کسی بھی ملک کی سیاسی لیڈرشپ کے سامنے اہم ترین کام اپنے قوم کی تعمیر کرنا ہوتا ہے. جدید دنیا کی تاریخ ایسی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے، جس میں بے لوث قیادت اپنے قوم کو آزادی دلانے کے مشکل ترین مرحلوں سے گذر کر قومی تعمیر و ترقی کی راہ میں اپنا کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہے. قیام پاکستان کے بعد اہم ترین مسلہ یہی تھا کہ اس نوزائیدہ مملکت کی قومی تعمیر پر توجہ دی جائے، لیکن بدقسمتی سے قومی تعمیر کے اس اہم ترین مسلے پر مختلف عناصر کے ذاتی مفادات مقدم جانے گئے اور یوں قومی تعمیر و ترقی کا سفر آغاز سے ہی چند عناصر کے مفادات کے حصول کی کشمکش میں تبدیل ہوگیا.
پاکستان بنتے ہی حکمران سیاسی جماعت کے اندر شامل پرانے مسلم لیگیوں اور نئے آنے والے یہاں کے مقامی یونینسٹ جاگیرداروں کے مابین اختلافات شدت اختیار کر گئے. اس دوران وزیر اعظم لیاقت علی خان نے انڈین سول سروس میں شامل، انگریزی حکومت کے وفادار، مسلمان افسروں کو پاکستان منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کیا. ان مسلمان افسروں کی زیادہ تر تعداد ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں سے تھی، جن کو پاکستان منتقل کرکے ملک کی پہلی بیوروکریسی تشکیل دی گئی.
باہر سے آئی ہوئی اس بیوروکریسی کو جلد ہی اس بات کا اندازہ ہوگیا، کہ پاکستان کے مقامی سیاستدانوں کی روش سے اس ملک کا جو سیاسی ڈھانچہ جنم لے گا، اس میں ہماری وہ حیثیت نہیں ہوگی جو آزادی سے پہلے تھی. چنانچہ لیگ میں موجود غیر مقامی سیاسی رہنماوں کو ساتھ ملا کر مقامی سیاستدانوں کو سائیڈ لائن کرنے کی باقاعدہ کوشش کی گئی، جس کے تحت، صوبہ سرحد (خیبر پختنخواہ) کے مقامی سیاسی قوتوں کو ایف سی آر کے تحت جھوٹے مقدموں میں ملوث کر کے قید کیا گیا. سندھی کے مقامی سیاسی عناصر کو پروڈا ایکٹ کے تحت بیکار کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ بلوچستان کو صوبائی درجے سے محروم رکھا گیا. دستور ساز اسمبلی سے قرارداد مقاصد کا ڈرامہ رچا کر، ملک کے نام نہاد مذہبی اساس کے نام پہ قومی اور علاقائی قوتوں کو سیاسی موت مروانے کی کوشش کی گئی.
یہ سب کرنے کے بعد اب ان کے سامنے یہ خطرہ رہ گیا، کہ اگر دستور بنا اور انتخابات ہوگئے تو مشرقی پاکستان کی مقامی قیادت، اکثریت کے سہارے اقتدار پہ قابض ہوجائے گی. اس خوف سے بچنے کے لئے مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کا وجود ختم کرکے ون یونٹ کے نام پر مشرقی پاکستان کے ہم پلہ ہونے کی کوشش کی گئی.
مسلم لیگ کی صفوں میں شامل یونینسٹ جاگیرداروں نے اپنی موقع پرستانہ روش یہاں بھی اپنائے رکھی اور بیوروکریسی کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے مغربیی پاکستان کی سیاست پر قابض ہونے لگے، اور آج انہی لوگوں کا تسلسل ہمارے ملکی نظام میں ایک طاقتور وجود لئے قومی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے.
اس طویل غیر جمہوری ہتھکنڈوں نے قومی اور علاقائی سیاسی قوتوں کو طویل مدت تک قومی سیاست کے دھارے سے دور رکھا جس کا منفی اثر ان کیی سیاست پر یہ بھی پڑا کہ وہ خالص لسانی، علاقائی اور نسلی بنیادوں پر مننظم ہوئے، اور ایک موقع پر انہی مقتدر عناصر کے ہاتھوں استمعال ہو کر بے اثر ہوگئے. مشرقی پاکستان کے رہنماوں نے بعد میں جو مرکز گریز رجحان اپنایا، وہ اس کا ثبوت ہے.
دوسری طرف سیاست میں موجود مذہبی جماعتیں مسلسل اس حسن ظن کا شکار ہو کر مقتدر طبقے کو سپورٹ کرتی رہیں کہ ریاست کی بظاہر تسلیم شدہ مذہبیی اساس ایک دن ان کے مقاصد پورے کردے گا اور یوں یہ مذہبی عناصر اسی مقتدر طبقے کے ہاتھوں ریاست کے دینی اساس کے نام پہ اتنے استمعال ہوئے کہ کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ رہے.
ان تمام تر حالات کا نتیجہ یہ نکلا، کہ ملک میں قومی اثر رسوخ رکھنے والی نہ تو کوئی عوامی جماعت پیدا ہوئی، جو قومی شعور دے سکے، نہ ہی ہم بحیثیتت ایک قوم کھبی متعارف ہوسکے. ملک پر طویل فوجی آمریتوں کا راستہ بھی یہیں سے ہموار ہوا، جس نے مستقبل میں نئے سنگین مسائل کے بیج بو کر آنے والی نسلوں کی زندگی کا اہتمام “بخوبی” کر ڈالا. نتیجتاً غیر جمہوری، غیر شعوری اور غیر تعمیری رویوں نے عوام کو قوم کے بجائے ایک غیر مننظم ہجوم بنا کہ رکھ دیا، اور ان میں اتنی ہمت بھی نہیں رہی کہ اپنے مسائل کی وجوہات کا کھوج لگا سکے.
آج آزادی کے ستر برس بعد جب ہم اپنے اس بھیانک ماضی پر نظر دوڑاتے ہیں، تو ہماری بظاہر آزاد حیثیت ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے. اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ماضی کا تجزیہ کر کے اپنے سیاسی غلطیوں کی نشاندہی کریں، اور مستقبل کے لئے شعوری بنیادوں پر ٹھوس حکمت عملی اپنا کر قوم کو بحران کی اس کیفیت سے نکالیں، ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ قانون فطرت کسی قوم کی سیاسی غلطیوں کو کھبی معاف نہیں کرتا.