کیا آپ پریشانیوں سے نجات کے لیے کوئی فوری اثر اور تیربہدف نسخہ معلوم کرنا چاہتے ہیں یعنی ایک ایسی تکنیک جس سے آپ کو کتاب کو آگے بھی نہ پڑھنا پڑے اور آپ اپنے تفکرات سے بھی چھٹکارا پاسکیں؟
اچھا تو میں آپ کو وہ طریقہ بتائوں گا جس پر ایئر کنڈیشننگ کی صنعت قائم کرنے والے مشہور و معروف انجینئر ویلیس کیرئر نے عمل کیا تھا ۔وہ اس وقت شہرئہ آفاق کیرئر کا رپوریشن نیویارک کا چیئرمین ہے‘ یہ ایک بہترین طریقہ ہے جو مجھے پریشانیوں کے معاملات حل کرنے کے بارے میںمعلوم ہوا ہے اور میں نے خود ذاتی طور پر اسے مسٹر کیرئر کی زبانی سنا ہے جب کہ ہم دونوں نیویارک کے انجینئروں کے کلب میں اکٹھے کھانا کھا رہے تھے۔
مسٹر کیرئر نے مجھے بتایا کہ ’’جب میں نوجوان تھا میں بفیلو فورج کمپنی بفیلو (نیویارک) میں کام کیا کرتا تھا۔ مجھے ریاست مسوری کے شہر کرسٹل میں پیش برگ گلاس کمپنی کے ایک کارخانے میں گیس صاف کرنے کی مشین لگانے کے کام پر مقرر کیا گیا۔ اس مشین کی قیمت کئی لاکھ ڈالر تھی اس مشین کے لگانے کا مقصد یہ تھا کہ گیس کی غلاظتیںصاف کی جائیں تاکہ اس سے انجنوں کو کسی قسم کا نقصان پہنچائے بغیر چلا یا جاسکے۔ گیس صاف کرنے کا یہ طریقہ نیا اور انوکھا تھا اسے صرف ایک بار آزمایا گیا تھا اور وہ بھی اس سے مختلف حالات میں۔ کرسٹل شہر میں میرے کام میں غیر متوقع مشکلات در آئیں۔ مشین کام تو دے رہی تھی لیکن ہماری توقعات سے بہت کم۔
مجھے اپنی ناکامی پر سخت افسوس ہوا۔ مجھے یوں لگا جیسے کسی نے میری کھوپڑی پر زور سے پتھر ماردیا ہے۔ میرے پیٹ میں درد رہنے لگا آنتوں میں اینٹھن ہونے لگی کچھ عرصہ تو میں اس قدر پریشان رہا کہ مجھے نیندبھی نہیں آئی۔
آخرکار میرے شعور نے مجھے راستہ دکھایا کہ پریشان و متردد ہونے کاکوئی فائدہ نہیں چنانچہ معاملے کو نبٹانے کے لیے میں نے پریشان ہوئے بغیر ایک راستہ تلاش کیا۔ اس میں مجھے بہت کامیابی ہوئی اورفکروں سے بچنے کے لیے میں تیس سال سے اس طریقے کو استعمال کر رہا ہوں یہ بہت سادہ اور آسان ہے‘ ہر کوئی اس پر عمل کرسکتا ہے۔ یہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔
-1 میں نے بے باکی اور دیانتداری کے ساتھ صورت حال کا تجزیہ کیا اور اندازہ لگایا کہ ناکامی کی صورت میں اس کے بدترین نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟ یہ بات تو یقینی تھی کہ کوئی مجھے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند نہیں کر رہا تھا اور نہ مجھے گولی مار رہا تھا البتہ اتنا ضرور ہے کہ میری نوکری چھن جانے کا خدشہ تھا‘ اس بات کی بھی توقع تھی کہ میرے مالک مشینری کو اکھاڑ لیں اور ہم نے چوبیس ہزار ڈالرخرچ کیے تھے وہ ضائع ہوجائیں۔
-2 جب مجھے یہ اندازہ ہوگیا کہ اس کے خطرناک نتائج کیا ہوسکتے ہیں تو میں نے ضرورت پڑنے پر ان کو فیس کرنے کے لیے اپنے آپ کو آمادہ کرلیا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا ’’یہ ناکامی میرے ریکارڈ پر ایک سیاہ داغ ہوگی اور عین ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے مجھے ملازمت سے الگ ہونا پڑے لیکن اس صورت میں مجھے کسی اور جگہ نوکری مل سکتی ہے‘ حالات کا کیا بھروسہ وہ تو اس سے بھی بری شکل اختیار کرسکتے ہیں جہاں تک میرے مالکوں کا تعلق ہے ‘ انہیں احساس ہے کہ ہم گیس صاف کرنے کے لیے ایک دوسرے طریقے کا تجربہ کر رہے ہیں اگر انہیں اس تجربے کے بیس ہزار ڈالر ادا کرنے پڑیں تو وہ اسے برداشت کرسکتے ہیں اور ریسرچ کی حد تک اس کا معاوضہ بھی طلب کرسکتے ہیں‘ جب مجھے ممکنہ بدترین نتائج کا پتہ چل گیا اورمیں نے ضرورت پڑنے پر انہیں قبول کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرلیا تو ایک بہت ہی اہم چیز واقع ہوئی۔ میں نے اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔ اس سے مجھے ایک طرح کی تسکین اور اطمینان ملاجس سے میں ان دنوں محروم تھا۔
-3 میں ذہنی طور پر بدترین اثر قبول کرچکا تھا اور اب خاموشی کے ساتھ اسے بہترین بنانے کے لیے میں نے اپنا پورا وقت‘ قوت اور توانائی صرف کردی۔
اب میں نے ایسے طریقے اور ذرائع معلوم کرنے کی بھرپورکوشش کی جن سے بیس ہزار کے خسارے میں تخفیف کی جاسکے۔ میں نے بہت سے ٹیسٹ کیے اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچا کہ اگر ہم پانچ ہزار ڈالر کا مزید سامان خرید لیں تو ہمارا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ہم نے یہی کیا اوربجائے اس کے فرم کو بیس ہزار ڈالر کا خسارہ برداشت کرنا پڑتا‘ ہمیں پندرہ ہزار ڈالر کا منافع حاصل ہوا۔