نکاح کیوں نہیں کرتے میرے ساتھ ….!! وہ چیخ چیخ کر پکار رہی تھی لیکن جواب میں صرف اور صرف خاموشی تھی . کسی میں اتنا ظرف کہاں تھا جو اسے اپنا لیتا .وہ تنگ آ چکی تھی ان چیزوں سے اور دور جانا چاہتی تھی . ہر موڑ پر دھوکہ کھا کھا کر اسے اپنے آپ سے وحشت ہونے لگی تھی .سب کہہ رہے تھے کہ کتنی بے حیا لڑکی ہے خود ہی نکاح کا کہہ رہی ہے لیکن وہ کیوں کہہ رہی تھی یہ اسے پتا تھا یا اسکے خدا کو . جس کے لیے اسکی سانسیں چل رہی تھیں وہ تو جیسے اسکی بات سن ہی نہیں رہا تھا . میں تمہاری بہت عزت کرتا ہوں ، ہر مصیبت میں کام آتا ہوں یہاں تک کہ تمہاری تنہائی بھی دور کرتا ہوں یہ محبّت نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ اکتاہٹ سے بھرے لہجے میں یہ الفاظ تو جیسے اسکے دل کو چھلنی کر گئے . میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں . نکاح کر کےتمہارے ساتھ زندگی گزرنا چاہتی ہوں اور تمھارے ساتھ مرنا چاہتی ہوں . اسکی آس ابھی تک ٹوٹی نہیں تھی . میری منگنی ہو چکی ہے اور میں مجبور ہوں ۔ اسی سے شادی کروں گا جس سے میرے والدین چاہتے ہیں .تم فضول میں خواب دیکھنا چھوڑ دو اور اتنا بہت ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں . غصے اور جھلاہٹ سے اس نے بات حتم کرنے کی کوشش کی . میں صرف ایک بات پوچھتی ہوں کہ کیا یہ کافی ہے ؟ کیا شریعت کے خلاف محبت جائز ہے ؟
حضور والا یہ ایک کہانی نہیں ہے بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک زندہ اور تلخ حقیقت ہے . قصور کس کا ہے اس مرد کا جو جھوٹی محبّت کے دعوے کرکے عورت کو وہاں لے جاتا ہے جہاں سے واپسی کی قیمت عزت ہے ؟یا اس عورت کا جو ان بنا بیساکھی کے دعووں کے سہارے ایک پل صراط اتنی آسانی سے پار کر لیتی ہے . جس پل صراط کی فکر اسکے ماں باپ کو اسکے پیدا ہونے سے شروع ہو جاتی ہے ؟ ان سوالوں میں الجھنے کے لیے ایک زندگی ناکافی ہے البتہ ایک بنیادی سوال جو مجھے کافی عرصے سے ستا رہا تھا وہ آج یہاں اٹھا رہا ہوں . کیا شریعت کے خلاف محبت جائز ہے ؟ ہمارا تعلق اس مذہب سے ہے جہاں ایک چھوٹی بچی گڑیا خریدنے جاتی ہے تو ساتھ میں دوپٹہ بھی لیتی ہے . ہم اس شریعت کے پیروکار ہیں جہاں غیر محرم سے پردے کا حکم ہے . کم نصیبی یہ ہے کہ ہمارے پاس مجبوری اور مصلحت نامی کئی ایسے دروازے ہیں جنھیں ہم جس وقت چاہیں اور جیسے چاہیں استعمال کرتے ہیں . سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مصلحتیں اور مجبوریاں محبّت کے جنم کا با عث تو بن جاتی ہیں مگر یہ محبّت پنپتی کیسے ہے ؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ غیر محرمی کا تسلسل اس محبّت کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ؟ کیا یہ واقع محبّت ہے یا صرف جزبات کا پہناوا ؟
صنف مخالف کی کشش الله تعالی نے شروع سے ہی رکھی ہے اور یہ فطرت کے مختلف ہونے کے باوجود دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے اور چلنے پر اکساتی ہے اور اکٹھے زندگی گزارنے کے لیے ایک محرک کا کردار ادا کرتی ہے . ہم ١٩٤٧ میں جسمانی طور پر تو آزاد ہو گئے تھے لیکن ذہنی طور پر آج تک غلام ہیں . افسوس اس پے نہیں کہ ہم غلام ہیں بلکہ افسوس اس چیز پر ہے کہ ہم اس غلامی سے نکلنے کے خواہشمند نہیں ہیں. مرد کو چونکے کفالت کی ذمہ داری دی گئی ہے اس لئے اسے سربراہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ گھر کے معاملات احسن طریقے سے چلائےجا سکیں . اب اس کفالت اور سربراہی کی آڑ میں مرد گھر کی عورتوں سے بدسلوکی کرے ، بیوی پر ہاتھ اٹھاے یا باہر کی عورتوں سے تعلقات بنائے اس چیز کی اجازت ہمارا معاشرہ خود اسے دیتا ہے . کیونکے وہ مرد ہے وہ سارے گھر کا خرچہ چلاتا ہے اور سارے خاندان کی کفالت کرتا ہے . اس کو چار شادیوں کی بھی اجازت ہے اور چار سو دھمکیوں کی بھی . وہ شام کو گھر آئے تو سب لائن میں حاضر ہو کر اس کے کھانے پینے کا بندوبست کریں ورنہ بہن یا بیوی بچوں کی خیر نہیں ہے . وہ سارا دن باہر عشق لڑا ئے یا ساری رات چار موبائل استعمال کرے وہ مرد ہے اور اس خاندان کا سربراہ ہے اسے کچھ بھی کہنے سے گھر کا ماحول خراب ہو جاتا ہے . حضور والا یہ ساری باتیں ہمیں ہمارے بڑے سکھاتے ہیں . اب ان سب باتوں کی موجودگی میں آپ کیسے ایک مرد کو الزام دے سکتے ہیں کہ اس نے محبّت کی ہے یا اس نے کسی عورت کے ارمانوں کا خون کیا ہے .اس کے تو وہم و گمان میں نہیں ہے کے ارمانوں کا خون کیا ہے اور یہ کیسے ہوتا ہے .اس کو تو یہ بتایا ہی نہیں گیا کہ عورت کیا چیز ہے اور یہ کتنی نازک ہے اور کیسے یہ خواب بنتی رہتی ہے . اسے صرف ایک بات بتائی جاتی ہے کہ عورت تمہاری راحت کیلئے پیدا کی گئی ہے اور وہ اس راحت کے بدلے اسکی محبّت ، اسکی چاہت ، اسکے جذبات اور اسکی عزت نفس سے کھیلتا رہتا ہے ..!!
وہ بچی ہے ، بچیوں کو نہیں ڈانٹتے ، بچیوں نے پرائے گھر چلے جانا ہوتا ہے . آپ ان جملوں سے واقف تو ہونگے . یہی وہ اینٹیں ہیں جو ہم بچیوں کی تربیت کی بنیادوں میں رکھتے ہیں اور وقت گزارنے کے ساتھ یہ بنیادیں عادتوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور عادتیں ہی آپ کی زندگی بناتی ہیں . بیچاری ابھی کالج سے ای ہے تھکی ہوئی ہو گی سونے دو اس کو . .. بھابھی کر لے گی سارے کام ویسے بھی اس نے دوسرے گھر جا کر کام ہی کرنے ہیں ….!!! حضور والا یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک روش ہے جو ہمارے گھروں کی بنیادوں کو ہلا رہی ہے . ہم خود اس عورت کو اتنا وقت دے رہے ہیں کہ وہ اس کا جیسا چاہے استعمال کرے . موبائل ،انٹرنیٹ ، مارکیٹ ، پارٹیز بہت سی ایسی مصروفیت وجود میں آ چکی ہیں جنہوں نے وقت کے استعمال کو آسان بنا دیا ہے . ہم نہ چاہتے ہوے بھی انھیں حد سے زیادہ پیار دئے دیتے ہیں اور یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بیٹیوں کے معاملے میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی حدود مقرر کرنا لازم ہوتا ہے . انھیں ان حدود کا ادرک کروانا ہماری ذمہ داری میں شامل ہے . ماں اور باپ ہونے کی حیثیت سے اپنی اولاد کی حرکات و سکنات پر نظر رکھنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئیے . وہ کہاں جا رہے ہیں ، کہاں سے آ رہے ہیں ، کس سے مل رہے ہیں ، کب سو رہے ہیں اور کب جاگ رہے ہیں .
مرد اور عورت دونوں فطرتی طور پر بلکل علیحدہ مخلوق ہیں . سوچنے کا طریقہ ، عمل کرنے کا طریقہ ، جزبات ، محبّت ، نفرت سب جدا ہیں لیکن خدا کی قدرت دیکھیں کہ سارے جہاں کا سکون ان دونوں کے اکٹھے ہونے میں ہے .مرد ساری زندگی یہ چاہتا رہتا ہے کہ عورت اسکی مرضی کے مطابق چلے جب کہ عورت ساری زندگی یہ شکوہ کرتی رہتی ہے کہ مجھے محبت نہیں ملی حالانکہ محبّت دونوں ایک دوسرے سے کرتے ہیں لیکن ایک دوسرے کے طریقے میں فرق نہیں جان پاتے اور ایک دوسرے کی ذات پر تنقید عادت بن جاتی ہے .اسی لڑائی میں عمر گزر جاتی ہے اور جو چیزیں ہم نے عملا اپنی اولاد کو منتقل کرنی ہوتی ہیں وہ نہیں ہوتیں اور اس سارے پراسیس میں ایک چیز جنم لیتی ہے اسے جنریشن گیپ کہتے ہیں .اور اس گیپ کو ہم آج تک ختم نہیں کر سکے . الله تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں شعور دے اور ہمیں سیکھنے کی توفیق دے تاکہ ہم اپنے ازدواجی رشتے کی قدروں سے آشنا ہوں . الله تعالی ہمیں ایک دوسرے کی ذات سے باہر نکلنے کی توفیق دے تاکے ہم اپنی اولاد کی اچھی تربیت کر سکیں اور انکی راے کا احترام کر سکیں . کیونکے جب تک ہم میں یہ سوچ نہیں آے گی تب تک جزباتی محبت پنپتی رہے گی ، مرد محبت کا دعوہ کرتا رہے گا اور عورت جذبات اور الفاظ کے ہاتھوں دھوکہ کھاتی رہے گی ، مرد حاکمیت کا رعب جماتا رہے گا اور عورت ظلم کے شکوے کرتی رہے گی . الله ہم سب کا حامی و ناصر ہو . امین