ایک بہت اہم سوال جو اکژ پاکستانیوں کو کرتے سنا ہے، وہ ہے طرز حکومت کس طرح کا ہو؟ پاکستان بننے کے بعد ہم نے بھی کئی طرح کے طرز حکومت بدلے: صدارتی بھی اور پارلیمانی بھی اور ان کے چربے بھی تیار کیے۔ لیکن پھر بھی ہماری قسمت نہیں بدلی۔ جنوبی کوریا نے بھی کئی طرز حکومت بدلے۔ کئی طرح کے صدارتی طرز حکومت اور نیم کیپیٹلسٹ معاشی نظام اور ان کے چربے بھی۔ ۱۹۴۸ ء سے ۱۹۶۰ ء تک کوریا کی معاشی حالت پاکستان سے بھی پتلی تھی۔
پھر اسی صدارتی طرز حکومت سے ان کی معیشت اور معاشرے کا امن کیوں بحال ہو گیا؟ چین میں ایک کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ہے لیکن انڈیا میں جمہوریت ہے، پھر بھی انڈیا چین سے بہت پیچھے ہے۔ امریکہ کی معیشت خالصتاً کیپیٹلسٹ ہے، جہاں دفاع بھی پرایئویٹ ہے، جبکہ کینیڈا پارلیمانی جمہوری اور نیم کیپیٹلسٹ معاشی نظام رکھتا ہے اور ایمپیریل بلاک کی سیاست کرتا ہے۔ (نیم کیپیٹلسٹ معاشی نظام سے میری مراد وہ نظام جس میں کئی ادارے حکومت چلا رہے ہوں، جیسے توانائی، دفاع، بجلی، معدنیات، اور پانی، وغیرہ وغیرہ) ان سب تضادات کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ انڈسٹریل انقلاب کا تعلق معاشی نظام یا طرز حکومت سے نہیں ہوتا ہے، (نہ ہی صنعتی انقلاب جمہوریت سے پیدا ہوتا ہے) بلکہ انڈسٹریل انقلاب ایک الگ سوچ سے پھوٹتا ہے۔ صنعتی معاشرے کی تشکیل کے لیے صنعتی سوچ پیدا کرنا پڑتی ہے۔ طرز حکومت جو بھی رکھیں اور معاشی نظام جو بھی بنائیں، صنعتی معاشرہ یا صنعتی سوچ ایک الگ چیز ہے۔ ایک صنعتی معاشرےکے افراد بھوکے بھی ہو سکتے ہیں اور وہ بہتر معاشی زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔
سامراجی سیاست کے حامل ملک زیادہ انڈسٹریل ہو سکتے ہیں،اور اکثر ہیں بھی۔ کیونکہ سامراج حد سے زیادہ کام کروا کے ہی لوگوں کی محنت سے غلبہ قائم رکھتا ہے اور پھر جب وہ پیسہ لوگوں میں تنخواہ کی صورت میں دینے کی باری آتی ہے تو سامراج دیکھتا ہے؛ کیا سماج میں اتی طاقت ہے کہ وہ اس سے منافع لے لے!۔ اگر سماج طاقتور ہو تو وہ کچھ حصہ دے دیتا ہے، لیکن اگر کمزور یا ڈرپوک ہو تو سارا منافع نئی جگہ پہ انویسٹ کرکے مزید طاقت حاصل کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں لوگ مزید کمزور اور لاغر ہوتے جاتےہیں۔ سامراج کی سیاست اور معیشت دونوں میں ایک ہی پالیسی ہے؛ پہلے ڈراؤ، اگر ڈر جائے تو اور مارو اور اگر نہ ڈرے تو صلح کر لو۔ (یہ واقعہ حالیہ دنوں میں ٹرمپ اور شمالی کوریا کی لیڈرشپ میں ہوا ہے، جب ٹرمپ کے ڈرانے کے باوجود بھی کیم نہیں ڈرا، تب ملنے کی خواہش ظاہر کر دی گئی۔ یہ سب چالیں میکاولی کو پرھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں)
اب اگر اپنی ترقی کی بحث کو جاری رکھیں تو ہمیں پتہ چلے گا ترقی کا تعلق طرزحکومت سے نہیں، بلکہ قیادت کے اخلاص سے ہوتا ہے۔ مخلص قیادت کے بغیر( طرز حکومت جو بھی ہو) ترقی ممکن نہیں ہے۔ اب قیادت ایک سسٹم کےذریعے اوپر آتی ہے، اگر سسٹم کرپٹ اور نااہل ہو تو کبھی بھی اچھی قیادت اوپر نہیں آئے گی۔( سسٹم ایک چھاننی کی طرح ہے، جس کے سوراخ مخصوص لوگوں کو ہی گزرنے دیتے ہیں۔ وہ مخصوص لوگوں کی خصلت میں عوام دوستی نہیں، بلکہ اپنے ذاتی اغراض کے لیے ہر جنس کے سوداگروں جیسی ہوتی ہے۔ یہ سوداگر ضرورت پڑنے پر ہر رنگ، ہر عقیدہ، ہر اصول اپنالیتےہیں اور چھوڑ بھی دیتے ہیں۔ ان سوداگروں کے کئی روپ ہوتے ہیں۔ یہ خدا کے نام پر لوٹتے ہیں اور قوم پرستی کے نام پر بھی۔ ان کو پہچاننے کے لیے آنکھیں پیدا کرنی ضروری ہیں۔)
ترقی کے راستے کی ایک اور بڑی رکاوٹ ( جو کہ وطن عزیز میں بھی غالب ہے) ایک طرز حکومت پر متفق گروہوں کی اقتدار کی ہوس ہوتی ہے۔ حکمران طبقہ اپنا اقتدارحاصل کرنے کے لیے آپس میں لڑتا رہتا ہے اور اس دوران ملک کا بیڑا غرق کر دیتا ہے۔
اگر ہم جنوبی کوریا کے پہلے صدر (جو کہ امریکی حمایت یافتہ تھا اور الیکشن کےذریعے منتخب ہوا تھا) کی پالیسوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ وہ مسلسل ۱۲ سال تک اپنی حکومت کو دوائم دینے میں لگا رہا اور اقتدار کی جنگ میں ملک کی ترقی پر فوکس نہیں کیا۔ جب حکمران ترقی کی پالیسیاں بنانے کی بجائے اقتدار کو بچانے اور دوائم دینے کی پالیساں بناتے ہیں تو ان اقوام میں خانہ جنگیاں اور محلاتی سازشیں شروع ہو جاتی ہیں اور عوام مزید بھوک کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی پاکستان کے حکمران دھڑے کر رہے ہیں اور بڑہتی ہوئی آبادی کی ضرورتوں سے ناواقف بنے ہوئے ہیں۔