پاکستان میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں شدید نظریاتی، مذہبی اور سیاسی اختلافات موجود ہیں جن کا اظہار وہ الزام و دُشنام اور تہمت و بہتان کے ذریعے کرتے رہتے ہیں۔ دورِ گزشتہ میں، نواز شریف صاحب اور بے نظیر بھٹو مرحومہ کے اختلافات، ایم کیو ایم اور جماعتِ اسلامی کے اختلافات، ایم کیو ایم اور پاکستان مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے باہمی اختلافات وغیرہ وغیرہ۔ دورِ حاضر میں، مولانا فضل الرحمن اور عمران خان، نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور نواز شریف و شہباز شریف وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔کے باہمی اختلافات قارئین! آپ حیران ہوں گے، اِن شدید اختلافات کے باوجود ایک بات پہ سب کا اتفاق و اتحاد ہے اور وہ خاندانی قیادت و سیادت ہے۔کوئی مذہبی اور سیاسی جماعت ایسی نہیں ہے جس کے سربراہ نے اپنے صاحبزادگان، خواہران، ہمشیرگان، برادران، برادر نسبتی، داماداوربہنوئی وغیرہ کو جماعت میں یا حکومت میں اہم عہدہ دیا یا دلوایا نہ ہو۔ آپ مسلم لیگ (ن) کی اس خاندانی فہرست کا ہی مطالعہ کر لیں: نواز شریف صاحب بھائی: شہباز شریف (وزیر اعلیٰ پنجاب) بھتیجا: حمزہ شہباز شریف داماد: کیپٹن صفدر بھتیجا: سلمان شہباز شریف اہلیہ کا بھانجا:بلال یٰسین ہم زلف: چوہدری شیر علی بھانجا: عابد شیر علی، عامر شیر علی بہنوئی: سہیل ضیاء بٹ بھانجا: عمر سہیل بٹ سمدھی: اسحاق ڈار بیٹی: مریم نواز اہلیہ کا بھانجا: محسن لطیف داماد کا بھائی: ملک طاہر اعوان بہنوئی کے بھائی: اویس ضیاء بٹ بھانجا: خرم سہیل ضیاء بٹمندرجہ بالا افراد کسی نہ کسی سرکاری اور سیاسی عہدے پر فائز ہی نہیں ہیں بلکہ اس تعلق کے اثر و رسوخ کو معاشرے میں استعمال کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی کا جائزہ لے لیں جس میں آصف علی زرداری صاحب کی اولاد کے علاوہ خواہران، ہمشیرگان اور برادر بھی شامل ہیں اور بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ یہی صورتِ حال مسلم لیگ(ق)،جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علماء پاکستان، سنی اتحاد کونسل اور تحریک منہاج القرآن کی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مفتی محمود مرحوم کے صاحبزادگان جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ ہی نہیں بلکہ ہر حکومت کے ساتھ ’’تعاون‘‘ کے عوض وزارتوں سے بھی لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے اسد محمود بھی میدانِ سیاست میں قدم رکھ چکے ہیں۔ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ فضل کریم کے انتقال کے بعد، اُن کے صاحبزادے حامد رضا سُنی اتحاد کونسل کی سربراہی سنبھال چکے ہیں اور کبھی کبھی احتجاجی بیان سے عوام کو مستفید کرتے رہتے ہیں۔ جمعیت علمائے پاکستان (نورانی گروپ)کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی کے انتقال کے بعد مولانا ابوالخیر محمد زبیر کے سپرد جمعیت کی قیادت سونپی گئی لیکن آج کل نورانی صاحب کے صاحبزادے شاہ اویس نورانی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کی ’’چہرہ دکھائی‘‘ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ تحریک منہاج القرآن بھی دیگر رہبرانِ اُمت کے ساتھ یکجہتی کیلئے اسی راہ پہ گامزن ہے کہ قبلہ قادری صاحب کے صاحبزادگان اس وقت ادارے میں اہم پوزیشن سنبھالے ہوئے ہیں اور منہاج سپریم کونسل کے سربراہ بھی ہیں۔پاکستان کی سیاسی مذہبی جماعتوں کے اس میلے میں دو جماعتیں ایسی ہیں جو اس معاملے میں الگ تھلگ کھڑی نظر آتی ہیں اور وہ جماعت اسلامی اور تحریکِ انصاف ہے۔مسلم تاریخ میں، خاندانوں کی حکومتیں ایک ایسا بھیانک تاریخی باب ہے جس سے متعلق ہر مسلمان واقف ہے۔ اموی، عباسی، عثمانی، غوری، تغلق، خلجی، مغل، صفوی خاندانوں سے کون واقف نہیں ہے۔ انہی خاندانوں کی برکات ہیں کہ ہمارا ہر راہنما، مذہبی ہو یا سیاسی اس وراثت کا امین و وارث ہے یہ تہذیبی اور ثقافتی ورثہ اتنی شدّت و استقلال سے منتقل کیا گیا کہ آج ہماری فطرت ثانیہ بن گئی کہ ہمیں تجارت و کاروبار کے علاوہ سیاست ،حکومت اور مذہبی اقتدار کے دوام کیلئے بھی خاندان کے سہارے اورتعاون کی ضرورت رہتی ہے۔ ہمارے راہنمائوں نے سیاست و مذہب کے میدان میں حاصل ہونے والے عروج و ترقی کو بھی ذاتی کاروبار و تجارت کی طرحEnjoyکیا اور Treatکیا جیسے میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی فیکٹریوں کا مالک اُن کا خاندان ہے۔ میں نے شریف خاندان کی مثال اس لیے دی ہے کہ اب برسرِ اقتدار یہی طبقہ ہے، ورنہ آصف علی زرداری ، مولانا فضل الرحمن، ڈاکٹر طاہر القادری، چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت ان سے کسی طرح بھی اس تہذیبی ورثے کے وارث ہونے میں پیچھے نہیں ہیں۔ بہت ہی دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام افراد بالا دوسروں پر تنقید صرف اُن پہلوئوں سے کرتے ہیں جو نقائص ان میں نہیں ہوتے۔۔۔۔۔ مثلاً بے تحاشہ پروٹوکول کے عادی یہ سب لوگ ہیں اِن میں سے کوئی بھی اس پہ تنقید نہیں کرتا کہ یہ بھی نظام کی خرابی ہے کہ ایک شخص وہ حکومت میں ہے یا نہیں۔۔۔۔۔ جب بھی اپنے گھر سے باہر تشریف لائے، لوگوں کی زندگی مشکل میں ڈال دیتا ہے یا کرّوفر سے اپنی ذات اور وسائل کی دھاک بٹھاتا ہے۔۔۔۔۔ مثلاً پُر تعیش زندگی پہ تنقید کوئی راہنما نہیں کرے گا کیونکہ اِن سب کو پُرتعیش زندگی گزارنے کی عادت ہی نہیں لت ہے۔ اسی طرح خاندانوں کی حکومت وہ اداروں پر ہو یا جماعتوں پر، ملک پر ہو یا تحریکوں پراس پر کوئی تنقید نہیں کرے گا۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنی جماعت ،ادارہ، اورتحریک کو اپنے خاندان کیلئے ایک فیکٹری اور فرم کی طرح خیال کرتا ہے۔ اگر آپ اس بات پہ یقین نہیں کرتے تو کسی بھی شخصیت کے ساتھ چند روز گزار کر دیکھ لیں کہ اُن کے جماعتی ، حکومتی، سیاسی اور سرکاری فیصلوں میں کون کون لوگ اثر انداز ہوتے ہیں اور کن کی رائے کو بلاتوقّف قبول کر لیا جاتا ہے۔ قارئین! ایک سبب تو یہی ہے کہ گزشتہ کئی صدیوں کی Legacy ہمارے راہنمائوں اورمعاشروں میں اس طرح سرایت کر چکی ہے جس سے جان چھڑانا اتنا آسان نہیں ہے۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ Dynestyکے تصور سے دنیا نے اپنے آپ کو آزاد کر لیا لیکن ہم آج تلک اسی تصور کے قیدی بنے ہوئے ہیں۔ دوسرا سبب عوام کا بے شعور ہونا بھی ہے۔ جن معاشروں کے لوگ اپنے حقوق اورذمہ داریوں سے واقف ہوتے ہیں وہ کبھی سیاسی معاملات سے اپنے آپ کو علیحدہ نہیں رکھتے۔ وہ اپنے راہنمائوں،خواہ وہ مذہبی ہوںیا سیاسی اُن پہ نظر رکھتے اور اُن کا احتساب کرتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔ جہاں ہر شخص کو اپنے حصے کے بے وقوف مل جائیں تو اُن کا حشر ہمارے جیسا ہی ہوتا ہے۔ مثلاً راتوں رات امیر بننے کیلئے سیاست و مذہب میں طبع آزما اور طالع آزما کی کمی نہیں ہے اور عوام اپنی جہالت، کم علمی اور بے شعوری کی وجہ سے ان کے پیچھے چل پڑتی ہے اور کبھی بھی ماضی و حال پہ نظر نہیں رکھتی ،بیوقوف بننے اور بنانے کا یہ سلسلہ سالہا سال سے جاری و ساری ہے۔ تیسرا سبب، ان راہنمائوں کی باہمی چپقلش جو انہیں ذاتی اور خاندانی حوالے سے، معاشی اور سیاسی قوت بننے کی طرف راغب کرتی ہے۔ ایسی بہت سی مثالیں، مسلم تاریخ میں ہی نہیں بلکہ انسانی تاریخ میں بھی موجود ہیں۔ ایک حکمران نے اپنی کرسی مضبوط کرنے کیلئے اپنے ارد گرد اپنے ہی خاندان اور آل اولاد کو بڑے بڑے عہدوں سے نوازا تاکہ وہ اپنی مدّت اقتدار کو طول دے سکے، یہی جذبہ یہاں کار فرما ہے کہ اگر شریف خاندان مالی، سیاسی اور سرکاری حوالے سے مستحکم ہے تو اس کے مقابل اس ملک پہ اپنے مذہبی یا سیاسی تسلط کو مزید قوت بخشنے کیلئے دوسرے راہنمائوں نے بھی یہی کرادر اداکیا۔ یوں کہیے! ہمارے ملک میں سیاست و مذہب کھیل ہی اسی چیز کا نام ہے کہ مستقبل میں ایک ایسی ’’ایمپائر‘‘قائم کی جائے کہ جس کے جاہ و جلال اور شان و شوکت کے سامنے عوام مبہوت اور مسحور ہو کر سر نہ اُٹھا سکیں۔ چوتھا سبب ہمارے راہنمائوں میں Insecurity کا احساس ہے، چوبیس گھنٹے اسلام اور پاکستان کی مالا جپنے والوں کی زندگی میں اسلام ہے اور نہ پاکستانیت۔ اس ملک اور اس ملک کی عوام پہ حکومت کرنے والے، اس حد تک خود کو غیر محفوظ خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنی اولاد، کاروبار اور مفادات کو سرحد پار رکھتے ہیں۔ اولاد تعلیم و تربیت کے بعد، اس ملک پہ حکومت کرنے کیلئے آجاتی ہے لیکن کاروبار اور مفادات باہر ہی رہتے ہیں۔ ہمارے حکمران غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہInvest کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں یہ دعوت ایسے ہے جیسے قرآن مجید میں ہے ’’ کیوں کہتے ہو وہ بات جو تم نہیں کرتے‘‘ اگر یہ سیانے بزنس مین جو ملک کے حکمران ہو کر بھی اپنابزنس اپنے ملک میںنہیں لاتے، وہ لوگ جو کسی طرح بھی اس ملک میں Stakeholderنہیں ہیں وہ بھلا کیسے ملک میں سرمایہ لائیںگے۔ ہمارے راہنمایانِ ملّت اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کیلئے دو اقدام ہی کرتے ہیں۔ پیسہ ملک سے باہر اور خاندان ملک کے اندر ۔۔۔۔۔۔ یعنی خاندان شراکت اقتدار کے مزے لوٹتا ہے۔ عیّاشی اور علاج جیسے معاملات ملک سے باہر ہی حل کرتا ہے ہمارے ملک میں چونکہ مینڈیٹ شخصیت کو ملتا ہے، جماعت کو نہیں ملتالہٰذا شخصیت اس مینڈیٹ کے نہ صرف خود مزے لیتی ہے بلکہ اپنے رشتہ داروں کو بھی اس میں شریک کرتی ہے۔ یہ مینڈیٹ صرف سیاست میں ہی نہیں بلکہ مذہب میں بھی ہوتاہے۔ اس لیے یہاں بھی شخصیات اور ان کے خاندانوں کا بسیرا رہتا ہے۔۔۔۔۔ یہی ایک جیسا ماحول آپ ہر طرف دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔ بدقسمتی یہ ہے جنہوں نے لوگوں کو سیدھی راہ دکھانی تھی، وہ خود اپنی راہ گم کر بیٹھے، جنہوں نے تقویٰ ، اہلیت، سنیارٹی اور خدمات کی بنیاد پر فیصلے کرنے تھے، وہ ہی اپنی مسند ارشاد اپنے خاندان کے سپرد کرنے لگے۔ جنہوں نے استغناء زہد اور للہیت کی تعلیم دینی تھی۔ وہی ’’الھٰکم التکاثر‘‘ کے مصداق بن بیٹھے۔۔۔۔ جن کی خانقاہیں اور ادارے بلا تفریق سب کیلئے رشد و ہدایت کا سامان مہیا کرتی تھیں، اب وہاں بندر بانٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ دُکھ اس بات کا ہے کہ ان کے پاس بھی دو راستوں کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے، یا تو وہ حکمرانوں کی گود میں جا بیٹھیں یا پھر ’’نمازی‘‘ اکٹھے کرنا شروع کر دیں۔ حالانکہ بلوچستان، کراچی اور کوئٹہ میں جاری دہشت گردی، فرقہ واریت، انڈیا کی در اندازی اور عالَم اسلام کے موجودہ حالات کبھی اجازت نہیں دیتے کہ پاکستان میں ’’انقلاب‘‘ کا کھیل کھیلا جائے، کیونکہ پاکستان مزید کسی امتحان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن ایک بات ضرور یاد رکھنی چاہیے، اس ملک میں ایک حکومت ہے جو لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئی۔ الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگانے والے اور پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی پارٹی کے سربراہ عمران خان بھی موجودہ حکومت کو پانچ سال دینے کے حق میں ہیں فقط تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ فوج و دیگر ریاستی ادارے بھی اس پارٹی کو پانچ سال دینے کے حق میں ہیں اگر مسلم لیگ (ن) عوامی مسائل حل نہیں کر پاتی تو پانچ سال بعد، ان کا بھی وہ حشر ہو گا جو پیپلز پارٹی کا ہو چکا ۔ یہ ایک تطہیری عمل ہے جو آہستہ آہستہ اپنی تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر اس جمہوری کام میں کسی قسم کا رخنہ ڈالا گیا تو یہ’’ امام و مقتدی ‘‘کیلئے بھی اچھا نہ ہوگا اور نہ ہی ملک پاکستان کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں ایسے تجربات کبھی بھی خیر کا باعث نہیں بنے یہی وہ قدم تھا جس کے اٹھانے کا مشورہ ماضی میں مودودی صاحب کو بھی دیا گیا لیکن انہوں نے کمال دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی ’’حرکت‘‘ سے گریز کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ اس ملک میں’’ اقامتِ دین‘‘ کی خاطر نمازیوں کی امامت کیلئے مودودی صاحب سے بڑھ کر کون شخص زیادہ موزوں اور مناسب تھا۔۔۔۔۔۔؟