دور حاضر کا المیہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے بنیادی مسائل مثلاً غربت ، بےروزگاری، معاشی استحصال پر گفتگو شاذونادر ہی کرتے ہیں۔ مذہب کی صحیح تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے کہ ہم صرف عقیدوں کی اصلاح یا دوسروں کے عقیدوں پر تنقید یا انہیں غلط ثابت کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اس لیے جب بھی بنیادی مسائل کا ذکر ہوتا ہے تو ہم یا تو اس کو مقدر کے فیصلے قرار دیتے ہیں یا انفرادی اصلاح کے نام پر فرار کے دوسرے راستے اختیار کر لیتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک مولانا صاحب کا یہ فرمانا تھا کہ دہشت گردی سے ہمارا ملک کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوگا اور ہنستے مسکراتے ہوئے ہمیں بھیڑ بکریوں سے تشبیہ دیتے ہوئے یہ تک کہہ گئے کہ ریوڑ تو ذبح ہوتے رہتے ہیں ان کی تعداد میں تو کبھی کمی نہیں آتی۔ اس کے مقابلے میں کتے ذبح نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود ان کی تعداد محدود ہوتی ہے۔ ان کی عقیدت اور احترام کے پیش نظر کسی میں یہ سوال کرنے کی جرأت نہ ہوئی کہ ملک کمزور کیسے نہیں ہوگا؟ کمزور نہیں ہوگا تو مضبوط ہونے کی کیا دلیل ہے؟ نہ کوئی مکالمہ ہوا کہ انسان کو تو اللہ نے اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے، اسے جانوروں کی قربانی سے تشبیہ دینے کی کیامنطق ہے؟ ملک میں اس وقت 2 کروڑ بچے مزدوری کر رہے ہیں لیکن ملک کمزور نہیں ہوگا۔ دہشت گردی کی وجہ سے اب تک ملک کو 75 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا اور لاکھوں لوگوں کے گھر اجڑ گئے، لیکن پھر بھی ملک کمزور نہیں ہوگا۔ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی بسر کر رہی ہے لیکن ملک مضبوط ہوگا، کمزور نہیں ہوگا۔ یعنی جو بھی ظلم ، زیادتی ،ناانصافی اور قتل و غارت گری ہو رہی ہے اس پر مطمئن رہیں اور محض چند عبادات اور اپنی وضع قطع پر توجہ دیں، باقی مسائل خود بخود ٹھیک ہوجائیں گے۔
ایک اور مولانا صاحب کا یہ فرمانا تھا کہ دینِ اسلام امن کا درس دیتا ہی نہیں بلکہ غیرت کا درس دیتا ہے۔ موصوف کی بات اسلامی نظریات و تاریخ کے منافی تو ہے ہی لیکن اگر صحیح بھی مان لی جائے تو بھوک و افلاس، غربت، مہنگائی، معاشی استحصال اور دہشت گردی جیسے مسائل کے لیے ان کی اسلامی غیرت کہاں چلی جاتی ہے؟ اس کو بنیادی ذمہ داری سے فرار نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے؟ ان کی ساری توجہ غیرمسلموں سےلڑنے اور پہلے سے موجود مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے تک ہی محدود رہتی ہے اور وہ اسی کو دین کی خدمت سمجھتے ہیں۔
دین کے یہ نام لیوا اس حقیقت کو کیوں فراموش کردیتے ہیں کہ ’’جب بھوک دروازے پہ دستک دیتی ہےتو عقیدے کھڑکیوں سے باہر بھاگ نکلتے ہیں‘‘۔ ہم میں سے کم و بیش ہر ایک اس مشہور حدیث سے واقف ہے جس میں نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ’’ قریب ہے کہ مفلسی انسان کو کفر تک پہنچا دے۔ ‘‘
اس طرح کے رجعت پسند اور تنگ ذہن ماحول میں رہنے کے بعد ہمیں اشتعال انگیزی، شخصی عقیدت اور انتہاپسندی جیسے روّیے تخفے میں مل جاتے ہیں ۔ حرمت رسولﷺ پر تو ہر کوئی جان کی قربانی دینے اور دوسروں کی جان لینے کو تیار ہے لیکن اسی رسولﷺ کے اپنے مخالفین کے ساتھ عفو ودرگزر اور رحمت و شفقت کے تمام معاملات بھلائے بیٹھے ہیں۔
دینی عقیدت کے نام پر دوسروں کا خون بہانے کیلئے تو ہر کوئی تیار ہوتا ہے لیکن اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ اسی خون کا عطیہ دینے سے انسانی جانوں کو بچایا جاسکتا ہے تو خاموشی سے پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں۔
دین کے متعلق یہی وہ فرسودہ اور جامد نظریات ہیں جو ہماری اجتماعی سوچ اور قومی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ’’ اگر تم اللہ سے محبت کے دعویدار ہو تو حضور اکرم ﷺکی اتباع کرو“۔
حضور اکرمﷺ نے ساری زندگی انسانیت کا درس دیا ، آپﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ انسانوں کو دوسرےانسانوں کی غلامی سے آزاد کروا کر ایک اللہ کی غلامی میں لایا جائے۔ کلمہ طیبہ صرف چند الفاظ نہیں ہیں کہ ثواب کی نیت سے پڑھ لیے اور ہر حرف کے بدلے نیکیاں حاصل کرلیں۔ اس کا بنیادی مقصد انسانیت کوغلامی سے آزاد کروانا، انسانی وحدت و مساوات کا قیام اور ظلم کے نظام کی جگہ سیاسی ، معاشی اور سماجی عدل کے نفاذ کی جدوجہد کرنا ہے۔
سیرت نبویﷺ کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ طبقاتی تقسیم اور غلامی کا اہم ترین سبب مکہ کے سرداروں کاقائم کردہ ظالمانہ سیاسی، معاشی اور سماجی نظام تھا۔ ابوجہل ، ابو لہب اوردیگر سردارانِ قریش کا وہ ظالمانہ نظام جس نے انسانوں سے انسانیت چھین لی تھی۔ بھائی بھائی کا دشمن تھا، بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتا۔ دور حاضر کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارے حکمران بھی اسی طرز کا نظام ظلم چلا رہے ہیں۔ وسائل سے مالا مال ہمارا یہ ملک بھوک، افلاس اورغربت کا شکار ہے کیونکہ وسائل پہ قبضہ سرمایہ داروں کا ہے۔ ایسے میں ظاہر ہے عام پاکستانی مذہبی جماعتوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر اس ملک میں عدل کے نظام کے قیام کے لیے کردار ادا کریں۔ لیکن ہماری مذہبی جماعتیں یا تو مساجد اور اخلاقی و عظ ونصیحت تک محدود ہیں یا حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر کے اسی سرمایہ دارانہ نظام کو صحیح اور عدل کے تقاضوں کے عین مطابق ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی تعداد 174 ہو گئی ہے اور ہر کسی کے پاس عوام کو بےوقوف بنانے کے نت نئے طریقے ہیں۔
ایسے میں وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ قومی سوچ پیدا ہو، مسائل کی جانچ پڑتال کے لیے آزاد ذہنیت پیدا ہو اور نوجوان قیادت سیرت نبوی ﷺکو سامنے رکھتے ہوئے علم و شعور کی بنیاد پر آگے بڑھے ۔ ہمیں اپنے عقائد کی درستگی کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے انسانوں کے عقائد کا بھی احترام کرنا ہے اور عقل و دلیل کی بنیاد پر مکالمے کو فروغ دینا ہے۔
دین اسلام کی تعلیمات انسانوں کے عقائد کے حوالے سے بھی بڑی صاف ہیں کہ مسلمان دوسرے مذاہب کے دیوی دیوتاؤں اورخدا کوبُرا بھلانہیں کہہ سکتا، قرآن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ وہ جن کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ تم انہیں برا بھلا نہ کہو۔ کہیں وہ غصہ میں آکر اپنی لاعلمی اور جہالت کی بنا پر خدا کو کوسنا اور برا بھلا کہنا شروع نہ کردیں ۔
قرآن کے بعد مسلمان حدیث کو درجہ دیتے ہیں ۔ ایک حدیث میں آیا کہ رسول کریم ﷺکے ایک صحابی حضر ت عبداللہ ؓ بن عمر نے ایک دفعہ ایک بکری ذبح کی۔ ایک یہودی ان کے ہمسایہ میں رہتا تھا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ آیا اس نے یہودی ہمسایہ کو گوشت بھیجا ہے یا نہیں۔ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ تو حضرت عبداللہ ؓ نے کہا کہ اسے فوراً کچھ گوشت بھیج دو کیونکہ رسول کریمﷺ ہمسائے کے حقوق پر اتنا زور دیتے تھے کہ بعض اوقات ہم یہ سمجھنا شروع کردیتے تھے کہ کہیں ہمسایہ وراثت میں بھی حصہ دار نہ ہوجائے۔ اس واقعے میں ہمارے لئے یہی سبق ہے کہ دین اسلام میں حقوق و فرائض اور حسن سلوک کے حوالے سے مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تقسیم نہیں ہے۔ بلکہ دین اسلام کی دعوت کے فروغ کے لئے تو غیر مسلم ہمارے حسن سلوک کے زیادہ مستحق ہیں۔
سیرت نبویﷺ کے یہی وہ نمایاں پہلوں ہیں جس کے نتیجے میں اسلام دنیا میں امن و سلامتی کا علمبردار بنتا ہے، انسانیت ترقی کرتی ہے، مسائل حل ہوتے ہیں اور عدل کا وہ اعلیٰ نظام قائم ہوتا ہے جس میں بلا رنگ، نسل اور مذہب کے تمام انسانوں کے سیاسی ،سماجی اور معاشی حقوق کے تحفط اور فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔