سائنس اور ٹیکنالو جی کی حیرت انگیز ایجادات کے باوجو د ہماری ملکی آبادی کی اکژیت زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے یوں ہماری ملکی ترقی اور خوشحالی کا زیادہ تر انحصا ر زراعت کی ترقی پہ ہے۔ جیسے جیسے ملکی حالات بہتر ہوتے جارہے ہیں ویسے ویسے ہی عوام الناس کی معاشی حالت اور قوتِ خرید بہتر ہو تی چلی جارہی ہے۔ ایسے میں فی کس غذائی ضروریات اور حیو انی لحمیا ت کی ضرورت بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور غذائی ضروریات کے باعث زراعت اور لائیوسٹاک کی اہمیت دن بد ن بڑھتی چلی جارہی ہے اورغذائی اہمیت کے یہ شعبہ جات ملکی معیشت میں مذید بہتر مقام بناتے چلے جارہے ہیں یہ مسلّمہ امر ہے کہ صحت مند معاشرے کی معیشت میں مو یشی اہم کر دار اد ا کرتے ہیں۔شعبہ لائیو سٹاک زراعت میں ریڑھ کی ہڈ ی کی حیثیت رکھتا ہے اور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے ملکی GDPمیں اس کا حِصّہ تقریباََ 11.80فیصد اور زرعی GDPمیںتقریباََ 55.60فیصد حصہ ہے۔ لائیو سٹاک کی اہمیت اس حقیقت سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ 67.435ملین دیہی آبادی اس شعبہ سے وابستہ ہے جو اپنی آمد نی کا 35.40فیصد اسی شعبہ سے حاصل کر رہی ہے۔
لائیو سٹاک سیکٹرکے تقریباََ سبھی حوالو ں سے پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے پاکستان کے لائیو سٹاک کی تعداد کا تقریباََ 43.40فیصد حصہ اس صوبہ میں پایا جاتا ہے۔ اسی طرح ملکی دودھ اور گوشت کی پیداوار کا خاطر خواہ حصہ بھی یہیںپیدا ہوتا ہے۔ پنجاب کی دیہی آبادی میں لائیو سٹاک کا شعبہ بے زمین مو یشی پال حضرات کو روزگار بھی فراہم کر رہا اور شہری آبادی کی غذائی ضروریا ت کا اہم جز و یعنی حیو انی لحمیا ت بھی لائیو سٹاک سیکٹر کا مرہون منت ہے۔ مو یشیوں سے حاصل کر دہ غذائیں مثلاََ دودھ، گوشت ، گھی وغیرہ چونکہ ہماری قومی صحت کی ضامن ہیں اس لیئے مو یشیوں کی دیکھ بھال بہتر کرکے ہم اپنی غذائی ضروریا ت کو بطریق احسن پورا کر سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں مو سمی تغیرّو تبدّل کا خیال رکھنا ازحد ضروری ہے۔ اگر چہ ہمارے مو یشی ملکی موسمی صورتحال سے قریب قریب مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں لیکن شدید مو سمیاتی تبدیلیاں مو یشیوں کو بھی متاثر کر تی ہیں ۔
گلو بل وارمنگ کے اثرات پاکستان پہ بھی مر تب ہورہے ہیں جس کے تحت گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ پاکستان کے اکثر علاقوں کے موسم شدید گرم ہوتے ہیں جن سے نبرد آزما ہونے کے لیئے دیہاتی زندگی میں انسانو ں اور حیو انوں دونوں کو زیادہ اعصابی تناوٗسے نبرد آزما ہو نا پڑتا ہے اور دباوٗ کی اس کیفیت میں جانو روں سے حاصل ہونے والی غذائی اشیا ء مثلاََ دودھ، گوشت اور انڈوں کی پیداوار میں واضح کمی واقع ہو جاتی ہے اور یو ں شدید گرمی نہ صر ف جسمانی لحاظ سے بلکہ اقتصادی لحاظ سے بھی ہمارے لیئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ ترقی یا فتہ ممالک کے فارمرز نے بجلی ، شمسی تو انائی اور دیگر زرائع کو تا بع کر کے نہ صر ف اپنے لیئے بلکہ اپنے جانوروں کے لیئے بھی زیادہ سے زیادہ آسائشیں مہیاکر رکھی ہیں جبکہ ہم ابھی تک مشینی دور کی ان سہو لتوں سے مکمل طور پہ استفادہ نہیں کر پا رہے توانائی کے بحر ان اور بجلی کی عدم دستیابی کے مسائل نے ابھی تک ہماری دیہی حیات کو اپنے شکنجو ں میں جھکڑ رکھا ہے۔ ان حالات میں گرمی کے شدید اثرات کم سے کم کرنے کے لیئے ایسے ذرائع معلوم کرنا ضروری ہیں جو کہ ہمارے ملک کے ایک عام زمیندار کے لیئے کم خرچ ہونے کے ساتھ ساتھ قابل عمل بھی ہوں۔گرمی کی شدت میں کمی کرنے کے لیے ہمیں ان اسباب پہ غور کر نا ہو گا جو کہ گرمی کے اضافے یا کمی کا باعث بنتے ہیں ۔مو سم کی شدت کے بڑھانے یا کم کرنے میں درجہ حرارت ، ہو ا میں رطوبت، ہوا کی رفتار اور سورج کی شعاعیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان چاروں چیزوں کے مجموعی اثرات سے ہر جاندار آرام یا تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے۔ہمارے روزمرہ کے تجربہ میں یہ بات آئی ہے کہ اگر درجہ حرارت اور نمی کو بآسابی تبدیل نہ بھی کیا جاسکے تو ہوا کی رفتار بڑھانے سے نسبتاََآرام ملتاِ ہے کیو نکہ ہو ا کی تیز رفتارسے ٹھنڈک کا احساس بڑ ھ جاتا ہے۔ یو ں اگر گھر وں یا باڑوں میں روشن دان وغیرہ کے ذریعے گرم ہو ا کی نکاسی کا بندوبست کیا جائے تو گرمی کی شدت میں کمی واقع ہوجاتا ہے۔ اسی طرح رہائش گاہ کے اردگرد پودوں اور درختوں کی موجو دگی سے سایے اور نمی کی ذیادتی ٹھنڈک کا احساس پیدا کر تی ہے۔ عمارت کی دیواریں ٹھنڈی ہو ں گی تو مکین راحت محسو س کریں گے۔
اسی طرح اگر عمارت میں کھڑکیاں کا فی ہو ں گی تو سایہ دار درختوں کے نیچے سے باہر کی ہوا ٹھنڈی ہو کر کمروں میں داخل ہو گی اور اس سے گرمی کی شدت میں بھی کمی آ جائے گی۔ درجہ حرارت کومزید کم کرنے کے لیئے وائر پمپ کی ہلکی پھوار سے بھی کام کیا جاسکتاہے۔ لیکن اس سلسلے میں قابل غور امر یہ ہے کہ ہو ا میں نمی کے تنا سب کو ایک خاص حدسے نہ بڑھنے دیا جائے کیو نکہ جانو ر پیشاب،گو بر اور سانس کے ذریعے بھی نمی خارج کر تے رہتے ہیں اور زیادہ نم دار عمارت میں رہائش پذیر جانوروں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کر نا پڑتا ہے اس لیئے ضروری ہے کہ جانوروں کی رہائش گاہیں نم دار زمین تعمیر نہ کی جائیں اور نہ ہی ان کے ارد گرد بارش کا یا دیگر نکاسی کا پانی کھڑا ہو نے دیا جائے ۔ کنکریٹ کا فرش عمو ماََ سردیو ں میں گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈ ا رہتا ہے۔ لیکن ایسے فرش کی تعمیر پر لاگت کچھ زیادہ آتی ہے۔ جبکہ اینٹوں کا فرش بھی ایسا ہی تاثر پید اکر سکتا ہے۔
دیہات میں کچھ عمارتیں بنانے کا رواج عام ہے جن کی چھتیں بھی چھپر وغیر ہ کی یا کٹریو ں کی ہو تی ہیں۔اس لیئے خیا ل رکھنا چاہیئے کہ ایسی چھتیں ٹپکنے نہ پائیں ۔ ان پہ زیادہ مٹی ڈالنے سے گرمی کے اثرمیں کمی آ جاتی ہے۔ لیکن اس کے برعکس اگر چھتیں ٹین ، ٹائیلو ں یا کسی اور دھات کی ہو ں تو ان پر سفیدی کر کے سورج کی تپتی شعاعوں کو منعکس کیا جاسکتا ہے۔
انسانو ں کی طرھ جانو روں کی بھی یہ کوشش ہوتی ہے کہ شدید گرمی کے اثرات کو اوکا جاسکے اور اس کے جسم کا درجہ حرارت زیادہ نہ بڑھنے پائے اس لیئے گرمی کے مو سم گرمیوںمیں پانی کا استعمال بڑھ جاتا ہے اور جانو ر چر نا کم کر دیتے ہیں۔ خو راک کم کھانے کی وجہ سے جانور نسبتا کمزور ہو جاتے ہیں ۔ گرمی کی شدت کے باعث جانور ایک دوسرے سے تھوڑا فاصلے پہ رہتے ہیں ۔
گرمی کے شدید اثرات کے باعث پرندے اپنے پروں کو پھیلا لیتے ہیں اور چونچ کھو ل لیتے ہیں مرغیو ں میں انڈ وں کی پیداوار کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ جسم کی گرمی باہر نکالنے کے لیئے قدرتی طور پہ سانس کی رفتا ر تیز ہو جاتی ہے۔ درجہ حرارت مزید بڑ ھنے کی صورت میں جانور جسم کو پھیلا تا ہے اور زبان باہر نکال کر زیادہ تیز ی سے سانس لیتا ہے جس کا مقصد جسم سے تیز ی سے گرمی خارج کرنا ہے۔ اگر درجہ حرارت اس سے بھی بڑھ جائے تو جانور لڑ کھڑانے لگتا ہے اور ایسی صورت میں جانور کی جان کو خطر ہ لاحق ہو سکتا ہے۔
مغربی ممالک کا درجہ حرارت اتنا شدید گرم نہیں ہوتا ہے اس لیئے ان ملکو ں کے جانور ہمارے جانوروں کی نسبت بہتر نشو نما پاکر نسل کشی کا قابل ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہاں کے لوگ ہمارے مو یشی پال حضرات کی نسبت جانوروں سے زیادہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں جانوروں کو طاقت بحال رکھنے کے لیئے زیادہ قوت بخش خوراک دینی چاہیئے کیونکہ زیادہ ریشہ دار اجزا والی خوراک جانوروں کو اچھی طرح ہضم کرنے میں دقت ہوتی ہے۔ اس سے پیاس بھی زیادہ لگتی ہے اور جانور گوبر کے ساتھ غیر ہضم شدہ اجزاء زیادہ مقدار میں خارج کر نے لگتا ہے۔جبکہ اس کے بر عکس تازہ چاروں میں پانی کی مقدار تقریباََ 80فیصد سے زیادہ ہوتی ہے۔
گرم مو سم میں چاہیئے کہ جانوروں کو کھلی ہو ا اور سایہ دار جگہوں پر رکھیں۔ جانور وں سے تیز دھو پ میں زیادہ کام نہ لیا جائے ۔ چند میل چلانے کے بعد مو یشیو ں کو کچھ دیر کے لیئے آرام دیا جائے اور انہیں پانی وافر مقدار میں پلایا جائے۔ بھینسوں کو کھلے پانی میں نہلانے سے گرمی کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔