ہمارے سوشل میڈیا کے پسندیدہ کردار جناب فواد چوہدری نے فرمایا ہے کہ دنیا بھر کی جامعات کووڈ 19، کے حوالے سے حکومت سے تعاون کر رہی ہیں،ہماری یونیورسٹیاں ہیں کہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں. ان کی باتیں سنجیدگی سے لینے کا رواج نہیں ہے حالانکہ وہ کسی وقت عقل و فہم کی بات بھی کرجاتے ہیں۔ کیا عجیب مصیبت ہے جب وہ کوئی عقل کی بات کرتے ہیں تو لوگ اسے ہنسی مذاق سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں اور جب کوئی مزاحیہ بات کرتے ہیں تو لوگ اس پر سنجیدگی سے غور کرنےلگتے ہیں اور اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہیں. لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں یہ تو بعد میں زیر بحث لائیں گے فی الوقت یہی جان لیجیے کہ ہمارے ہاں مزاحیہ باتوں کو سنجیدہ سمجھنے کا رواج بہت زیادہ ہے۔ آپ کو یقین نہ آئے تو ٹاک شوز کا تصور کیجیے، راولپنڈی کے کامیڈی تھیٹر کے مسخرہ کردار کو سب سے زیادہ توجہ سے سنا جاتا ہے، دوسری طرف یہ صورتحال ہے کہ امان اللہ خاں مرحوم جیسے سنجیدہ اور صاحبِ فکر کردار کو مسخرہ اور کلاؤن سمجھا جاتا ہے اور ان کی باتوں سے لطف لیا جاتا ہے. حالانکہ ان کی اکثر باتیں قابل غور اور لائق فکر ہوتی تھی. دراصل جو معاشرے سنجیدگی اور فکر کے ساتھ جینا چھوڑ دیں وہ عموما مزاح پر سنجیدگی اختیار کر لیتے ہیں اور فکر افروز باتوں پر ہنس کر گزرجاتے ہیں، ایسے معاشروں میں جرم کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی جاتی ہے اور جعلی کامیابیوں پر فخر کیا جاتا ہے.
ہماری جامعات کرونا کے معاملے پرخاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں، یقیناً یہ ایک حقیقت ہے مگر حقیقت اس واقعے سے کہیں زیادہ اور بڑی ہے اس کی جڑیں ہمارے تعلیمی نظام کی تاریخ میں پیوست ہیں اب مصیبت یہ ہے کہ ہمارے ہاں تاریخ ایک ممنوعہ شعبہ ہے، ہم تاریخ کے نام پر جو کچھ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسے دنیا کے کسی بھی ملک میں تاریخ کہناممکن نہیں.
ہمارے ہاں ارتغرل جیسے ڈرامے اور نسیم حجازی کے ناول تاریخ سمجھے جاتے ہیں، صرف اسی پر بس نہیں ہمارے ہاں تاریخ پر لکھی گئی کتب کو اس انداز میں لکھا جاتا ہے کہ وہ نسیم حجازی کے ناول بن جائیں. نسیم حجازی کے ناول ہوں یا ہمارا مطالعۂ پاکستان، دونوں میں ایک سا تاریخ کا شعور ملتا ہے.
اسی کا فیضان ہے کہ سقوط بغداد کا سبب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس دور کے علماء غیر ضروری مسائل میں الجھے ہوئے تھے. بہت سے لوگ یہ بھی نہیں سوچتے کہ علماء تو غیر ضروری مسائل میں الجھے ہوئے تھے مگر کیا اس وقت کے حکمران اس کی افواج سبھی علماء کی محافل میں بیٹھے ان کی لا یعنی گفتگو سننے میں مصروف تھے. حکمران طبقہ ملک کی حفاظت نہ کر سکے تو علماء کیسے کر سکیں گے. ڈیفنس کا شعبہ علماء کے ذمے تو کبھی بھی نہیں رہا.
یہ تو خیر جملہ معترضہ ہوا. مسئلہ یہ ہے کہ کرونا کے مسئلہ پر ہماری یونیورسٹیز کا خاموش تماشائی بنے رہنا ایک اتفاقی حادثہ نہیں یہ ایک پوری تاریخ رکھتا ہے.
آج سے چند ماہ پہلے ہمارے وزیراعظم نے ایک شخص کو اپنا مشیرمقرر کرنا چاہا تو پتہ چلا وہ قادیانی ہے تو اس پر خاصا شور مچا تو یہ ارادہ ترک کر دیا گیا،، مگر فنانس کے شعبے میں جتنے لوگ بھی مقرر کیے گئے وہ سب کے سب مغرب سے درآمد کیے گئے. درآمد کا یہ سلسلہ بہت مدت سے جاری ہے، وزیراعظم تو اس لئے درآمد کیے جاتے ہیں کہ ہمارا سیاسی نظام خاصا کمزور ہے مگر فنانس کے لوگ بھی باہر سے ہی درآمد کیے جاتے ہیں. ایوب خان کے شعیب سے آج کے حفیظ شیخ تک سبھی مغرب سے درآمد کیے گئے گویا معاشیات اور فنانس کے معاملے میں ہماری یونیورسٹیز خاموش تماشائی ہیں.
قیام پاکستان سے مسلسل ایک مطالبہ سنائی دے رہا ہے کہ اسلامی نظام نافذ کرو مگروہ اب تک نافذ ہونے کا نام تک نہیں لے رہا۔
ہمارے علماء فقہ اسلامی کی جزئیات بڑی مہارت سے بیان کرتے ہیں مگر موجودہ عالمی انسانی صورتحال کے بارے میں زیادہ با خبر نہیں ہیں. ہمارے ہاں ڈیڑھ صدی سے چند سال پہلے انگریز بہادر نے قانون تعذیرات اور دوسرے قوانین نافذ کیے. اب ہمارے قانونی نظام کو کیسے اسلامی بنایا جائے یہ ایک پیچیدہ سوال ہے اور اس کا جواب ملنا مشکل ہو رہا ہے، یوں تو کہنے کو غیر سودی بینکاری کے نام سے کتابیں بھی لکھی گئیں مگر یہ کتابیں لکھنے والے بینکاری نظام کی حقیقت سے پوری طرح بے خبر تھے. اسی لیے ان کی تجاویز اور تصانیف کاغذ کا زیاں ٹھہریں. یہ تو خدا بھلا کرے شیخ الاسلام مولانا محمد تقی عثمانی کا کہ انہوں نے سود کو حلال کرنے کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا اور امت کو احساس جرم کی کیفیت سے نکالنے کی کوشش کی مگر علمائے امت نے ان کے فتوے کو ویسے ہی رد کر دیا جیسے جنرل ضیاءالحق کے اس اقدام کو رد کیا تھا کہ انہوں نے سود کو مارک اپ کا نام دے کر جائز اور اسلامی بنانا چاہتا تھا.
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے علماء تو جدید صورت حال کو سمجھنے کے لیے جدید علوم سے بے خبر ہیں ان کے کریکولم میں معاشیات، سیاسیات، فلسفہ، عمرانیات اور بشریات جیسے علوم شامل ہی نہیں ہیں، وہ بیچارے قوانین کو اسلامی بنانے یا ریاست کے ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں تجویز کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے جس سے ریاستی ڈھانچہ اسلام کے مطابق ڈھل جائے، مگر ہمارے ہاں کے شعبہ اسلامیات سے ایسے سکالر پیدا نہیں ہو سکے جو قابل عمل تجاویز پیش کر سکیں. ہمارے اسلامیات کے سکالرز ریاستی ڈھانچے میں تبدیلی کی کوئی تجویز نہ لا سکے، نہ ہمارے معاشیات کے سکالر کوئی ایسا تھیسس پیش کر سکے جس میں ہمارے معاشی مسائل کا حل تجویز کیا گیا ہو. گویا ہمارے ہاں اسلامیات، معاشیات، قانون اور دوسرے شعبوں میں ہماری جامعات کا کردار خاموش تماشائی کا ہے۔ ہمیں کو وڈ 19 کے لئے ہی نہیں اپنے معاشی مسائل کے حل کے لیے ،قانون کو عوام دوست بنانے کے لیے تعلیم کو عوام تک پہنچانے کے لیے، لٹریسی ریٹ بڑھانے کے لیے جامعات سے کوئی رہنمائی نہیں ملتی۔ہم مغرب سے جن ماہرین کو بلاتے ہیں وہ مغرب کی جامعات کے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ پی ۔ایچ۔ ڈی ہوتے ہیں، وہ ایک مختلف ماحول سے آتے ہیں اور ہمیں اپنی معیشت ،صحت، قوانین ،تعلیم وغیرہ کے سلسلے میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں، ہم ان کی رہنمائی کی اچھی خاصی قیمت فراہم کرتے ہیں۔ ہماری جامعات پی۔ ایچ۔ ڈی کے ڈگری ہولڈرز کی فوج ظفر موج مہیا کر رہی ہیں ،ہماری جامعات کے بہت سے اساتذہ مغربی جامعات سے تحقیق کی اعلی ترین ڈگریاں لینے جاتے ہیں اور بڑی بڑی ڈگریاں لئے لوٹ کر آتے ہیں، مگر واپس آکر وہ ایسی ریسرچ کم ہی کرتے ہیں جو ہمارے مسائل کے حل میں ہمارے کام آئے ۔وہ صرف الاؤنس لیتے ہیں یا بڑی بڑی تنخوا ہیں۔ ہمارے مسائل کے سلسلے میں ہماری جامعات اکثر خاموش تماشائی کا کام کر رہی ہیں ۔ہم آئی۔ ایم۔ ایف اور ورلڈ بینک کے ماہرین کے دست نگر ہیں ،ٹیسٹ کٹس چین سے آتی ہیں ماہرین مغرب سے آتے ہیں اور حکمران سلیکٹرزطے کرتے ہیں۔
میں تمام عمر تعلیم کے شعبے سے وابستہ رہا آج بھی اسی خدمت کے عوض وظیفہ یاب ہوں اور تعلیم ہی میراوسیلۂ رزق ہے ۔مجھے اپنے نظام تعلیم کے سلسلے میں بہت سے واقعات یاد آرہے ہیں، فی الوقت ایک واقعہ یاد آرہا ہے سنائے دیتا ہوں۔ میرے پاس ایک پروفیسر صاحب تشریف لائے وہ بتا رہے تھے کہ انہوں نےاسلامیات میں پی۔ایچ۔ڈی کر رکھا ہے ۔سن کر خوش ہوا،عرض کیا:
’’ ٓ آپ کا موضوع کیا تھا؟‘‘
فرمانے لگے:
’’اسلام میں گردشی دولت کا تصور‘‘
یہ سن کر خوشی سے نہال ہو گیا، میں نے عرض کیا:
آپ کا موضوع بہت خوبصورت ہے،کوئی سیاسی نظام خلا میں استوار نہیں ہوتا، معاشی نظام کی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے ،معاشی نظام اس دولت پر تعمیر ہوتا ہے جو انسانی ضرورت سے زائد ہو،جو کھا پی لیا وہ زیر بحث نہیں آئے گا ۔ ضرورت سے زیادہ سے زیادہ رقم کے استعمال کے پانچ طریقے ہیں:
پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ خیرات کر دیا جائےضرورت مندوں کو دے دیا جائے یہ طریقہ جائز بھی ہے اور اسلام میں بے حد پسندیدہ طریقہ ہے ۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کو تجارت میں لگا دیا جائے یہ طریقہ جائز بھی ہے اور پسندیدہ بھی۔
تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کو خزانے میں محفوظ رکھا جائے ، اگر زکوۃ ادا کر دی جائے تو یہ جائز ہوگا مگر زیادہ پسندیدہ نہیں ہوگا۔
چو تھا یہ ہے کہ اس کی جائیداد خرید لی جائے تو یہ جائز ہوگا مگر قابل تحسین نہیں ہوگا۔
پانچویں صورت یہ ہے اسے جوے میں لگایا جائے یا سود پر دے دیا جائے یہ صورت نا جائز اور حرام ہے۔
یہ ساری کہانی سنا کر میں نے عرض کیا:
’’ ہمارے ہاں جب کوئی انڈسٹری لگتی ہے اس میں یہ پانچوں صورتیں بیک وقت موجود ہوتی ہیں۔ انڈسٹریلسٹ خیرات بھی کرتا ہے خزانہ بھی بھرتا ہے،پراپرٹی بھی بناتا ہے اور سود اور جوے کا معاملہ بھی کرتا ہے۔ آپ نےمقالے میں انڈسٹری کی کیا صورت تجویز کی ہے کہ بندہ انڈسٹری لگائے اور حرام چیزوں سے مکمل محفوظ رہے ۔‘‘
وہ صاحب میرا سوال سن کر بولے :
’’ہمارے مولوی تو ان باتوں پر غورہی نہیں کرتے‘‘
میں اس جواب کو سن کر پریشان ہو گیا اور یہ بات سمجھ نہ سکا کہ وہ مولوی کو موردِ الزام کیوں ٹھہرا رہے ہیں۔ میرا سوال توان کی تحقیق سے متعلق تھا کہ انہوں نے اپنی تحقیق میں اس مسئلے کا کیا حل تجویز کیا ہے ،وہ مولوی کو مورد الزام ٹھہرا رہے تھے ۔میں ایک مدت ان کے جواب پر غور کرتا رہا اور اسے سمجھ نہ سکا ۔ اب تقریبا دس سال بعد ان کا جواب سمجھ سکا ہوں وہ آپ کو بھی عرض کیے دیتا ہوں:
دراصل ان کے نزدیک تحقیق نام تھا مختلف لوگوں کی آراء و خیالات کی جمع آوری کا، اگر کسی مولوی نے اس سوال کا جواب دیا ہوتا تو وہ اسے اپنے جواب میں شامل کر سکتے تھے ۔ہمارے ایک جاننے والے پروفیسر معاشیات اپنے مضمون میں خاصے پیدل تھے ،انہوں نے معاشیات پر مختلف علماء کی تحریروں کے فوٹو سٹیٹ اکھٹے کیے، ایک فائل میں یہ سارا مواد جمع کیا اور اسلامی معاشیات کے ماہر شمار ہونے لگے ،سچی بات یہ ہے معاشیات انہیں اب بھی نہیں آتی۔
دراصل ہمارے ہاں تحقیق نام ہے موجود آراء، نظریات اور خیالات کی جمع آوری کا۔ مسائل کا حل تلاش کرنا جامعات سے بارہ پتھر باہر سمجھا جاتا ہے اسی لیے ہمارے وزیر فواد چودھری کہہ رہے ہیں کہ ہماری جامعات کووڈ19 میں خاموش تماشائی ہیں ۔ان کی خاموشی کے اسباب کیا ہیں ،اس پر تحقیق کی ضرورت ہے