ان دنوں جب واحد عالمی قوت امریکا کرونا وباسے نبٹ رہی تھی اچانک نسلی بنیادوں پر تشدد آمیز مظاہرے شروع ہو گئے ۔ ایسے بڑے واقعات بظاہر چھوٹے سے واقعے سے شروع ہوتے ہیں مگر ان کی بنیادیں واقعات اور حادثات کا ایک سلسلہ ہوتا ہے ۔ اٹھارہویں صدی ہی غلاموں کی تجارت سے یہ سلسلہ شروع ہوا تھا، مگر انسداد غلامی کے فیصلے پر یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا ، خاموش رویے تو خیر اب بھی موجود ہیں ۔ مگر سفیدفاموں کی بالادستی اور ان کا معیار تہذیب ہونا اب بھی مغربی معاشرے کے مسلمہ رویوں میں شامل ہے ۔ سفید فاموں کا ذوق جمال اب بھی معیار قرار دیا جاتا ہے ، امریکا اور یورپ کی تاریخ سفید فاموں کی تاریخ ہے ۔ سماجی علوم میں امریکی اور یورپی جب ’’ میں ‘‘ اور ’’ ہم ‘‘ کہتے ہیں تو سیاہ فام ان میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں اور اگر شامل ہوتے ہیں تو کس حد تک ۔
ایک زمانہ تھا کہ سفید فام خود کو کھلے عام اعلیٰ اور برتر کہتے تھے ۔ اس برتری کا ایک حوالہ یہ تھا کہ وہ رنگدار نسلوں کو تہذیب سکھانا سفید فاموں پر عاید بوجھ قرار دیتے تھے ۔ ساتھ ہی ساتھ وہ انسانی رنگوں کے کبھی نہ مل پانے پر پختہ یقین رکھتے تھے ۔ ریڈیارڈ کپلنگ نے کہا تھا :
West is west and the east ia east
and the twain shall not meat
(مغرب مغرب ہے اور مشرق مشرق اور یہ دونوں نہیں مل پائیں گے )
پھر ہم نے سنا کہ مغرب کمیونسٹ دنیا سے اپنی دشمنی کی دہائی دے رہا ہے ۔ جسے پچھلے دنوں ہمنگٹن صاحب نے تہذیبوں کا تصادم لکھ کر مغربی تہذیب کے خلاف مسلمانوں کے تصادم کا واویلا مچایا تھا ۔
فرانسس فوکویاما Francis Fukuyama)) نے تاریخ کا خاتمہ (End of history) لکھ کر سفید فام کی برتری اور بلندی پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے ۔ سفید فام لوگوں نے افریقہ اور ایشیا میں ظلم و ستم کی داستانیں رقم کیں ۔ وہ جہاں جہاں پہنچے ، وہاں کے لوگ مہذب ، تعلیم یافتہ اور خوشحال تھے ۔ مگر جب سفید فام وہاں سے نکلے تو وہاں کے لوگ وحشی ، جاہل ، اجڈ اور بدحال تھے ۔ حالانکہ سفید فام لوگ دو صدیاں ان معاشروں کو مہذب اور تعلیم یافتہ بنانے میں مصروف رہے ۔
سیاہ فام سترہویں صدی میں غلام بنائے گئے اور امریکا لے جا کر بیچے گئے ۔ بعد کی صدیوں میں انہیں آزاد کیا گیا ۔ اب قانون کی کتابوں میں انہیں برابر کا شہری ٹھہرایا گیا ہے مگر سیاہ فام ہیں کہ پڑھتے نہیں اور جاہل رہتے ہیں ، کام نہیں کرتے ، وظیفہ کھاتے ہیں ۔ جرائم کرتے ہیں اور اسی میں خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ ان کی اس صورت حال کو دیکھ کر بارک اوباما نے کہا تھا ،وہ اپنا کلچر بدلیں ، مگر کسی نے کبھی سوچا کہ سیاہ فاہ پڑھتے نہیں ،کہ وہ اس نظام تعلیم سے بیگانگی ( ALIENATION) محسوس کرتے ہیں ، وہ کام نہیں کرتے کہ وہ اس سے بیگانگی محسوس کرتے ہیں ۔ وہ جرائم کرتے ہیں کہ وہ قانون سے بیگانگی محسوس کرتے ہیں۔ امریکا کا نظام تعلیم سفید فام نسلوں کے لوگوں کی زبان ، تاریخ اور کلچر کے مطابق مرتب کیا گیا ہے ۔ ان کا قانون سفید فام نسلوں کی روایات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے ۔ ان کا معاشی ڈھانچہ سفید فام کا بنایا ہوا ہے ۔ سیاہ فام اس نظام تعلیم ، اس معاشی نظام اور اس قانونی نظام کے ساتھ یگانگت محسوس نہیں کرتے ۔ سفید فام جو بہت دانشو رہیں ، کیا ایسا نہیں کر سکتے کہ اپنے نظام تعلیم میں سیاہ فام کلچر اور روایات کو نمایاں کر دیں ۔ ایسا قانون لائیں جو سیاہ فام کے کلچر سے ماخوذ ہو۔ ایسا معاشی نظام لائیں جس میں سیاہ فام لوگ سفید سرمایہ دار کی کارپوریشنز یا اداروں میں ملازم اور غلام نہ ہو ۔ سیاہ فاموں کی انفرادی غلامی تو ختم ہو چکی ہے،مگر وہ اجتماعی طور پر آج بھی سفید فاموں کے غلام ہیں ۔اب وہ سرکاری تعلیم ، سرکاری قانون اور سرکاری معیشت کے مطابق اپنے ذہن اور جسم کو ڈھالنے سے انکار کر رہے ہیں تو یہ ان کے من میں چھپی نفرت ہے ،بیگانگی ہے جس کا اظہار ہو رہا ہے۔مارکس نے مزدور اور مشین میں موجود بیگانگی ( ALIENATION) کو واضح کیا گیا تھا ۔ اور سارتر نے غلام ملکوں کے لوگوں کی امپیریلزم کے عطا کردہ نظام تعلیم سے بیگانگی کو واضح کیا تھا ، دیکھیں تو دونوں قسم کی بیگانگی امریکا میں سیاہ فام او ر امپیریلزم کے قانونی ، تعلیم اور معیشت میں دکھائی دے رہی ہے ۔ امریکی نظام صدیوں کے ان مجبور و مقہور سیاہ فام لوگوں کے لیے کوئی بڑی قربانی دینے کو تیار نہیں ہے ۔ حالانکہ امریکی نظام ہر سال اپنے سرمایہ دار کو اربوں ڈالر کے خطیر عطیات دے کر انہیں اپنے قدموں پر کھڑا رکھے ہوئے ہے ۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ امریکی نظام سرمایہ دار کے لیے سوشلزم ہے اور عوام کے لیے کیپٹلزم ہے ۔ امریکی نظام اپنے اندر کسی قسم کی جزوی ترمیم کرکے سیاہ فاموں کو مفت میں شریفانہ گھر ، سیاہ فام روایت پر مبنی تعلیم اور مساوات پر مبنی قانون دے سکے تو ان کی دنیا بدل سکے گی ۔ مگر امریکی امپیریلزم یہ چھوٹی سی قربانی دینے کو تیار نہیں ہے ۔
امریکی امپیریلزم کو یہ تو یاد ہوگا کہ وہاں اٹھارہویں صدی میں سیاہ فام مرد ، عورتیں ، بچے ، بچیاں لائے جاتے تھے اور بیچے جاتے تھے ، ان کے ریکارڈ میں ایسے نیلامی عام کے اشتہارات یقینا موجود ہوں گے، جو غلاموں کی نیلامی سے متعلق ہوں ۔ کیا کوئی انسانی نسل ایسا ذہنی جسمانی روحانی تشدد بھول سکتی ہے ، ایسا جبر اور تشدد بھولنے کے لیے ایک دو صدیاں کافی نہیں ہوتیں ، شاید دس بیس صدیاں بھی نہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ جبر مسلسل یاد کروایا جائے ۔ ہر رویے سے ، ہر انداز سے ، ہر فکری حوالے سے ، ہر نظری پہلو سے یہ جبر دہرایا جائے ۔ امریکا کی تاریخ سفید فام کی تاریخ ہے ،اس میں سیاہ فام کو بھی داخلے کی اجازت دی جائے ۔ اینگلوسیکسن، پروٹسٹنٹ اور یہودی اتحاد اب بھی نظری طور پر امریکا پر غالب ہے ۔ اب بھی امریکی صدر پروٹسٹنٹ بائبل پر حلف لیتا ہے، اس کے لیے یہ ممکن نہیں ، پروٹسٹنٹ اور کتھولک بائبل پر بیک وقت حلف لے سکے ، اس کے لیے یہ کیسے ممکن ہوگا،کہ وہ سیاہ فاموں کے کسی مقدس صحیفے کو سرکاری سطح پر مان سکے ۔ وہ کولمبس سے تاریخ کا آغاز کرتے ہیں جو بحری قزاق تھا ، وہ کسی افریقی غلام کے مجسمے کو اس کے مجسمے کے قریب کھڑے ہونے کی اجازت دیں گے، وہ ابراہیم لنکن کے ساتھ مارٹن لوتھرکنگ جونیر اور میلکم ایکس کو اپنے قومی ہیروز میں شامل کیسے کر سکیں گے ، یہ وہ سوال ہیں جو تاریخ کی زبان پر ہیں امریکی امپیریلزم کو ان کا جواب دینا ہوگا ۔
ایک دفعہ ایک عزیزہ نے یہ سوال اٹھایا ، امریکا میں سیاہ فاموں کے مختلف چینل ہیں ۔ ان پر وہ اپنے کلچر ، اپنی روایات ، اپنی موسیقی کو فروغ دے رہے ہیں ۔ ان کے برعکس سفید فام لوگوں کے الگ سے کوئی چینل نہیں جہاں سفید فام لوگوں کے مختلف اور منفرد کلچر کو پیش کریں ۔ میں سوچنے لگا ، سفید فام ایسا کیوں کریں گے ؟ امریکا کا تمام میڈیا ، سیاہ فاموں کے چینل چھوڑ کر ، سارا کا سارا سفید فام کلچر اور تاریخ کو پیش کرتے ہیں وہ الگ سے کیوں کریں گے ۔ جبکہ سیاہ فام اپنی زبانیں ، اپنا کلچر ، اپنے مذاہب ، اپنی ریتیں ، اپنی رواتیں ، اپنی یادیں ، اپنے آباواجداد یہاں تک کہ اپنے اصل وطن بھول چکے ہیں ، یا بھلا دیے گئے ہیں ۔ ان کی یادوں میں جلا وطنی کا دکھ ہے ۔ ان کی یادوں میں نسل در نسل غلامی کا کرب ہے ۔ وہ بیچارے اپنے آپ کو دریافت کر رہے ہیں اور جو تھوڑا بہت بچ گیا ہے ۔ اسے محفوظ کر رہے ہیں سفید فام امپیریلزم ان سے یہ سب کچھ چھین لینا چاہتا ہے ۔ ان کے لیے امریکا کی تاریخ ، سماجی ، ہیروز ، قانون ، نظام تعلیم ، ثقافت ، ذوق جمال ، زبان اور غالب مذہب ہر شے میں بہت کچھ نفرت کا حوالہ لیے ہوئے ہے ۔ اور نفرت کا یہ دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے ۔ یہ امریکی امپیریلزم اور کیپٹلزم کا تضاد ہے، اس تضاد کی دراڑوں کو بھرنا امپیریلزم کے بس میں نہیں ۔ مارکس نے کہا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام تضادات کو جتنا کم کرتا ہے ۔ یہ اتنے ہی بڑھتے ہیں ۔ اب بھلا ( END OF HISTORY ) تاریخ کا خاتمہ ماننے والے یہ کیونکر مان لیں کہ ان کے نظام کی تہوں میں تضادات ہیں ۔ یہ تضادات آگے بڑھ کر تاریخ کا سفر کو آگے بڑھائیں گے ۔ اس وقت تاریخ کا خاتمہ نامی کتابیں ڈسٹ بن کی زینت ہوں گی ۔ ہمنگٹن صاحب کے تہذیبوں کے تصادم کے نظریے کو نیا مفہوم دینا ہو گا ۔
امریکا میں سیاہ و سفید کی جنگ بڑھ رہی ہے ۔ بلکہ بڑھتے بڑھتے یورپ میں آپہنچی ہے ۔ اس جنگ نے سنجیدگی اور قانون کی پاسداری کا نقاب اٹھا دیا ہے ۔ اور اس کے نیچے چھپے کرب ، دہشت اور نفرت کے سارے حوالے واضح اور نمایاں کر دیے ہیں ۔فرانس میں بیروزگاری کے باعث لوگوں نے موت یا مارکس کا نعرہ بلند کر رکھا ہے ۔ ایک دوست بتا رہے تھے ۔ فرانس میں قدم قدم پر وائلن اٹھائے لوگ بھیک مانگتے نظر آتے ہیں ۔یہ سن کر مجھے ایوبیہ مارکیٹ کا بندر والا خاصا معتبر نظر آیا ، میں نے اسے ماسک پہننے کا کہا تو اس نے اپنے تھیلے سے ماسک نکال کر دکھایا ۔ جو بالکل نواں نکور تھا ۔ میں نے اسے ماسک پہننے کا کہا تو اس نے دور جاتے ہوئے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی ، اب امریکا کے ٹرمپ صاحب زمینی قوت سے مایوس ہوکر آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ اور سیاہ فام و سفید فام ،سیاہ فاموں کی بے چارگی کا نوحہ بھی کر رہے ہیں اور اس صورت حال پر احتجاج بھی ۔ دنیا کے سیاہ و سفید کا مالک امریکا بہادر اپنے ہی ملک کے سیاہ و سفید کے تضاد کے سامنے بے بس ہے ۔ رہے نام اللہ کا ۔ بندر والے کی آسمان کی طرف اٹھی انگلی اب تو آخری سچائی ہے ۔