میرے زمانہ لڑکپن میں بھی جمعہ کا دن ہفتہ (Week) کا ایک عام دن ہوا کرتا تھا۔ میں گائوں سے چل کر میاں چنوں شہر کی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے جاتا، جہاں ہزاروں نمازیوں سے نماز سے قبل اور بعد میں ملاقات ہوتی مگر کبھی کسی ایک شخص کے منہ سے بھی ’’جمعہ مبارک‘‘ کے الفاظ سننے کو نہیں ملتے تھے۔ آج پچاس پچپن برس بعد پاکستان کی کسی بھی مسجد میں نمازِ جمعہ کے لیے چلے جائو، ہر نمازی دوسرے کو ملتے ہوئے جمعہ کی مبارکباد دے رہا ہوتا ہے۔ اِس پر مستزاد یہ کہ اُس روز صبح ہی سے سوشل میڈیا پر جمعتہ المبارک کے اتنے پیغامات موصول ہونے شروع ہوتے ہیں کہ دوپہر تک موبائل فون پر سٹوریج فُل کا سندیسہ مل جاتا ہے اور ایسے پیغامات کے ساتھ کئی اقوالِ زریں اور احادیثِ نبوی بھی نقل کی گئی ہوتی ہیں جن میں جمعہ کے دن کی فضیلت بیان کی گئی ہوتی ہے۔ میرا اپنے اہلِ ایمان بھائی بہنوں سے سوال ہے کہ کیا نصف صدی قبل تک جمعہ بھی ہفتے کے دیگر دنوں کی طرح ایک عام دن ہوا کرتا تھا یا کہ اُس وقت تک مسلمانوں کو دوسرے دنوں کے مقابلے میں اِس کی اہمیت و فضیلت کا علم واحساس نہیں ہوا تھا؟ اِسی طرح چند عشرے قبل تک جب دوست احباب میں سے کوئی ہم سے جُدا ہورہا ہوتا تھا تو اُسے ’’خدا حافظ‘‘ کے الفاظ سے الوداع کیا جاتا تھا مگر اب یہ اصطلاح بھی بدل کر ’’اللہ حافظ‘‘ ہوگئی ہے۔ ہمارے عُلمائے دین کا کہنا ہے کہ قرآنِ کریم میں کہیں بھی خدا کا لفظ نہیں ملتا، خالقِ کائنات کے لیے ہر جگہ اللہ کا لفظ ہی استعمال ہوا ہے۔ علاوہ ازیں یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ عیسائی برادری خداوند کا لفظ حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کے لیے استعمال کرتی ہے اِس لیے اللہ کو خدا کہنا معیوب ہے۔ جہاں تک اِس بات کا تعلق ہے کہ قرآنِ کریم میں کہیں بھی خدا کا لفظ استعمال نہیں ہوا تو یہ کوئی معقول دلیل اِس لیے نہیں ہے کہ خدا عربی کا نہیں فارسی زبان کا لفظ ہے جو وہاں سے اردو میں مستعمل ہوا ہے۔ اِس لیے قرآن میں کسی غیر عربی لفظ کی گنجائش ہی کہاں تھی۔ اِس دلیل کو مزید پرکھا جائے تو پھر ’’نماز‘‘ کا لفظ بھی پورے قرآن مجید میں کہیں نہیں ملتا۔ اُس کے لیے بھی صلوٰۃ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے تو پھر کیا ہم نماز کے لفظ کو بھی ترک کرکے اُس کی جگہ صلوٰۃ کا لفظ استعمال کیا کریں۔ وضاحتاً میرا مطلب یہ ہے کہ جس طرح عربی لفظ صلوٰۃ کا اردو ترجمہ نماز ہے اُسی طرح عربی لفظ اللہ کا اردو ترجمہ خدا ہے۔ اِس ضمن میں مرزا غالب سے لے کر احمد ندیم قاسمی تک بے شمار قادر الکلام شعرائے کرام کے کلام سے ہزاروں مثالیں دی جاسکتی ہیں جن میں ربِ کریم کے لیے خدا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں میں صرف مفکّرِ اسلام علّامہ اقبال کے کلام سے مندرجہ ذیل مثالیں پیش کروں گا ؎
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
یہاں تک کہ علاّمہ نے تو ’’خداوند‘‘ کی اصطلاح بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کے استعمال کی ہے ؎
خداوند یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے، سلطانی بھی عیاری
ہوا یہ ہے کہ ہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ’’نیم حکیم خطرہ جان نیم مُلاّ خطرہ ایمان‘‘ جیسے محاورے کے نصف آخر کا شکار ہوتے چلے گئے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں کوئی اَن پڑھ یا نیم خواندہ شخص اگر قرآنِ حکیم کی چند سورتیں حفظ کرلے اور اُسے چند لوگوں کے سامنے بولنا آجائے تو بآسانی کسی نہ کسی مسجد کی امامت سنبھال سکتا ہے اور وہاں بولنا چونکہ صرف اُسے ہی ہوتا ہے، اِس لیے وہ اپنے آپکو عالمِ دین کے منصب پر فائز کرکے ہی سنی سنائی بات کو بغیر کسی تحقیق کے لوگوں کے گوش گزار کرتا چلا جاتا ہے اور ہمارے وہ علمائے کرام جو علومِ اسلامیہ میں ڈاکٹریٹ جیسی ڈگریاں لیے ہوئے ہیں وہ اپنی علمیت کے اظہار میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکر میں ایسی ایسی باریکیوں کے سمندر میں غوطہ زن ہورہے ہوتے ہیں کہ عقلِ سلیم اُن پر ماتم کرتی دکھائی دیتی ہے۔ جمعتہ المبارک اور خدا اور اللہ والی بحث جیسی باریکیاں ایسے ہی فاضل علمائے کرام کی پیدا کردہ ہیں اور ہمارے عوام کی اکثریت چونکہ کم علمی اور جہالت کے سبب مذہبی مسائل سے بے بہرہ ہے اِس لیے وہ ایسی باریکیوں کو علم وحکمت سمجھ کر اپناتی چلی جاتی ہے جبکہ عقل و شعور کا تقاضا ہے کہ مذہب سے متعلقہ حساس امور کو تحقیق و تجسس اور غوروفکر کی کسوٹی پر پرکھ کر ہی اپنانا چاہیے۔