دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر چین ایک کمیونسٹ ملک تھا۔ کمیونسٹ پارٹی (سی پی) نے جاپان اور مغرب کی حمایت یافتہ نیشنلسٹ پارٹی کو ہرا کر جدید چین کی بنیادیں رکھیں۔ سی پی نے سوویت روس کے طرز پہ ایک اجتماعی معاشی ڈنھانچہ تشکیل دیا۔ یہ ساری تبدیلیاں 1945-1950 ء کے درمیان واقع ہوئیں۔ سی پی ایک بہت بڑی جماعت تھی، جو ایک بہت بڑی ملڑی طاقت بھی رکھتی تھی، ایک طرف اندرونی محاذ پہ لڑ رہی تھی، دوسری طرف بیرونی طاقتوں اور معاشی نظام کی تنطیم نو بھی کر رہی تھی۔ سی پی نے منچوریہ، چین، تبت، اور سنکیانگ کو متحد کر کے موجودہ چین کی بنیادیں رکھیں۔ انہوں نے مغرب کے معاشی نظام کی بجائے کمیونسٹ نظریات پر قائم معاشی ڈنھانچے کو ترجیح دی۔ سی پی کے نظریات کے مطابق مغرب کا معاشی ڈھانچہ انسانیت کے لیے تباہ کن تھا۔
۱۹۴۸ء میں چین کی صنعت کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ وہ اس وقت کے ہندوستان سے بہتر تھا اور سی پی کا ہدف تھا کہ وہ چین کی صنعت کو جاپان اور سفید مغربی ممالک سے بہتر بنائیں گے۔ ۱۹۵۰ سے ۱۹۸۰ ء کے درمیان ان کے حریف ممالک جاپان اور امریکہ نے چین سے بہتر معاشی ڈھانچہ اور بڑے معاشی ادارے کھڑے کر دیئے۔ ۱۹۸۰ ء کے دوران سوویت روس ایک معاشی بحران سے گزر رہا تھا اور چین نے اس وقت اپنا معاشی قبلہ بدلنا شروع کر دیا (جب دنیا کمیونسٹ معاشی ڈھانچہ چھوڑ رہی تھی، پاکستان کا بھٹو، جو آج بھی زندہ ہے، وہ کمیونزم کا نعرہ لگا رہا تھا)۔ سی پی کے معاشی دانشوروں نے ۱۹۷۰ء میں ہی محسوس کر لیا تھا کہ لینن کے معاشی ڈھانچے میں کافی کمزوریاں ہیں۔ اس وقت انہوں نے جنوبی کوریا کے فوجی انقلابی رہنما جنرل پارک اور جاپان کے معاشی ڈھانچوں کا مطالعہ شروع کر دیا اور امریکہ کے ساتھ بھی اپنے تعلقات بہتر کرنے شروع کر دیئے۔
۱۹۸۰ء کے دوران سی پی کے پالیسی سازوں نے چھوٹے چھوٹے معاشی اور صنعتی اداروں کو اکھٹا کرکے بڑے بڑے ادارے بنانا شروع کر دیئے، جو نجی اور قومی ملکیت کی نوعیت کے حامل تھے۔ بنیادی طور پر حکومت ایک طاقت ور قومی معاشی قوت بننا چاہتی تھی، جس کا کنڑول سی پی کے پاس رہے۔ یہ اقدامات مارکیٹ کی مشکلات اور مارکیٹ کی مندی کے دوران کاروباری گروپس کے وجود کو قائم رکھنے کے لیے کیے گئے تھے۔ اس سارے وقت کے دوران حکومت نے تمام اداروں کو قابو میں رکھنے کے لیے آہستہ آہستہ اصلاحات کا عمل شروع کیا۔ حکومت نے مخصوص شعبہ جات کو ٹارگٹ کر کے کاروبار کی اجازت دی، اور صرف سرمائے کے حصول کے لیے کسی بھی شعبے میں سرمایہ کاری کی اجازت نہ دی۔ سی پی نے مرحلہ وار نجی اداروں کو طاقت ور بنایا اور ان پراپنی گرفت کو کمزور بھی نہ ہونے دیا۔ ایک نظم و ضبط بنانے کے بعد حکومت نے نجی اور سرکاری سب اداروں کی معاشی مدد اور سرپرستی کی۔ سی پی اپنے تمام اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اس سارے وقت میں شنگھائی موٹرز اور چینہ ٹیلی کام جیسے بڑے کاروباری گروپس ابھر کر سامنے آئے۔ نیئوکلئیر کے شعبے میں بھی مختلف کمپنیوں کو ملا کر بڑے معاشی گروپس بنا دیے گیے۔ معاشی یا کاروباری گروپ سے مراد ایک ہی شعبہ کی مختلف کمپنیوں کا مل کر ایک گروپ تشکیل دینا تھا۔ یہ گروہ قانونی بھی تھے اور اخلاقی لحاذ سے قابل قبول بھی، اس گروپ کی ممبر فرمز سرکاری بھی ہو سکتی تھیں اور نجی بھی۔ جب تک فرم قانون کا احترام کرے وہ اس گروپ کی ممبر رہ سکتی تھی۔ ان کاروباری گروہوں نے دور کی ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے کے لیے تحقیق بھی کی، ٹیکنالوجی کی خریداری بھی کی اور باقی تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اپنے اداروں کو ہر حوالے سے مضبوط کیا۔ حکومت نے ان اداروں کی فلاح کے لیے ہر سیکٹر کے لیے بنک بنائے اور رعائیتں دیں۔ ان سب اقدامات کے نتیجے میں ایشیائی طرز کی کیپٹل ازم کی بنیادی پڑنا شروع ہوئیں، جو جنوبی کوریا اور جاپان میں بھی پھیل رہی تھیں۔
چین کی ۱۹۷۹ء کی اصلاحات کے بعد جہاں کسی حد تک مغربی خیالات کو تقویت ملی، وہاں مغرب کے رہنماؤں نے فخر کرنا شروع کر دیا کہ ان کا معاشی ڈھانچہ بالآخر جیت گیا۔ ایشیائی کیپٹلزم کی شکل کوریا، جاپان، اور چین میں تھوڑی تھوڑی مختلف بھی تھی، اور کافی حد تک ان کے اجتماعی کلچر سے جڑی ہوئی بھی تھی۔ جہاں تک عوام کو ریلیف پہچانے کا سوال ہے، جنوبی کوریا کے ڈھانچے نے زیادہ بہتر پرفارم کیا۔
چین کے کاروباری گروپس کوریا کے گروپس سے زیادہ مضبوط تھے، جبکہ جنوبی کوریا کے معاشی گروپس امریکہ پر انحصار کرتے تھے۔ کحچھ ذرائع کے مطابق جنوبی کوریا میں کل غیر ملکی افراد کی پراپرٹی میں سے ۵۰ فیصد صرف امریکی شہریوں کی ہے۔ اس کے علاوہ کوریا نے امریکہ کے دباؤ پر عیسائی مشنریوں کو اجازت دی اور اپنے سماجی نظام کو یکسر تبدیل کر دیا اور اپنی سماجی شناخت پہ سمجھوتہ کیا، جبکہ چین اور جاپان نے ایسا نہیں کیا۔ مغرب کے دانشور کوریا کی ترقی کا تو ذکر کرتے ہیں، جبکہ کوریا نے مغربی مدد کے حصول کے لیے کن کن نظریات پرسمجھوتہ کیا، اس کا ذکر نہیں کرتے ہیں۔ تبدیل ہونا کوئی بری بات نہیں، لیکن کوئی مجبوری سے تبدیل کرے یہ ایک کمزوری ہے۔ حقیقت میں مغرب جن مذہبی نظریات کو خود مسترد کر چکا ہے وہ تیسری دنیا اور ایشیاء کو معاشی پیکچ کےساتھ لینے پڑتے ہیں۔
مغرب کے دانشور چین کی موجودہ معاشی کامیابی کو ۱۹۷۹ء کا پھل قرار دیتے ہیں۔ جب کہ یہ درست تجزیہ نہیں ہے۔ اگرچین کی ۱۹۴۵ء کی سیاسی قیادت ان کے پرانے سیاسی جھگڑے ختم کرکے ایک سیاسی وحدت اور قومی شعور پیدا نہ کرتی، تو چین ایک مںظم قوت نہ بنتا اور ایک تر نوالہ رہتا، جس کو مغرب آسانی سے ہضم کر سکتا تھا۔یہ سی پی کا پیدا کردہ سیاسی شعور ہی تھا کہ معاشرے کی قیادت پر لوگوں کا اعتماد ختم نہیں ہوا، باوجود اس کے مغرب نے بہت زیادہ پراپیگنڈا کیا ہے۔
مشرقی بعید کے مملالک کی معاشی تاریخ کے مطالعے سے ایک بات تو واضع ہوتی ہے، وہ یہ کہ کمزور فلسفہ کے ساتھ قیادت کی نیت اچھی ہو اور معاشرے کی خدمت کا جذبہ ہوتو عوامی خوشحالی حاصل کی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر قیادت خودغرض ہو تو اچھا فلسفہ بھی نتائج پیدا نہیں کرتا ہے ۔