی سے الیکشن کے ذریعے اپنے نمائندہ چننے کا اختیار دیا۔ چین نے دیہات پہلے کا نعرہ لگایا۔ گھریلو ذمہ داریوں کا نظام بنایا۔ چین میں 90 کروڑ دیہی آبادی اپنے الیکشن کے ذریعے دس لاکھ دیہی کمیٹیاں بناتی ہے۔ دیہی کمیٹیوں نے زرعی معاشرے سے صنعتی معاشرے کا سفر بنانے میں امن و امان کا اہم کردار ادا کیا ہے۔ کسانوں کی چین میں بہت اہمیت ہے کیوںکہ 1920-1949ء کی سیاسی جدوجہد میں کسانوں کا اہم کردار تھا اور بعد میں بھی کسانوں کے اعتماد کو کھونا کمیونسٹ پارٹی کو بہت مہنگا پڑ سکتا تھا اس لیے ان کو جمہوری طریقے کے مطابق اپنے نمائندے چننے کا حق دیا۔ 1950 سے 1979ء تک کسانوں کو ان کی مرضی کے خلاف کام کرنے پہ بھی بسا اوقات مجبور کیا جاتا رہا اور ان میں بے چینی پھیلی اور معاشی ترقی کم ہوگئی۔ اس ممکنہ بے چینی کو دیکھتے ہوئے پارٹی نے کسانوں کو آزادی دی کہ وہ اپنی مرضی سے اصلاحات کریں۔ اس جمہوری نظام کے آنے سے کسانوں کو اپنے مسائل حل کرنے میں آسانی ہوئی اور معاشی ترقی میں اضافہ ہوا۔ (1979-1994ء)
(یاد رکھیں چین کے دیہاتوں کے نمائندے پاکستان کے یوںین کونسل سے زیادہ با اختیار اور فنڈ کو پیدا اور استعمال کرتے ہیں اور وہاں کی لیڈرشپ زیادہ نیک نیت اور عوامی فلاح کے جذبے سے سرشار ہے اور یہاں کے مقابلے میں کرپشن کم اور محنتی زیادہ ہے اور وہاں کے لوکل اداروں کے الیکشن زیادہ منظم اور ریگولر ہیں جس سے ادارے مظبوط ہیں اور مالیات، پانی، اور لوکل انڈسری کے اداروں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں-)۔
چین کی 1970 ء کی اصلاحات کے بعد درج ذیل تبدیلیاں کی گئیں۔
1۔ کسانوں، معاشی اداروں، اور لوکل گورنمنٹ کو مکمل ذمہ دار اور با اختیار بنایا گیا۔
2۔ اداروں کو مرکز سے آزاد کر دیا۔
3۔ ان اصلاحات میں پرائیویٹ معاشی اداروں کی حوصلہ افزائی کی پالیسی اختیار کی، جس کے نتیجے میں حکومتی معاشی اداروں کا حصہ 91.8 فیصد سے کم ہو کر 69.1 فیصد رہ گیا جبکہ یہ 30 فیصد ادارے کل صنعتی پیداوار کا 70 فیصد پیدا کرتے ہیں۔ 1997ء میں صدر جیئنگ زیمن نے نیا معاشی منصوبہ دیا۔ اس وقت چین کی 125000 حکومتی معاشی اداروں کی آمدن کم تھی اور بسا اوقات تنخواہ بھی حکومتی ٹیکس سے دی جاتی تھی۔ زیمن نے ان اداروں کو تدریج پرائیویٹ کیا کیونکہ اس کو خدشہ تھا کہ اگر نئی انتظامیہ نے فیکڑیوں کو منافع بخش بنانے کے لیے ملازمین کو نکال دیا تو نئے سماجی مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ اس تبدیلی کے بعد چین مکمل طور پہ ایک مارکیٹ اکانومی میں تبدیل ہو گیا۔
حوالہ جات
Nyberg, A.; Rozelle, S., Accelerating China’s rural transformation. World Bank Publications: 1999.