ضرورت ھے — تحریر: ڈاکٹر وقار گل
فروری 26, 2017خود شناسی ، انسانی عقل کی ابتداء — تحریر: قاسم علی شاہ
فروری 26, 2017
- دنیا میں کچھ ایسے لوگ آپ کو ملتے ہیں جن کی بات میں تاثیر بہت ہوتی ہے۔ دنیا میں کئی لوگ آپ دیکھیں گے جن کی مجلس میں بندہ ہل نہیں سکتا، یعنی ان کی مجلس میں انسان پر ایک جادو سا طاری ہو جاتا ہے۔ ہمارے یونیورسٹی میں ایک پروفیسر تھے جن کی کلاس میں بیٹھ کر ہم سارے کام کر لیا کرتے تھے حتی کہ سموسے بھی کھا لیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ان کی کلاس کے دوران سموسے ختم ہو گئے اور ان کی موجودگی میں ہم نے کلاس میں پیچھے سے ایک لڑکا نکالا اور وہ جا کر سموسے لے آیا۔ کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی موجودگی میں آپ سارے میسج پڑھ لیتے ہیں اور کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی موجودگی میں آپ ساری کالز بھی کر لیتے ہیں۔
اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی تاثیر بڑی زیادہ ہوتی ہے وہ اپنی ریپوٹیشن بلڈ کرتے ہیں۔ ایک بات یاد رکھیں کہ جب آپ کی نیت بہت صاف ہوتی ہے تو خدا آپ کی زبان کو وہ الفاظ عطا کر دیتا ہے جو لوگوں کے دلوں پر اثر کرتے ہیں۔ اگر اللہ نے آپ کو اچھی نیت دی ہے تو اللہ پاک آپ کی زبان میں وہ تاثیر پیدا کر دے گا جو لوگوں کے دلوں پر اثر کرتی ہے۔
جس گفتگو میں آپ کو گداز نہیں ملتا وہ آپ کے دل پر اثر نہیں کرتی۔ گداز کے معنی ہے دل کی نرمی۔ اگر خطاب کرنے والے کے دل میں آپ کے لئے نرمی نہیں ہے تو یہ یقینی بات ہے کہ اس کی بات آپ کے دل پر اثر نہیں کرے گی۔
اگر کسی عالم، کسی سکالر ، کسی مفکر کی مجلس سے آپ گداز نہیں لے کر گئے۔ آپ کے دل میں کچھ رحم کا عنصر پیدا نہیں ہوا۔ آپ کے اندر کوئی عاجزی پیدا نہیں ہوئی۔ آپ کی آنکھ میں نمی نہیں آئی۔ آپ میں کچھ بدلنے کا جذبہ پیدا نہیں ہوا۔ اور آپ کا خدا پر توکل نہیں بڑھا۔ آپ کا ایمان نہیں بڑھا۔ آپ کا قرب نہیں بڑھا کہ اللہ پر یقین ہو کہ وہ میرا رب بھی ہے۔ انا ربی کا مطلب ہے میرا رب۔ ہم یہ الفاظ رسمی طور پر ادا کرتے رہتے ہیں لیکن اس ان الفاظ کی روح کو دل میں نہیں اتارتے۔ رسمی حوالے سے انا ربی کا ذکر کرتے کرتے ایک دن ایسا آتا ہے کہ ان الفاظ کی تاثیر آپ کو دل میں محسوس ہوتی ہے کہ واقعی وہ میرا رب ہے۔ لہذا ایسی مجلس میں جس میں یہ احساس دل میں پیدا ہو جائے کہ وہ میرا رب ہے اس مجلس کی افادیت زیادہ ہوتی ہے۔
حضور والا اگر آپ کی نیت صاف ہے اور آپ مجلس میں لوگوں کے ساتھ نرمی اور خلوص سے بات کرتے ہیں کہ اگر ایک خاکروب بھی آپ کی محفل میں بیٹھا ہے تو اس سے بھی نرمی کا برتائو کیا جاتا ہے تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالی آپ کی زبان میں ایک تاثیر پیدا کر دیتا ہے۔ ایسی صورت میں لوگوں کا سو بار کہنا ایک طرف ہوتا ہے اور آپ کا ایک بارکہنا ایک طرف ہوتا ہے۔ دنیاکے ہزار لوگ یہ کہتے ہیں کہ سچ بولنا چاہیے تو آپ کا ایک بار کہنا اس سے زیادہ پر اثر ہوتا ہے کہ سچ بولنا چاہیے۔
اچھے اخلاقیات کی چاہے سو کتابیں پڑھ لیں آپ کے اخلاق اچھے نہیں ہو سکتے۔ لیکن ایک شخص آپ کو زندگی میں ملتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ اخلاقیات کو بہتر کریں تو اس بندے کی ریپوٹیشن بلڈنگ اتنی اچھی ہوتی ہے کہ آپ اس کی بات مان جاتے ہیں کہ اخلاقیات اچھے ہونے چاہئیں۔
دو چیزوں پر کام کرنا بہت ضروری ہے ایک تو نیت کا صاف ہونا اور دوسرا آپ کو اس کام کا اہل بھی ہوناچاہئے۔ میرے مطابق ہر بندہ مبلغ نہیں بن سکتا۔ جیسے ہر ڈاکٹر سرجن نہیں بن سکتا ایسے ہی ہر بندہ قابل نہیں ہوتا۔ اس شخص کے اندر قابلیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکے۔
یونیورسٹی میں کچھ دین دار لوگوں کی محفل میں ، میں یہ بات کر بیٹھا تو ان لوگوں نے اعتراض کیا کہ ہر بندے کو اچھی بات کرنی چاہیے۔ میں نے ان کو جواب دیا کہ اچھی بات ہر بندہ کر سکتا ہےلیکن ابلاغ کی سیٹ پر بیٹھ کر اچھی بات کا ابلاغ کرنا الگ عہدہ ہے۔ اچھی بات کا ابلاغ اس شخص کا کام ہے جس میں اس کی اہلیت بھی ہو۔ مسلمان اچھی بات کرتا ہے یہ میں مانتا ہوں لیکن اچھی بات کا ابلاغ وہ مسلمان کر سکتا ہے جو اس بات کا اہل ہو۔
میں نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ ابلاغ کے لئے اہلیت کی ضرورت ہے۔ ایک پرچی پر ایک چھوٹی سی کہانی لکھ کر پہلے بندے کو دی کہ اس کو پڑھ کر دوسرے بندے کو کان میں بتاواور اسی طرح ہوتے ہوتے وہ کہانی آخری صاحب کے پاس پہنچ گئی۔ میں نے ان آخری صاحب کو بلا ہی لیا۔ یقین مانیں وہ کہانی جو میں نے لکھی تھی اس سے بالکل مختلف تھی۔ اس کے بعد میں نے وہ پرچی نکالی جس پر وہ کہانی لکھی تھی اسے پڑھ کر آخری بندے کی کہانی سے موازنہ کیا۔ کہانی کا زاویہ بالکل بدل چکا تھا۔ میں نے کہا کہ اسے کہتے ہیں انسانی ملاوٹ جو انسانوں کے مزاج کی وجہ سے کہانی میں ڈل چکا تھا۔
حضور بعض لوگ اخلاق بھی پڑھائیں تو بد اخلاقی کی وجہ سے پڑھاتے ہیں۔ اور بعض لوگ بد اخلاقی بھی پڑھاتے ہیں تو بہت اخلاق سے پڑھا جاتے ہیں۔ بعض لوگ اتنے سخت ہوتے ہیں اتنے ترش ہوتے ہیں اتنے کٹھور ہوتے ہیں کہ میں ایک لیکچر میں بیٹھا تو اس لیکچر کے دوران محاضر کو کلاس میں بیٹھے ہوئے ایک صاحب پر غصہ آ گیا۔ غصہ کی وجہ یہ تھی کہ اس شخص کا موبائل بج اٹھا جو سائیلنٹ پر نہیں لگا ہوا تھا۔ اب کیا تھا محاضر نے اس شخص کو بہت برا بھلا کہا اور بہت شرمندہ کیا۔ تو میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے بندے سے پوچھا کہ ٹاپک کیا ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ پازیٹو ایٹی ٹیوڈ یعنی مثبت رویہ پڑھا رہے ہیں صاحب۔ لہذا کسی کو پڑھانا نرمی کے ساتھ ہونا چاہیے لیکن چونکہ بعض لوگوں کا مزاج سخت ہوتا ہے لہذا وہ موضوع کو سختی کے ساتھ پڑھاتے ہیں۔ یہی حال ہمارے دین کا بھی ہوا کہ دین نرمی کے ساتھ پڑھانے کے لئے آیا تھا لیکن بعض لوگوں کے سخت مزاج کی وجہ سے وہ دین کی تشریحات سخت کر دی گئیں۔ جب دین سخت طرز پر بیان کیا جاتا ہے تو لوگ یہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں کہ شاید دین اسلام سخت ہے۔
ایک زمانہ کی بات ہے کہ ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا اس نے ایک خواب دیکھا۔ اب اس خواب کی تعبیر کے لئے اس نے اعلان کروایا کہ جو اس خواب کی حقیقت بیان کرے گا میں اس کو انعام دوں گا۔ ایک ستر سالہ بزرگ محل میں آیا اور اس نے کہا میں آپ کے خواب کی تعبیر بتائوں گا کیونکہ میری ستر سالہ زندگی خوابوں کی تعبیریں بتانے میں گزری ہے۔ اس بزرگ نے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ آپ کا پورا خاندان آپ کی آنکھوں کے سامنے مر جائے گا۔ بادشاہ کو بہت غصہ اور جلال آ گیا کہ اتنی بری تعبیر بتا دی ہے اس بزرگ نے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ تلوار منگوائی جائے اور اس بزرگ کی گردن اتار دی جائے۔ اس بزرگ نے رحم کی اپیل کی تو بادشاہ نے کہا کہ چلو اچھا ، گردن نہیں اڑاتے بلکہ پھانسی دے دیتے ہیں۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ کل صبح اس کو پھانسی دے دی جائے گی۔
اسی رات محل میں ایک بچہ داخل ہوا اور اس نے بادشاہ سے گزارش کی کہ وہ خواب کی تعبیر بتائے گا۔ بادشاہ نے کہا کہ تعبیر کا فیصلہ ہوچکا ہے اور میں اور کوئی بری تعبیر نہیں سننا چاہتا۔ تو بچہ نے بادشاہ سے ضد کی کہ وہ تعبیر ضرور بتائے گا۔ اس بچہ کی ضد کرنے پر بادشاہ نے کہا اچھا چلو بتائو۔ اس بچہ نے کہا کہ آپ کی عمر بہت دراز ہے اور اللہ تعالی نے آپ کو اتنی لمبی عمر دی ہے کہ آپ اپنے خاندان میں سے زیادہ عمر پائیں گے۔ بادشاہ بہت خوش ہوا اور اس بچہ سے کہا کہ مانگوکیا مانگتے ہو؟ اس بچہ نے کہا کہ وہ جو بزرگ اندر بند کیا ہوا ہے اس کو باہر نکالیے کیونکہ اس نے بھی یہی کہا تھا اور تعبیر بھی یہی ہے۔ “آپ کے سامنے سب مر جائیں گے” یا “آپ سب سے زیادہ جئیں گے” ان دونوں فقروں کا مطلب ایک ہی ہے۔
لہذا اسی لئے کہا گیا ہے کہ یہ آپ کے مزاج کی سختی اور ترشی، یا آپ کے مزاج میں جو گھٹن ہے اس کی وجہ سے سارا معاملہ ہی الٹ ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے خود کو پہچانیں کیونکہ خود کو پہنچاننا دراصل رب کو پہنچاننا ہے۔
جب انسانی مزاج کی ملاوٹ تبلیغ میں ہوتی ہے تو ہوتا ہے کہ اصل پیغام وہ نہیں رہتا ، بلکہ وہ بدل جاتا ہے۔
مناظر: 138