دنیا کی بڑی تہذیبیں جن خطوں میں پھیلیں ان میں موسم اور جغرافیہ کا کردار ایک فیصلہ کن عنصر کے طور پہ نمایاں نظر آتا ہے۔ شمال اور جنوب میں کوئی طاقتور تہذیب پیدا نہیں ہو پائی۔ پچھلے ایک ہزار سال سے شمال میں روسی قوم کا ارتقاء ہوا جو کمیونزم کے دور میں عروج تک پہنچ گیا، مستقبل قریب میں شمالی اقوام کے مزید طاقتور ہونے کے آثار ہیں۔ توانائی/بجلی آنے سے وہاں کے لوگوں کو کام کرنے میں آسانی ہو گی ہے۔ اسی طرح عرب صحرا اور بارشوں والے خطے بھی توانائی کی وجہ سے بہت آسانی سے انسانی تہذیب کو ترقی یافتہ بنانے میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ فطرتی طاقتیں اب شمال اور جنوب کو نظر انداز نہیں کر سکتی ہیں۔ البتہ شعور، علم اور حکمت اگر نہیں ہو گی تو کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔
اگر شعور نہیں تو موسم اور جغرافیہ بھی اپنا کردار ادا نہیں کر سکتا، جغرافیہ مواقع پیدا کرتا ہے اور موسم زراعت اور معاشرت کو ترقی دے کر معاشی اداروں کو طاقتور کرنے میں مدد دیتا ہے، لیکن اگر یہ سب کچھ بھی ہو اور قوم کے اوپر ایسے گروہ آ کر بیٹھ جائیں جو اپنے خاندان یا ذات کے فائدے کے لیے کروڑوں لوگوں کو بے وقوف بنائیں، اور لوگ بن بھی جائیں۔ لوگوں کو اخلاقیات سے گرے ہوئے قوانین کا احترام کرنے کا کہیں اور لوگ وہ قوانین قبول بھی کر لیں، تو ایسے معاشرے ہی جاہل ہوتے ہیں۔ ایسے رہنما مفاد پرست ہی کہے جا سکتے ہیں۔
کسی معاشرے کے ارتقاء کے لیے درج ذیل عناصر اہم ہیں:
1۔متوازن موسم
2۔ باشعور اور ہنر مند لوگ پیدا کرنے والی قیادت اور عوام جو باہمی اعتماد کے دائرہ سے بندھی ہو۔
3۔ جدوجہد کرنے والے اور غلطیوں سے سیکھ کر چلنے والے لوگ اور قیادت۔
4۔ سماجی اور جسمانی طور پہ تندرست معاشرہ
5۔ دور جدید کے حساب سے نئے آلے بنانے اور استعمال کرنے والی اقوام۔
6۔ ترقی یافتہ رویے اپنانے والی اقوام: بین الاقوامی سوچ، اپنے کام پہ توجہ مرکوز کرنے والے افراد۔
7۔ تنزلی کے رویوں سے بچنے والی اقوام: تنزلی کے رویوں میں فرقہ پرستی، ذات پات، دوسروں سے مرعوبیت اور غلامانہ سوچ شامل ہے۔
8۔ خالص غذا کا استعمال کرنے والے اقوام ہی مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔
خراب حالات، خراب غذا، مفاد پرست رہنما، بے عدل ادارے، زیادہ یا بہت کم درجہ حرارت معاشرے کو ناسور بنا دیتا ہے۔ ایسے معاشرے میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے اور عوام آپس میں بے اعتمادی کا شکار ہوتے ہیں اور باہم دست وگریباں ہوتے ہیں۔
مختلف ممالک اور معاشرے مختلف انداز سے ترقی کرتے ہیں۔ ان ممالک کے ماضی کے حالات ان کے مستقبل کا خاکہ مرتب کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم پاکستان کے خطے کا جائزہ لیں تو پاکستان کے کچھ موجودہ حالات کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔
1206-1526ء تک یہاں کے بیشتر حصے، پنجاب، کشمیر، کے پی کے، پہ دہلی سلطنت بن چکی تھی، جو کہ سلطان قطب الدین ایبک کے زیر انتظام تھی۔ اس سلطنت اور اس کے بعد 1526-1857ء تک قائم رہنے والی مغل سلطنت کے اولین نمائندے پاکستان سے باہرسے آئے تھے۔ لیکن ان دونوں سلطنتوں کے بعد دنیا کافی تیزی سے بدلی، لیکن یہاں کے سماج میں اتنی ہمت نہیں ہو پائی کہ وہ اپنے دم پہ کوئی تبدیلی کرکے ایک متبادل قیادت فراہم کرے۔ اگرچہ مغل اور دہلی سلطنت کے رہنماؤں نے یہاں کے سماج کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنایا اور دولت کا بہاؤ اس خطے سے باہر نہیں گیا۔ اس کے باوجود اس خطے کے اندر کوئی بڑی صلاحیت پیدا نہیں ہوئی جو کہ نظام ریاست کو ہر دور کے جدید رجحانات کے مطابق چلا سکے۔ جب مغل کمزور ہونے لگے تو شاہ ولی اللہ دہلوی نے یہاں کے سماج کے اندر سے تبدیلی کی کوشش کی، تو وہ بھی سماج کی اپنی نااہلی کی وجہ سے ضائع ہو گئی۔ مرکز کو طاقتور کرنے کی بجائے یہاں کے سیاسی رہنماؤں نے ایک بار پھر باہر کی اقوام کی طرف دیکھنا شروع کر دیا، اور اس بار ان کی نظر مشرق وسطی یا ترکستان کی بجائے یورپ کی ایک قوم برطانیہ پہ پڑی۔ برطانیہ کو یہاں اقتدار دلوانے، مضبوط کرنے اور ان کا نظریہ حیات آزادانہ طور پہ قبول کرنے کی بجائے غلامانہ انداز میں قبول کرنے میں، یہاں کی مقامی قیادت (ہندو، سکھ، مسلمان) سب کا برابر کا ہاتھ ہے۔ جب ہم غلام ہو گئے تو ہمیں اپنی بنائی ہوئی چیزیں بھی ان سے کم تر لگنے لگیں اور معاشرہ مرعوبیت کا شکار ہو گیا۔
انگریز بھی ہمارے لیے باہر کے تھے اور اس سے پہلے کے مغل اور سنٹرل ایشیاء (ترکستان) سے آئی ہوئی اقوام یا حکمران طبقا بھی۔ مغل اور دہلی سلطنت کے برعکس انگریزوں نے پاکستان و ہند کو اپنا نہیں سمجھا اور اس کو اس طرح ترقی یافتہ نہیں بنایا جس طرح وہ انگلستان کو بنا رہے تھے۔ نتیجتاً پاکستان و ہند اور برطانیہ کی باقی تمام کلونیاں کمزور اور سماجی طور پہ مزید گر گئیں اور مغلوں نے اس سماج کو جو توانائی بخشی تھی وہ بھی چھن گئی۔ یہاں کا سماج جو 1206ء سے پہلے ایک جذباتی اور لڑاکو سماج تھا، اسی راستے پہ چل پڑا اور آج تک چلا آ رہا ہے۔
1857-1947ء تک ہم براہ راست برطانوی غلامی میں رہے اور یہاں پہ ایک خوشامد پرست قیادت کا ظہور ہوا۔ یہ قیادت گوروں سے مرعوب تھی اور مقامی لوگوں کو جوتے کی نوک پہ رکھتی تھی۔ 1947 کے بعد پاکستان کی تشکیل اور ہمارے معاشرے کو آزادی کا نعرہ ملا۔ آزادی ایک رات میں نہیں ملتی۔ غلامی سوچ میں تھی، وہ ایک دن کیسے ختم ہوتی، نتیجتاً پیسے اور وسائل کا بہاؤ جو 1947ء سے پہلے مغرب کی جانب تھا، آج تک چلا آ رہا ہے۔ یہاں کے حکمران (چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہوں) عوام کے وسائل کو یہاں پہ بڑہانے کی بجائے باہر لے جاتے رہے ہیں اور پنامہ لیک کے بعد بھی یہ سلسلہ رکا نہیں اور نہ ہی رکے گا۔ 1947-1999ء تک تو پاکستان کو براہ راست امریکہ سے قابو کیا جاتا رہا، مشرف اور فوج نے اپنا قبلہ بدلا اور سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ دیا، لیکن یہاں کے انگریز نواز طبقے جن کی نسلیں غلامی کرتے آ رہی تھیں، غلامی تو ان کے لہو اور ڈی این اے میں شامل ہو چکی ہے، ان کو یہ بات کہاں گوارا تھی کہ پاکستان امریکی غلامی سے نکلے۔ تو پاکستان کی فوج پہ سب نے تیر برسانے شروع کر دیئے۔ ورنہ پہلے تو یہ سب ملا، اور مسٹر فوجی بوٹوں کی ٹاپ پہ رقص کرتے تھے۔ 12 اکتوبر 1999ء سے لے کر آج تک فوج کی جرتمندانہ کاوش کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے پاکستان کو امریکی غلامی سے نکالنے میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ لیکن فوج کے ساتھ ماضی جڑا ہے جس میں وہ امریکی مہرہ کے طور پہ استعمال ہوئی اور مارشل لاء لگائے، اس داغ کو دھونا ایک مشکل کام ہے۔
پاکستان میں عدل کی تحریک چلانے والے پہلے اقتدار کی تحریک کیوں چلاتے رہے؟ کیا پہلے عدل ہو رہا تھا جو اب بے عدلی ہو گئی ہے۔ ان کا مروڑ صرف ایک ہی ہے کہ یہ خطہ اب بھی امریکی غلامی میں رہے اور فوج اس راستے میں ان کی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ فوج کو آئین پہ عمل سکھانے والے خود تو جب دل کرتا ہے آئین تبدیل کر دیتے ہیں۔ جو آئین اور قانون موجود ہیں ان پہ بھی انہوں نے کبھی عمل نہیں کیا۔ آئین کی رو سے سب کو تعلیم، صحت، روزگار دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، وہ تو کبھی نہیں دیا گیا اور نہ ہی اس کے لیے کوئی سنجیدہ کاوش نظر آتی ہے۔
اب سماجی نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے ادارے، اور ان کے چلانے والے کے رویوں میں رحم نظر نہیں آتا۔ جب کوئی سائل کسی ادارے میں جاتا ہے تو اس کے مسٔلے کو توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ اس کو اپنے علاقے کے چکڑ چوہدریوں کی خوشامد کرنی پڑتی ہے اور یہی طریقہ کار ہے جس کو استعمال کرکے سماج کو ہمارے سیاستدانوں نے اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ریاست کے سیاست دان پولیس اور عوامی اداروں سے اپنی مداخلت بند نہیں کرتے ہیں۔ اگر پاکستان کو امریکی اجارہ داری سے ایک وقت کے لیے چٹھکارہ بھی مل جائے، تو کیا ایسا سماج جہاں انسان کو عزت اور عدل نہ ملے، وہ قابل ستائش کیسے ہو گا؟ اگر ملک کو باعزت بنانا ہے تو یہاں کے رہنے والوں کو باعزت بنانا ہو گا۔ پولیس، عدلیہ، وکلاء، سیاست دانوں، میڈیا اور فوج کو اپنی عزت کے ساتھ ساتھ یہاں کے عوام اور عام لوگوں کی عزت کرنی ہو گی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے آسان طریقے ڈھونڈنے ہوں گے۔ کلیریکل نظام کو عوام کی عزت کرنی ہو گی۔ اس وقت ہی ملک صحیح طور پہ آزاد ہو گا۔ یہ سب یہاں کا سیاسی نظام بدلے بغیر ممکن نظر نہیں آتا۔
موجودہ حالات میں عوام کی بھی کحچھ ذمہ داریاں ہیں۔ وہ نئے لوگوں کو موقع تو دیں تاکہ بددلی اور مایوسی سے بچ سکیں، لیکن صحیح قیادت کی پہچان اور ادراک بھی حاصل کریں، ورنہ 70 سال سے مسیحا بن کر یہاں پہ بے شمار راہزنوں نے لوٹا ہے۔