چین کے 130.5 ملین دیہاتی دیہی انڈسٹری میں کام کرتے ہیں۔ چین کے دیہاتوں کی کل آبادی کا 40 فیصد انڈسٹری اور 60 فیصد کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ دیہاتوں کی صنعت کل قومی صنعت کا 40 فیصد ہے اور کل برآمدات کا 25 فیصد بنتے ہیں (1996ء کا اعداد و شمار کے حساب سے)۔ دیہی انڈسٹری کی ملکیت کا زیادہ تر حصہ حکومتی تھا جبکہ صرف 28 فیصد پرایئویٹ شعبے کی ملکیت تھا-
چینی ترقی کے ماحول پر اثرات
چین کے دیہاتوں کی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحول بھی متاثر ہوا ہے جس کے نتیجے میں ایسی زمینوں کا رقبہ بڑھ گیا ہے جو کٹاؤسے متاثرہ ہوئی، سیلاب زدہ یا تھور زدہ تھیں۔ البتہ جنگلات کا رقبہ زیادہ متاثر نہیں ہوا۔ کیمیائی کھاد اور ادویات سے دیہاتوں کا پانی آلودہ ہو گیا ہے۔ آلودگی کا اثر معاشیات پر بھی پڑا ہے ایک اندازے کے مطابق 200 بلین یوآن کا نقصان ہے جو کہ جی ڈی پی کا 7 فیصد بنتا ہے۔
دیہی انڈسٹری کل آلودہ پانی کا صرف 10 فیصد پیدا کرتی ہے جس میں 40 فیصد حصہ پیپر انڈسٹری کا ہے۔ زمین کا 10 سے 15 ملین ہیکٹر رقبہ زرعی زہروں سے آلودہ ہے۔ تھور اور نمکیات 7 ملین ہیکٹر زمین کو متاثر کرتا ہے۔ سالانہ 5 ملین ٹن زمین کٹاؤ کا شکار ہوتی ہے۔ چین میں دنیا کے 10 فیصد پودے، میملز، پرندے، رینگنے والے جانور، اور ایمفیبین ہیں، البتہ ان کی تعداد کم ہو رہی ہے اور کچھ سپیشیز کم ہو گئی ہیں۔ البتہ حکومت کی کوششیں جاری ہیں کہ ماحولیاتی آلودگی کم ہو، لیکن بجٹ اور ترجیحات کے مسائل رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔
چین کے آبی وسائل
چین کو پانی کے حساب سے تین حصوں میں تقسم کیا گیا ہے۔ چین کے دریاؤں کے پانی کا کل حجم 2711 بلین کیوبک میٹر ہے۔ جبکہ زیر زمین پانی کا حجم 760 بلین کیوبک میٹر ہے۔ دریا ینگتز کل دریائی پانی کا 80 فیصد رکھتا ہے اور 36 فیصد زراعی زمین سیراب کرتا ہے۔ دریاؤں میں پانی کی مقدار 5 ماہ تک زیادہ ہوتی ہے۔ پانی کے ذرائع کو منظم کرنے کی ذمہ داری ایم- ڈبلیو- آر نامی ادارہ کی ہے۔ جو سات دریاؤں کے پانی کو منظم کرتا ہے۔ اس ادارہ کے ذیلی ادارے کونٹی اور ٹاؤن سطح کے ہیں۔ ٹاؤن کی انتظامیہ کا کام نہروں، دیہاتوں اور قصبوں کے پانی کا انتظام اور مالیات کی وصولی ہے۔ زیر زمین پانی کا انتظام لوکل گورنمنٹ کرتی ہے۔ پانی کے استعمال کو بہتر کرنے کے لیے اکژ علاقوں میں سپرنکلر، ٹریکل اور کم دباؤ والے گیٹ پائپ اور دوسرے آلات کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ کل 96 ملین ہیکٹر رقبہ قابل کاشت تھا۔ آج کل لینڈ لیول ٹکنالوجی کے ذریعے زمین کو ہموار کر کے قابل کاشت رقبہ بڑھایا جا رہا ہے۔
چین کے زرعی تحقیقی ادارے اور ٹیکنالوجی
چین میں زراعت کے کافی ادارے ہیں۔ ان میں سے 50 فیصد کی فنڈنگ حکومت کرتی ہے۔ چین چاول کی تحقیق پہ خاص زور دیتا ہے اور ان کے سانیسدانوں نے چاول کی کئی نئی اقسام بھی بنائی ہیں۔ حکومتی تحقیق کے نتیجے میں چاول کی فصل کی پیداوار میں 1965-1994 کے درمیان 20 فیصد بہتری آئی ہے۔ نویں پانچ سالہ منصوبے کے مطابق زرعی تحقیق پہ کل تحقیقی بجٹ کا 30 فیصد خرچ کرنے کا فیصلہ ہوا تھا لیکن صرف 13-14 فیصد ہی خرچ ہوا۔ اس سارے عرصے کے دوران کل سائینسدانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ تحقیق کے اداروں نے اپنی پراڈکٹس کو بیچنے کے لیے اپنی کمپنیاں شروع کی ہیں۔ چین نے دنیا کے اندر پہلے سے موجود بین الاقوامی تحقیق کے اداروں سے بہت کچھ سیکھا ہے، ان اداروں میں چاول کی تحقیق کا بین الاقوامی ادارہ، مکئی اور گندم کی تحقیق کا ادارہ، آلو کی جنیٹک کا بین الاقوامی ادارہ، فوڈ پالیسی ریسرچ کا ادارہ، پانی کے وسائل کا بین الاقوامی ادارہ شامل ہے۔ چین میں پرائیویئٹ شعبے میں دو کمپنیاں کام کر رہی ہیں، لیکن زیادہ تحقیق حکومتی ادارے ہی کرتے ہیں۔ چین میں فصلوں کی پیداوار یورپ کے مقابلے میں کم ہے۔ زراعت کے پھلاؤ کا قومی ادارہ کسانوں کو جدید ادویات، آلات اور نئی زرعی معلومات دیتا ہےاور اس ادارے کی بدولت زراعت میں جدت اور ترقی آئی ہے۔
حوالہ جات
Nyberg, A.; Rozelle, S., Accelerating China’s rural transformation. World Bank Publications: 1999.