حضور اکرم ﷺ کی 23 سالہ نبوت والی زندگی کے ختم ہونے کے بعد خلفاء راشدین نے تقریباً 30 سال آخری نبی ﷺکی تعلیمات کے مطابق خلافت کے نظام کا اعلیٰ نمونہ پیش کرکے دین اسلام کے قومی انقلاب کے دور کو مکمل کرکے اسلام کے نظام کو جزیرۂ عرب کے باہر تک پہنچایا۔ حضوراکرم ﷺ کے انتقال کے وقت مسلمانوں کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ تھی، خلفاء راشدین کے عہد خلافت میں یہ تعداد کروڑ کو تجاوز کرگئی۔ صرف حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں عراق، ایران، آذربائیجان، آرمینیا، جورجیا، سوریا، اردن، فلسطین، لبنان، مصر، افغانستان اور ترکمانستان کا کچھ حصہ اور موجودہ پاکستان کا مغربی جنوبی حصہ اسلام کی بین الاقوامی حکومت میں شامل ہوا۔ آپ ﷺ کی وفات کے پچیس سال بعد تک مدینہ منورہ ہی دار الخلافت رہا، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چند مصلحتوں کی وجہ سے دار الخلافت مدینہ منورہ سے عراق کے شہر کوفہ منتقل کردیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد عراق میں مسلمانوں کے اصرار پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بیعت خلافت لی۔ دوسری طرف شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی۔ ممکن تھا کہ مسلمانوں کے درمیان جنگ شروع ہوجائے، لیکن نواسہ رسول حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی دوراندیشی سے مسلمانوں کو اختلاف اور پھوٹ سے بچانے کے لیے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح فرمالی اور خلافت سے دست بردار ہوگئے۔
خلفاء راشدین کے بعد تقریباً ایک صدی تک بنوامیہ نے دمشق (سوریا) کو دارالسلطنت قرار دے کر فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا حتی کہ اسلامی حکومت کی سرحدیں ایک طرف چین اور دوسری طرف اسپین تک پھیل گئیں۔ پھر کچھ اسباب کی وجہ سے بنو امیہ کی حکومت کے خلاف تحریک شروع ہوگئی، چنانچہ 661ء سے شروع ہوئی بنو امیہ کی حکومت 750ء میں ختم ہوگئی۔
بنوامیہ کی حکومت کے خلاف تحریک کے ذریعہ 750ء کو وجود میں آئی خلافت عباسیہ نے دار الحکومت دمشق سے بغداد منتقل کرکے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا۔ خاندان عباسیہ نے 500 سال سے زائدعرصہ تک حکومت کی جو ایک طویل دور ہے۔ خلافت بنو عباسیہ1258ء تک رہی۔ اِس دور میں علمی وادبی وتاریخی بے شمار قابل ذکر کام ہوئے۔ حدیث، تفسیر، تاریخ، سیرت اور ادب کی بے شمار کتابیں اس دور میں تحریر کی گئیں۔ سائنس، حساب اور طب کے ماہرین پیدا ہوئے۔
1299ء میں ترکوں کی سلطنت عثمانیہ قائم ہوئی۔ اپنے عروج کے زمانہ (16ویں اور 17 ویں صدی) میں یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی۔ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اور جنوب مشرقی یورپ اس کے زیر نگیں تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد 1923ء میں 624 سالہ یہ عظیم سلطنت ختم ہوگئی، یعنی ترکی آج سے 95 سال پہلے 1923ء میں سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ سے قبل تک دنیا کے بہت بڑے حصہ کا حکمراں تھا۔ ترکوں کی دیگر خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی حرمین شریفین کی خدمت قابل تعریف ہیں ۔
غرضیکہ مدینہ منورہ کی ہجرت کے بعد سے مسلمانوں کو ہمیشہ ایک مرکز کی سرپرستی حاصل رہی جو 1923ء میں سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد ختم ہوگئی۔ اس طرح 1350 سال بعد مسلمان تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے اور مسلمانوں کی مجموعی طاقت آج کے 45 ملکوں میں تقسیم ہوگئی۔ یہ ایک ایسا دردناک المیہ تھا کہ اس کی وجہ سے اِن دِنوں مسلمان جگہ جگہ پر پریشان ہیں، متعدد مسلم ممالک تباہ کردئے گئے، مگر مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ پہلی جنگ عظیم میں ترکی جرمنی کا اتحادی رہا ،اس جنگ کی بڑی بھاری قیمت مسلمانوں کو ادا کرنی پڑی، چنانچہ انگریزوں نے عربوں کو ترکوں کے خلاف جنگ پر اکسایا، اس طرح مسلمانوں میں قومیت کی بنیاد پر جنگ لڑی گئی اور عرب علاقے ترکی کے ہاتھ سے نکل گئے، حتی کہ انگریزوں نے ترکی پر بھی قبضہ کرلیا تھا لیکن جلدی ہی تمام جارح افواج کو ترکی سے باہر نکال دیا گیا اور 1923ء کو ایک نئی ریاست تشکل دی گئی جو جمہوریہ ترکی کہلائی۔ اس طرح 624 سالہ سلطنت عثمانیہ کے عظیم دور کا خاتمہ ہوگیا۔
حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے انتقال کے بعد آپ کے شاگردوں نے حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے قرآن وحدیث وفقہ کے دروس کو کتابی شکل دے کر ان کے علم کے نفع کو بہت عام کردیا،خاص کر جب آپ کے شاگرد قاضی ابویوسفؒ عباسی حکومت میں قاضی القضاۃ (Chief Justice) کے عہدہ پر فائز ہوئے تو انہوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے فیصلوں سے حکومتی سطح پر عوام کو متعارف کرایا چنانچہ چند ہی سالوں میں فقہ حنفی دنیا کے کونے کونے میں رائج ہوگئی اور اس کے بعد یہ سلسلہ برابر جاری رہا حتی کہ عباسی وعثمانی حکومت میں مذہب ابی حنیفہ کو سرکاری حیثیت دے دی گئی چنانچہ سینکڑوں سال سے امت مسلمہ کا کم وبیش 75 فیصد فقہ حنفی پر عمل پیرا ہے۔
اسلامی حکومت کے شیرازہ بکھرنے کے بعد 1923ء میں بنے ترکی کی سرحدیں 8 ممالک سے ملتی ہیں۔ مشرق میں آرمینیا، ایران اور آذربائیجان ، جنوب مشرق میں عراق اور سوریا، شمال مشرق میں جارجیا، شمال مغرب میں بلغاریہ اور مغرب میں یونان ہیں۔ علاوہ ازیں ملکی سرحدیں شمال میں بحیرہ اسود، مغرب میں بحیرہ ایجینیا اور جنوب میں بحیرہ روم سے ملتی ہیں۔ ترکی میں اس وقت تقریباً ایک لاکھ مساجد ہیں۔ قدیم شہر استنبول (قسطنطنیہ) میں سب سے زیادہ مساجد ہیں۔ آٹھ کروڑ سے زیادہ آبادی والے ملک ترکی میں تقریباً 97 فیصد مسلمان ہیں، جو اختلافی مسائل میں علماء احناف کی رائے پر عمل کرتے ہیں۔ عمومی طور پر ترکی زبان ہی بولی جاتی ہے، البتہ کچھ لوگ کورمانجی زبان بھی بولتے ہیں، کہیں کہیں عربی زبان بھی بولی جاتی ہے۔ ترکی بہت پرانی زبان ہے، سلطنت عثمانیہ کے زیر اثر رہنے کی وجہ سے ترکی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جانے لگی تھی۔ سلطنت عثمانیہ کے ختم ہونے کے بعد عربی رسم الخط کا خاتمہ کرکے نئے لاطینی رسم الخط کو 1928ء میں رائج کیا گیا۔
آج سے تقریباً 1450 سال قبل مکہ مکرمہ کی سرزمین سے شروع ہوا مذہب اسلام کے ماننے والے اِس وقت دنیا میں دو ارب سے کچھ کم ہیں، یعنی تقریباً 25 فیصد دنیا کی آبادی صرف مذہب اسلام کو اپنی کامیابی کا ضامن سمجھتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان اپنے دین کو بطور نظام دوبارہ غالب کرپائیں گے. اگر مسلمان اپنے دین کی اساس پر اپنا نظام قائم نہیں کرپاتے تو ان کی بڑی تعداد کے باوجود دنیا میں ان کی حیثیت مغرب کے سرمایہ دارانہ نظاموں میں محض ایک صارف کی ہوگی اور اس حیثیت میں ان کی بڑھتی ہوئی تعداد مغرب کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے.