یہ لاک ڈاؤن بھی عجیب چیز ہے میں ریٹائرڈ آدمی پچھلے چھ سال سے زیادہ تر وقت اپنے گھر میں گزار رہا ہوں مگر لاک ڈاؤن کے باعث گھر میں رہنا مجھے خاصا عجیب لگا. میں ہر تھوڑی دیر بعد دروازہ کھول کر باہر گلی میں جاتا اور لوٹ آتا، ہماری گلی اکثر سنسان اور خالی ڈھنڈار نظر آتی ہے. میں خالی گلی  کو  دیکھ کر لوٹ آتا ہوں اور اپنے کمرے میں بیٹھ جاتا ہوں. کچھ دیر لکھنے پڑھنے میں مصروف رہ کر صحن میں آجاتا ہوں میرے چھوٹے سے صحن میں ایک چھوٹا سا باغ ہے اس میں لیموں کے دو پودے ہیں، مروا، چاننا، موتیا اور گلاب کے پودے ہیں، ان دنوں  کریلے کی دو بیلیں بھی پھل پھول رہی ہیں، تین درجن کے قریب گملے بھی ہیں جن میں گل داوودی، موتیا، گلاب، کیکٹس یوفوربیا، پتھرچٹ اور ایلوویرا کے پودے ہیں. اور بعض گملوں میں سبزی لگی ہوئی ہے، نیازبو کے تین گملے ہیں، ایک گملے میں ٹماٹر کا  چھوٹا سا پودا ہے، پانچ گملوں میں موتیے کے پودے لگے ہوئے ہیں  اتنے بہت سارے گملے پاس پاس پڑے ہوئے ہیں، حیرت ہے یہ ایک دوسرے کو بجائے کچھ کہنے کے،  ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے ہیں، مگر زمین میں لگے ہوئے پودے لیموں، چائنا اور  مروا  ایک دوسرے سے الجھے ہوئے نظر آتے ہیں، ان کی شاخیں دوسروں کو دھکیلتی نظر آتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ مروا ایک طرف کو جھک گیا ہے وہ چاننا اور لیموں کا مقابلہ کرنے کی بجائے سر جھکائے کھڑا ہے، اس کے باوجود اس پر پھولوں کے گچھے لگے ہوئے ہیں جو خوشبو تقسیم کر رہے ہیں یہ بیچارہ جبر سہ کر بھی  خوشبوئیں  بانٹ رہا ہے اس کے سفید دودھیا پھول  دور سے نظر آتے اور خوبصورتی پھیلاتے خوبصورتی پھیلاتے ہیں.
میرے گھر کے باہر دیوار کے ساتھ ایک کیاری ہے اس میں بھی کچھ پودے لگے ہوئے ہیں  فیکس کے دو پودے ہیں جنہیں میں زیادہ بڑھنے کی اجازت نہیں دیتا ،جو نہی یہ سر بلند ہوتے ہیں ،میرا مالی ذاکر  اس کی حجامت کرتا اور انہیں حدود میں لاتا اور آگے بڑھنے سے روکتا ہے،  تاکہ اس کی شاخیں بجلی کی تاروں سے چھو کر خرابی پیدا کرنے سے باز رہیں ۔ اس کیاری میں پام، کڑی پتا، مروا  اور کیکٹس کے پودے ہیں ،ان کے علاوہ چھوٹی چھوٹی بیلیں بھی ہیں ، منی پلانٹ نے کافی جگہ گھیر رکھی ہے، ایک دو پودے ایسے بھی ہیں جن کے نام بھول رہا ہوں، ایک پودا آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے اس میں گول گول  سبزپتے  ہیں ، سال میں  چند ایک روز  ان پر سفید سفید پھول آتے ہیں، میں انہیں دیکھ کر خوش ہوتا ہوں ۔میں نے کچھ سال پہلے اس کیاری میں مرچوں کا ایک پودا لگایا تھا اس پر بہت سی مرچیں لگیں، یہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا، اس خوبصورتی کے باعث میں نے مرچیں توڑنا مناسب نہ سمجھا ،اگلے روز میں نے دیکھا کہ یہ پودا موجود نہیں ہے یقینا کسی آیند روند نے یہ پودا  اکھاڑ لیا تھا، مجھے  کئی روز اس بات کا افسوس رہا حالانکہ میں چاہتا تھا کہ اس کا پھل آنے جانے  والے لوگ اتاریں اور کھائیں۔ میں اپنے گھر میں لگے لیموں  تمام  گلی کے لوگوں میں تقسیم کرتا ہوں، آنے جانے والے دوستوں کو پیش  کرنا میرا اعزازہے۔گلی میں سے گزرتے لوگ بھی لیموں مانگ لیں  تو خدا کا شکر ہے میں انہیں مایوس نہیں کرتا۔ میرے گھر کے بیک یارڈ میں بھی  بہت سے گملے رکھے ہوئے ہیں، دو تین گملے کمروں کے اندر بھی ہیں، عجیب بات ہے میں ایک روز ایک ہی طرح  کے ایک جتنے دو پودے لے کر آیا مگر ان میں سے ایک بہت بڑھ گیا  دوسرا بھی بڑھ رہا ہے ،بہرحال یہ فطرت ہے کہ جن پودوں کو سازگار حالات میسر ہوں  وہ زیادہ تیزی سے اگتے ہیں۔ جن پودوں کے قدم زمین میں ہوں وہ تیزی سے بڑھتے ہیں اور جو پودے گملوں میں ہوں وہ چند ایک پھول دے کر بس ہو جاتے ہیں۔ زمین پر قدم جما کر کھڑے ہوئے پودے پھیلتےہوئے کہیں رکنے کا نام نہیں لیتے۔ میں نے ایک دفعہ اپنے صحن میں انگور کی بیل لگوائی تھی وہ اتنی پھلی پھولی  تھی  کہ  اس نے اوپر جا کر میرے صحن پر پھیل کر سایہ بھی کیا اور میرے گھر کی چھت پر بھی پھیل گئی ،اس پر اس قدر پھل لگا کہ ہم حیران رہ گئے ان دنوں ہمارے پچھلے صحن میں انگور کی بیل کا ایک گملا رکھا  ہوا ہے  بیل میں نمو کا عمل جاری ہے ، ممکن ہے آنے والے سال اس میں پھل آئے۔اور اس وقت تک زندہ رہنے والے لوگ یہ پھل  کھا سکیں۔
میں جن دنوں اس گھر میں آیا تھا یہ گھرنیا نیا  تھا مگر ناقص تعمیر کے باعث ٹوٹا  پھوٹا  بھی  تھا ۔میں نے اس کو بہتر کرنے کی کوشش کی مگر نقائص دور نہ ہو سکے ۔ ان دنوں میرے گھر میں بہت سے افراد تھے میرے ملنے والے بھی بہت تھے تو اکثر آیا کرتے تھے  پھر یوں ہوا کہ افراد  ایک ایک کر کے مختلف دنیاؤں میں چلے گئے ،کوئی دیار غیر میں اور کوئی اپنے ہی وطن میں اپنے نئے گھر میں  کہ بیٹیوں کا یہی مقدر  ہوتا ہے ، کچھ لوگ  اگلے جہان کو چلے گئے ،جانے والے پیچھے رہ جانے والوں کو کب تک یاد رکھیں اور کتنا یاد رکھیں ،نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے گھر میں بہت کم لوگ  باقی بچے ہیں۔لاک ڈاؤن کی موجودہ صورت حال میں مجھے ہم کلامی کے لئے بہت کم لوگ میسر ہیں۔ میرے ملنے والے جو میری ریٹائرمنٹ کے باعث بہت کم رہ گئے تھے اب اور کم ہو گئے ہیں ،اللہ پاک ان لوگوں کو اجر عظیم عطا فرمائے ۔ان دنوں ٹی وی خوف پھیلانے میں مصروف ہے ،میری بیوی خوف پھیلانے والی خبروں اور اشتہاروں کو بڑے شوق  اور توجہ سے سنتی ہے مگر میں ایسی خبریں سن  سن کر تنگ آ گیا ہوں ۔میں کوشش کرتا ہوں کہ کورونا کو اپنے ذہن سے جھٹک سکوں مگر کورونا کورونا کا ورد  وظیفہ چاروں طرف سے سنائی دے تو کیسے اپنے دماغ کو اس  ورد وظیفے سے بچا سکیں۔ بعض اوقات تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے ہم  کورونا کورونا  کرتے کوہ ندا کی دوسری طرف  چلے جائیں ۔بیماری سے بچنے کا میں بھی  قائل ہوں، مگر اس  ورد  وظیفے نے مجھے اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے اور  زندگی کے نام پر زندگی سے مایوس اور محروم کرنا شروع کر رکھا ہے ۔اس ورد وظیفہ  کرنے والوں نے مجھے یہ سمجھانا شروع کر رکھا ہے کہ میں باہر گیا تو کورونا لے کر واپس آؤں گا اور اگر کوئی مجھے ملنے آیا تو وہ مجھے کورونا  دے کر ضرور جائے گا ۔یہ فضول قسم کی مایوس کن باتیں مجھے  زندگی سے خالی کر رہی ہیں۔ میں سوچتا  ہوں کہ زندگی سے خالی ہو کر زندگی گزارنے کا کیا فائدہ ۔ یہ سوچ کر جی چاہتا ہے میں لاک ڈاؤن کے نام پر عائد پاپندیوں کو  یک قلم ترک کر دوں۔میں کرب کی صورتحال میں اپنے صحن کے باغ میں باہر نکلتا ہوں اور پودوں سے ہمکلام ہوتا ہوں ۔بعض پودے دھوپ میں  پھلتے پھولتے ہیں جیسے  کیکٹس کی  مختلف اقسام، یوفوربیا کا ایک پودا  باہر کیاری میں  تھا جودھوپ نہ لگنے کے سبب سوکھ گیا۔ کریلے کی بیلیں بڑھ رہی ہیں مگر ابھی تک پھولوں سے محروم ہیں ۔لیموں کے پودے دھوپ میں خوش ہیں ان پر بیک وقت چھوٹے پھول ،سچے پھول ،چھوٹے چھوٹے پھل  اور پکنے کے قریب پھل نظر آتے ہیں۔ ہر روز ایک آدھ نیم  پکا  لیموں کیاری میں پڑا ملتا ہے میں اس کی شکنجبین  پی لیتا ہوں اور خوش ہوتا ہوں۔ پتھر چٹ اور ایلوویرا کے پودے بھی دھوپ میں بہت خوش ہیں یہ بھی کیکٹس کی طرح  دھوپ کے پودے ہیں۔ایلوویرا پر ایک لمبی پھولدار شاخ اگتی ہے اور کچھ دن اپنی  خوبصورتی دکھا  کر مرجھا جاتی ہے۔  یوفوربیا کے پھول کھلتے ہیں اور  کئی دن کھلے رہتے ہیں ۔ موتیا کے پھول  روز کے روز کھلتے اور مرجھاتے ہیں۔ان دنوں مروا کے پودے پر پھولوں کے گچھے  نظر آتے ہیں جو حسن و خوبی میں منفرد نظر آتے ہیں۔چاننا  پر بھی پھول آتے ہیں اور بکثرت آتے ہیں مگر ان میں خوشبو  نہیں ہے۔مرچوں پر پھول آ رہے ہیں،اور کچھ ننھے ننھے پھول سبز مرچوں کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔تلسی کے پودوں پر پھول نظر آتے ہیں۔ یہ بھی کمال کا پودا ہے، جس کے پھولوں سے زیادہ اس کے پتے خوشبو دیتے ہیں۔ اسی طرح کڑی پتا کے پتے کھانے میں استعمال ہوتے ہیں، آج میں نے دیکھا کہ اس پر اگے  سبز پھل پک کر سیاہ ہو چکے ہیں، میں نے  دو تین پھل توڑ کر کھائے اچھے لگے ۔
ہمارے مقامی پودوں کے نام بھی عجیب ہیں مثلا ایک درخت کو اشوک یا الٹا اشوک کہتے ہیں، کیا  پودا  ہے  تاریخ کی یاد  دلاتا ہے ۔ گلچین اور گل نشتر کے نام ہی لطف دےجاتے ہیں ،انہیں دیکھیں  تو دیکھتے رہ جائیں ،یہ ماحول پر چھا جاتے ہیں مگر افسوس میرے چھوٹے سے صحن میں ان کی گنجائش نہیں نکل سکی۔ خصوصاً گل نشتر کی تو قطعاً گنجائش  نہیں نکل سکتی کہ دیوار کے پار بجلی کے تار اس درخت کو بڑھنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے ۔میں اپنے صحن کے پودوں کے پاس بیٹھتا ہوں ان سے ہمکلام ہوتا ہوں۔ تلسی کے پودوں کا رویہ عجیب محبوبانہ ہے، یہ تھوڑی سی گرمی سہ نہیں پاتے اور یوں کملا جاتے ہیں ۔جیسے کوئی ناراض محبوبہ قطع تعلق کر رہی ہو۔ اس کے رویے دیکھ کر مجھے ہندی دیو مالا  کا یہ واقعہ یاد آتا ہے کہ تلسی کرشن جی مہاراج کی کی محبوبہ تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ ہر وقت ان کی آنکھوں کے سامنے رہے ،انہوں نے اسے پودا بنا کر اپنے آنگن میں لگا لیا۔ یہ پودا  سر تاپا خوشبو  میں رچا  بساہے۔دیو مالا نے اسے محبوبہ  قرار دیا ہے تو کچھ غلط نہیں کیا۔
 میں اپنے صحن میں بیٹھا  اپنے پودوں سے ہمکلام ہوتا ہوں۔لاک ڈاؤن کے ان دنوں میں  طرح طرح کے پرندے میری  دلداری کےلیے  آنے لگے۔ ایک دن رنگ رنگ کی تتلیاں آئیں اور  پودوں پر اڑتی بیٹھتی اڑ کر نظروں سے اوجھل ہو جاتیں اور  لوٹ  کر آتیں  اور نظروں میں بسیرا کر لیتی ہیں ۔میں یہ مناظر دیکھتا ہوں تو خوشی سے نہال ہو جاتا ہوں۔شہد کی مکھیاں لیموں کے پھولوں کا رس چوس رہی ہیں یہ وہ مناظر ہیں جو مجھے ایک اور دنیا میں لے جاتے ہیں۔ ناصر کاظمی اور احمد مشتاق اس دنیا کے شائق تھے۔ مجھے  ورڈزورتھ  کا  لیک ڈسٹرکٹ یاد آتے ہیں۔ مگر میرا چھوٹا سا صحن اس  بڑی دنیا کا مقابلہ کیوں کر سکتا ہے۔ مگر میرے صحن میں آگے پودے اور ان کےپھل  پھول ، مسافر پرندے اور تتلیاں میری جھولی کو  خوشیوں سے بھر دیتے ہیں۔ مجھے مجیدامجد یاد آتے ہیں اور میں ان کے  لفظ دہرانے لگتا ہوں:
 ہری بھری فصلو جگ جگ جیو ہنسو!