آج جیسے ہم انگلش میں بات کر کے فخر محسوس کرتے ہیں حالانکہ ہم غلامانہ اور پست ذہنیت کا ثبوت دے رہے ہوتے ہیں لیکن ہماری مجبوری ہے کیونکہ آج کا سارا علم انگلش یا فرنچ میں ہے۔ جو ممالک فرانس کے غلام رہے ہیں وہاں اب بھی فرنچ پڑھائی جاتی ہے اور جو ممالک برطانیہ کے غلام رہے ہیں وہاں انگلش پڑھائی جاتی ہے۔ غلام قوموں نے اپنی زبانوں کو اُس حد تک ترقی نہیں دی کہ ان کے طلباءاپنی زبانوں میں علم حاصل کرتے۔
جب عربوں نے اندلس پر قبضہ کیا یا عربوں نے سلطنتِ عباسیہ کے نام سے ایک بہت بڑی سلطنت بنائی تو دونوں جگہوں پر دنیا جہاں کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا گیا۔ سلطنت عباسیہ کے مشہور و معروف خلیفہ ہارون الرشید نے دارالحکمہ کے نام سے ایک ادارہ بنایا جہاں ہندی و یونانی کتابوں کے علاوہ دوسری زبانوں کی کتابوں کے عربی میں تراجم کئے جاتے تھے۔ مقصد اپنی زبان کو دوسرے علوم سے مالامال کرنا تھا۔ طلباءاور عام لوگوں کے لئے دوسری زبانوں کی کتابوں کو عربی میں ترجمہ کر کے آسانیاں پیدا کی گئیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ ان سلطنتوں کے لوگ علم و فضل میں اتنے ترقی یافتہ ہو گئے کہ دوسرے ممالک کے طلباءمسلمان ملکوں میں آ کر تعلیم حاصل کرتے تھے۔
یونان جو علم و فضل میں قبل مسیح بہت ترقی یافتہ تھا بعد ازاں یونان کے تنزلی کا شکار ہونے پر علوم کے وہ خزانے بند پڑے تھے مسلمانوں نے دریافت کئے اور وہ کتابیں اونٹوں پر لد لد کر مسلمانوں کے پاس آئیں ۔ مسلمانوں نے اُن علوم سے بھرپور فائدہ اُٹھایا اور مسلمانوں سے وہ علوم مزید اضافوں کے ساتھ یورپ پہنچائے۔
آج چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ چینیوں نے اپنی زبان کو ترقی دی اور سارے علوم اپنی زبان میں منتقل کر لیےآج چینی طلباءبڑی آسانی کے ساتھ اپنی زبان میں اپنے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سارے علوم حاصل کرتے ہیں۔ یہ نہیں کہ طلباءپہلے بدیسی زبانیں سکھیں اور پھر ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان یا ٹیکنیشن بنیں۔
ہم اپنا کلچر پیدا کرتے، علوم اپنی زبان میں منتقل کرتے، یونیورسٹیاں بین الاقومی معیار کی بناتے ۔ صرف اُن کی عمارات ہی اعلیٰ معیار کی نہ بناتے بلکہ اُن میں اعلیٰ معیار کی تعلیم کا بندوبست کرتے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی پر ہماری دسترس ہوتی۔ ہم اپنی زبان میں سب علوم پڑھتے اور اپنی زبان بول کر اور لکھ کر فخر محسوس کرتے لیکن چونکہ ہم ایک پست ،غلام اور تنزل میں پھنسی ہوئی قوم ہیں جنہیں پاکستانی راہنماﺅں نے غیروں کی غلامی میں پختہ تر کیا ہوا ہے۔ قیام پاکستان سے قبل ہماری غلامی جسمانی غلامی تھی لیکن اب ذہنی ومعاشی غلامی ہے۔ جو جسمانی غلامی سے زیادہ مکروہ ہے۔ آنکھیں رکھنے والوں کو واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ پاکستانی قوم غلام ہے۔ صرف انداز ماڈرن ہو گیا ہے۔ یہ غلامی صرف اور صرف اُس قرضے نے پیدا کی ہے جو ہمارے دو نمبر راہنما ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے لے کر اپنی تجوریاں بھر کر رخصت ہوتے رہے اور غلامی کا طوق عوام کے گلے میں بھاری سے بھاری ہوتا گیا۔
آج اگر قوم پابند ہے تو صرف اس قرضے کی وجہ سے ہے۔ چونکہ ہم غلامی سے نکل ہی نہیں سکے ۔ ہمارے نااہل حاکموں نے قرضے کی لعنت کے نقصانات کو مد نظر ہی نہ رکھا اور قرضے لے لے کر قوم کو دوبارہ ہاتھ پیر باندھ کر بین القوامی سود خوروں کے آگے ڈال دیا۔ اس لئے انگلش پڑھنا اوربولنا ہماری مجبوری بن گئی ہے۔ ہمارے بیچار ے ٹیچر بھی ہمیں یہی پڑھاتے تھے ” کہ چونکہ انگلش ایک بین الاقوامی اور سائنس کی زبان ہے اس لئے اسے پڑھنا ضرور ی ہے۔“ اُن بیچاروں کو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ ہر زبان ہی بین الاقوامی، سائنس و ٹیکنالوجی کی زبان بن سکتی ہے اگر قوم اور اُس کے راہنما کوشش کرکے اپنی زبان کو ایسا بنائیں ۔
چین ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے آج دنیا کے ہر ملک کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ یہ معجزہ کیسے ہوا؟ ایک تو چین کے راہنماﺅں نے بیرونی قرضے نہ لئے دوسرے انہوں نے تہیہ کر رکھا تھا کہ اپنی قوم کو ترقی کی عروج پر پہنچانا ہے۔ اس لئے انہوں نے تمام علوم چینی زبان میں منتقل کئے اور آج سکولوں ، کالجوں، یونیوسٹیوں میں تمام مضامین چینی زبان میں پڑھائے جاتے ہیں ۔ چین کے راہنماﺅں نے چونکہ تہیہ کر لیا تھا کہ ہر چیز اپنے ملک میں بنانی ہے اس لئے انہوں نے سارے علوم چینی زبان میں پڑھے اور چینی انجینئرز اور کاریگروں کو علوم سمجھنے میں آسانی رہی۔ انہی چین کے اندر پڑھے ہوئے انجینئرز اور کاریگروں سے کام لیتے ہوئے حکومت نے بڑے بڑے کارخانے اور پروجیکٹ مکمل کئے ہیں جس سے لوگوں کو روز گار بھی ملا اور ہر قسم کا سامان چین کے اندر سستے داموں بننے لگا۔ آج بین الاقوامی مارکیٹ پر چین کا قبضہ ہے ۔ کوئی ملک اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اور اسی وجہ سے یورپ، امریکہ اور کینیڈا میں ایک نہ ختم ہونے والی کساد بازاری نے ڈیرے ڈال دئےے ہیں۔
چین کے برعکس ہمارے راہنماﺅں نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ یورپ کے ملکوں کےلئے ایک انگریزی پڑھی لیبر پیدا کرنی ہے۔ اس لئے ہمارے راہنما اپنے تہیے میں کامیاب رہے۔ آج پاکستانی یورپ میں جاتے ہی ٹم ہارٹن، وینڈی، میکڈونل یا کسی ویئر ہاﺅس پر 9 یا 10 ڈالر یومیہ پر لگ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے کرپٹ اور کمیشن خور راہنماﺅں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ اپنے انجینئرز اور کاریگروں کو استعمال کر کے پراجیکٹ مکمل نہیں کرنے بلکہ ہر کام کےلئے باہر کی کمپنیوں کو ٹھیکے دینے ہیں۔ اپنے ملک کے عوام کو بطور لیبر تیار کر کے یورپ یا دوسرے ملکوں میں بھیجنا ہے۔ تُف ہے ایسی لیڈر شپ پرجس نے پاکستان کو ایک CONSUMER ملک بنایا ہوا ہے اور پاکستانی عوام کو لیبر بنا کر رکھ دیا ہے۔