علم ایسا زیور ہے جو انسانی معاشرے میں اعلی اخلاق کی خوبصورتی پیدا کرتا ہے،علم جہالت کے اندھیروں کوختم کر کے عقل وشعور کی روشنی سے انسانی سماج کو منور کرتا ہے۔ مثبت انسانی رویے پیدا کر نے میں ممدد اور معاون ثابت ہو تا ہے۔علم حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ انسان کیا ہے؟ زندگی کی حقیقت و ما ھیت کیا ہے؟تخلیق انسانی کا بنیادی مقصد کیا ہے؟تخلیق کا ینات کی اسباب ،وجوہات،اور طریقہ کا ر کیا ہے؟ یہ وہ تما م سوالات ہے جو علم، عقل اور فلسفہ کی بنیاد پہ حل کیے جا تے ہیں۔ اگر علم کو انسانی سماج سے نکال دیا جائے تو اسکی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے انسانی جسم سے روح کا نکل جانا۔اگر روح ہی باقی نہ رہے تو صرف مادی اور مردہ جسم بھلا کس کا م کا؟ لیکن یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ صر ف حصول علم انسانی سماج میں بہتری پیدا نہیں کر سکتا بلکہ ہمیشہ نتا یج تب ہی پیدا ہوتے ہیں جب علم کے نتیجے میں لوگوں کا شعور بلند ہو جا ۓ،۔انسان کی اعٰلی اخلاقی اصولوں پر تربیت ہوتبھی سوسایٹی ترقی کرتی ہے۔ دراصل علم اور تربیت لازم وملزوم ہیں۔ فرض کریں ایک سائینسدان بہت ہی ذ ہین و فطین واقع ہو۔ مگر تربیت سے محروم رہے تو اسکی ایجادات ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حق میں استعمال ہو جاتی ہیں،اور یوں انسانیت استحصال سے دو چار ہو جاتی ہے۔ ایک ڈاکٹر میڈیکل کی مشکل تعلیم حاصل کرتا ہے اور اعٰلی نظریہ اسکے ساتھ ہو تو وہ مسیحا بن جاتا ہے جبکہ اعٰلی نظریہ اور تربیت کے بغیر وہی ڈاکٹر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ایجنٹ کا کردار ادا کرتا ہے۔
اگر ہم اپنے عروج کے ہزار سالہ دورکے نطام تعلیم کابغور جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اس نطام تعلیم نے نہ صرف اپنے زمانے کے بڑے بڑے ساینسدان، انجنیر، ڈاکٹر، ماہرین فلکیات،کیمسٹ اور فلاسفر پیدا کیے بلکہ اعٰلی ا خلاقی رویے بھی انکی شخصیت کا حصہ تھی۔ لذکہ انکی ایجادات سے دنیا کی تمام اقوام مستفید ہوئىں۔ جب ہم عروج کے نطام تعلیم کا اس نقطہ نگاہ سے مطالعہ اور تذکرہ کرتے ہیں تو آج کا نوجواں کنفیوزہوجاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ علم،سائینس، عقل و شعور یہ تو یورپی اقوام کا خاصہ ہے۔ اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ ترقیات کے پیچھے صرف اور صرف یورپ اور امریکہ کا ہاتھ ہے۔ ہمارہ اس میں کوئى عمل دخل نہیں۔ چنانچہ یہی افکار و خیالات اسکو مایو سیوں کے عمیق گہراییوں میں ڈال دیتے ہیں۔ اسکے اندر عمل کا جذبہ، نیی تحقیقات کا شوق ما ند پڑ جا تا ہے۔ وہ یہی سوچتا ہے کہ ہم تو صرف تما شائى ہیں تحقیق کر نے والی اقوام تو وہ ہیں۔ اس طرح ہمارا نوجوان ذہنی طور پر موجودہ ترقیافتہ اقوام کا غلام بن جاتا ہے۔ ہما رے نبی ﷺ پر تو پہلی وحی ہی ” اقراء” تھی لہذا مسلم نو جوان کا علم کے بابت شکوک و شبہات کا شکار ہونا یقینا افسوسناک امر ہے۔ کیا واقعی ہم نے دنیا کی ترقیات و ایجادات میں کوئى قابل قدر کارنامہ انجام نہیں دیا ؟کیا واقعی ہمارا علم،سائینس اور فلسفہ میں کوئى کردار نہیں ؟ آ ئىں ان سوالوں کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرتے ہیں۔
یو نا نیوں کا سائنس و فلسفہ میں کردار:
یو نان اپنی تا ریخی حثیت کی وجہ سے منفر د مقام رکھتا ہے۔ یونان اُن ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جو ایک طویل تاریخ رکھتاہے۔ یہاں پر یو رپین فلاسفی، اولمپک گیمز1، اور سا ؑینس2 کی ابتداء ہو ئی۔ اِس قوم نے سائینس اور دیگر علوم کی ترویج و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ سا تھویں صدی عیسوی تک کرہ ارض کا ترقی یافتہ ملک تھا۔3
علم کسی خاص قوم کی جا گیر نہیں بلکہ دنیا کی مختلیف اقوام نے اپنے دور میں سائینس و ٹیکنا لوجی کی ارتقاء میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔انھیں اقوام میں یونان بھی شامل ہیں۔ یہاں سائینس کی ابتداء ریاضی سے ہوئی۔ ریاضی میں ارشمیدس اور فیثا غورث کے مقام سے کون انکار کر سکتا ہے۔ ان دونوں عظیم ریاضی دانوں کا تعلق یونان سے تھا۔ اِسی طرح جیومیٹری، اورنظریاتی سائینس میں بھی اِس قوم نے گراں قدر کارنامے سرانجام دیے۔ لیکن شومئ قسمت کہ یونان اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ جنگ وجدل میں مصروف ہو گیا اور رومن ایمپیائر سے شکست کھانے کے بعد یہ قوم زوال پذیر ہوگئ۔ سائینس و ٹیکنالوجی کو فروغ دینے والے علمی گہوارے ویرانوں میں تبدیل ہو گىے۔ رفتہ رفتہ اِس کا نام صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔
مسلمانوں کی سائینسی ترقی میں کردار:
ہما ری گفتگوکا مقصد مسلما ن سائینسدانوں، ڈاکٹروں اور دیگر علوم کے ماہرین کے علمی و سائینسی کارناموں پر روشنی ڈالنا ہے۔ اور یورپ کے اس دعٰوی کا حقا یق کی روشنی میں تجزیہ کرنا ہے کہ سائینس میں ہمارے سواء باقی اقوام کا کوئی خاص رول نہیں۔ اگر کوئی یورپ میں ہسٹری آف سائینس کا مطالعہ کرے تو یورپین جا بجا یہ دعویٰ کر تے ہوۓ نطر اتے ہیں، اورا سکا اثر یہ ہواکہ ہمارا نوجوان اُن سے مرعوب اور خود سے مایوس ہوگیا۔ لیکن حقیقت تو اسکے برعکس ہے مسلمانوں کی علم دوستی کا اندازہ سیدنا انس رض کے اِس قول سے لگایا جا سکتا ہے کہ ” جو اَستاد اپنے بچوں کی دھوئی ہوئی تختی کے پانی کی حفاظت نہیں کرتا – چاہے یہودی مرے یا عیسائی۔ اسی طرح خلافت راشدہ کے دور میں تختی کا پانی ایک گڑھے میں ڈال دیتے۔ بلکہ اُس زمانے کے سارے لوگ تختی کے دھوؤن کا پانی سمندر، دریا ، کنویں یا پاک گڑھے میں ڈال دیتے تاکہ پاؤں تلے روندہ نہ جا ۓ4۔” اب آپ خود اندازہ كىجىےکہ جو لوگ تختی کے پانی کی اِتنی قدرو عزت اور حفاظت کرتے ہیں وہ بھلا سائینسی علوم میں کیسے پیچھے رہتے۔
مسلمانوں کی علم دوستی کا ایک اور ثبوت:
مسلمانوں سے پہلے علم کا ذخیرہ یونانی، لاطینی، سنسکرت، اور سریانی زبانوں میں موجود تھا۔ چنانچہ خلیفہ المنصور کے عہد حکو مت میں مندرجہ بالا زبانوں میں موجود کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ کرنے کی تحریک شروع ہوئی۔ یہ تحریک دو سوسال کے عرصے پر محیط ہے،یعنی اگلے دو صدیوں تک یونانی، سریانی اور دیگر زبانوں سے کتابیں عربی زبان میں ترجمہ ہوتی رہیں۔ اِس میں ہندوستان سے لاۓگىے چند کُتب بھی ترجمہ ہوۓ جس میں ریاضی اور علم فلکیات کے مسودات شامل تھے۔ مامون رشید کے دورِخلافت میں یہ تحریک اپنے بامِ عروج کو پہنچی۔ انھوں نے 830ء میں بیت الحکمۃ کے نام سے ایک اکیڈمی (ریسرچ سنٹر) قائم کی۔ یہ ریسرچ سنٹر اپنے دور کا سب سے بڑا تحقیقی ادارہ بن گیا۔ اِس پر دو لاکھ دینار( 950000 ڈالر) کا خرچہ آیا تھا۔اِس میں لائبریری، سائنسدانوں کے قیام کے لیے مکانات، سائینسی ساز و سامان اور ایک دارلترجمۃ بھی تھا۔ ہر مذہب کے ماننے والے چاہے وہ ھندوؤں ہو،پارسی، یہودی یا مسلمان ہر کسی کو بغیر رنگ،نسل اور مذہب کےریسرچ کرنے کی آذادی تھی۔ ترجمے کی ایسی ہی تحریک اسپین میں 12 صدی میں شروع ہوئی اور وہاں بھی بغداد کی طرز سكول آف ٹرانسلىشن ركھى گئى۔
جارى ہے۔۔۔۔۔!!!