اس وقت اگر آپ دنیا کہ نقشے میں موجود مسلم ممالک کا جغرافیائی اور سیاسی تجزیہ کریں تو آپ کے سامنے اولا جو چیز آئیگی وہ یہ کہ تمام مسلم ممالک اپنے پڑوسی کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں کوئی ایسا مسلم ملک نہیں جو اپنے ہمساۓ مسلمان ملک سے خوش ہو اور وہ اسکی اندرونی سیاست میں دخل اندازی نہ کر رہا ہو۔ اسباب کافی سارے ہوسکتے ہیں جیسے کہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کی حکومتیں چونکہ اکثر ناجائز ذرائع سے اپنی عوام پر مسلط ہوتی ہیں تو اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کی خاطر وہ اپنا سیاسی دشمن کھڑا کر دیتی ہیں ۔ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار مسلم ملک #شام ہے شام کی ایک سرحد #ترکی کے ساتھ متصل ہے شامی حکومت ملک میں دہشت گردی کے آغاز سے ہی #اردوغان کی ترک حکومت پر ملک میں داعش اور القاعدہ کی پشت پناہی کا الزام لگاتی رہی ہے ترکی نے اس پر کبھی واضح موقف نہیں دیا بلکہ شامی حکومت مخالف ہر اقدام کی حوصلہ افزائی کی جس سے شامی موقف کی تائید ملتی ہے۔
دوسری جانب #عراق کی سرحد ہے ۔اسی طرح عراق اور ترکی کی بھی سرحد ملی ہوئی ہے۔ عراق بھی ترک حکومت پر دھشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرچکی ہے ترکی عراقی کردوں پر کئی فضائی حملے بھی کرچکا ہے جسے #عبادی کی حکومت نے دراندازی سے تعبیر کیا ہے
شام اور عراق میں موجود تیل اور گیس کے خزانوں پر پڑوسی ممالک کی حریصانہ نگاہوں نے آج لاکھوں لوگوں کو زمین کے نیچے مقبور یا زمین سے جلاء وطنی پر مجبور کیا۔
شامی حکومت ترکی کیساتھ ساتھ #قطر ، #سعودیہ پر بھی باغیوں کی سرپرستی کا الزام عائد کرتی رہے ہے۔
تیسرا اسلامی ملک جو اس وقت تباہی کا شکار ہے وہ #یمن ہے۔ یمن کے دو حصے ہیں ۔ جنوب یمن اور شمال یمن۔ جنوب یمن میں #عدن اور #حضرموت وغیرہ کے ساحلی علاقے ہیں جب کے شمال یمن میں تاریخی اور قدیم شہر متحدہ یمن کا دارالحکومت #صنعاء وغیرہ شامل ہے۔ عرب ممالک میں جب وہاں کی حکومتوں کے خلاف عالمی سامراج کی پشت پناہی پر جمہوریت کے نام پر ” الربیع العربی ” عرب بہار کے نام سے تحریک چلی تو #مصر میں حسنی مبارک کو جانا پڑا اور سلفی اسلام پسند تحریک اخوان المسلمین کی حکومت #مرسی کی قیادت میں قائم ہوئی۔ جسے بعد میں صدر السیسی نے فوجی انقلاب کے تحت حکومت کاتختہ الٹ دیا۔ اسی طرح یمن میں صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف یمن میں اخوان المسلمون نے مظاہرے کیے جس کے نتیجے میں علی عبد اللہ صالح کو جانا پڑا اور انکی جگہ منصور ہادی نے حکومت قائم کی۔ عبدالرب منصور ہادی کو پڑوسی ملک سعودی عرب کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اقتدار میں آنے کے بعد منصور ہادی نے زیدی جماعت جو کہ یمن کی اکثریتی عوام پر مشتمل ہے کہ خلاف انتقامی کارروائیاں کی جس کہ نتیجہ میں انصار اللہ نے مسلح جدوجہد کا اعلان کیا اور دارالحکومت پر قبضہ کردیا
جماعت انصاراللہ یمن مقاومت اور مزاحمت کا فلسفہ رکھتی ہے۔ خطہ میں موجود صہیونی لابی اس جماعت کو پسند نہیں کرتی۔ یمن اکثریتی عوام امام زید علیہ السلام کی پیروی کرتے ہیں زیدیت مذہب سے زیادہ ایک تحریک ہے۔ ظالم اور فاسق حکمران کے خلاف مسلح جدوجہد اور خروج کو جائز قرار دیتے ہیں ۔ ایک شخص زیدی ہوتے ہوۓ شافعی اور حنفی بھی ہوسکتا ہے۔ مسلم فرقوں اور گروہوں میں زیدیت اعتدال کا بھترین نمونہ ہیں ۔ اپنے وقت میں امام زید نے مسلم امہ سے تفرقہ کے خاتمہ کے لیے ایک اہم اصول پیش کیا۔ آپ فرماتے ہیں ” افضل کی موجودگی میں مفضول کی خلافت درست ہے“۔
یہی سبب ہے حد اعتدال سے نکلنے والے لوگ امام زید کو زیادہ پسند نہیں کرتے۔ بہر حال انصار اللہ نے سابق صدر علی عبد اللہ صالح کے ساتھ مل کر اقتدار قبضہ میں لیا تو منصور ہادی سعودیہ چلے گئیے۔ سعودی عرب نے یمن کے خلاف اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر آپریشن عاصفۃ الحزم کا اعلان کردیا۔ سعودیہ ہمیشہ کی طرح پاکستان کو بھی اپنے جرائم میں شامل کرنا چاہا مگر پاکستانی پارلیمنٹ نے اس وقت دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوۓ اس مشارکت کی مخالفت کی۔ آج یمن پر ایک جانب سعودی عرب کلسٹر بموں سے حملہ جاری رکھے ہوۓ ہے تو دوسری طرف ہیضہ کی وباء نے یمن جنگ کے ماروں پر یلغار کی ہوئی ہے جس سے اب تک تیس ہزار افراد متاثر ہوچکے ہیں
جاري….