دنیا میں کوئی قوم اس وقت تک ترقی و فیروزمندی کے مدارج نہیں طے کر سکتی جب تک وہ اپنے متعینہ مشن کی تکمیل میں اس لیڈر کی حیات کی متنوع اور ہمہ گیر گوشوں کی درست اور خوردبینی آگہی نہیں حاصل کرتی جس کے نصب العین کو اجتماعی زندگی کی تعمیر و تشکیل اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہمہ جہتی ریاستی صورت گری کے لیے مسلسل کوشش میں سرگرم عمل نہ ہو
اس حوالے سے بحیثیت مسلمان ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم سیرت کا بنظر غائر جائزہ لیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ جب حضور ص کی بعثت ہوئی تو اس وقت کیا حالات تھے ہر سو ظلم و جبر کی داستانیں رقم ہو رہی تھیں معاشرہ جہالت کے بھنور میں پھنسا ہوا تھا کمزوروں کے حقوق پامال ہو رہے تھے اشرافیہ زینت و تفاخر کی زندگی کی رنگ رلیوں میں ڈوبی ہوئ تھی غرض پورا سماج خراب تھا لیکن بعثت کے بعد حضور ص نے اپنی جماعت بنائ معاشرےکے باصلاحیت طبقے کو اپنے ساتھ سماجی تبدیلی کی جہدوجہد میں شریک کیا ان کی دار ارقم میں شعوری آبیاری کی اور پورے سماج کو ازسرنو اسلام کی فطری تعلیمات کی روشنی میں قائم کیا جس سے سوسائٹی کے ہر شعبے میں توازن و اعتدال پیدا ہو گیا اور معاشرہ ارتقاء کی روشن شاہراہ پر گامزن ہو گیا جس کے ثمرات سےدنیا چودہ سو سال سےمستفید ہو رہی ہے اس ضمن میں جو صبرآزما چیلنجز سے جماعت صحابہ دوچار ہوئ ان کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے تاکہ عظیم مقصد کے راستے میں حائل رکاوٹوں کے سدباب کی قیمت کا بھی اندازہ ہو سکے کیونکہ ہمارے ہاں تبدیلی کی بات تو کیجاتی ہے لیکن اس کے لیے قربانی کی نوعیتوں کا پتہ نہیں ہوتا اور وہ تبدیلی بھی کرسی کی ہوتی ہے اس میکنزم کی نہیں جو انسانی ضروریات کی تکمیل کے راستے میں رکاوٹ ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے کردار میں سیرت کے مطابق تطبیق پیدا کریں ,کردار کی سیرت سے ہم آہنگی و نظم اس صورت میں پیدا ہو گا جب ہم سیرت کا مطالعہ قرآن حکیم کی پرمغز اور سماجی تعمیر کی دعوت تدبر وتعلیمات کے زاویہ نگاہ سے کریں گے اگر ہم سیرت کو قرآن حکیم کے ساتھ جوڑ کر نہیں سمجھیں گے تو ہماری اجتماعی زندگی گزارنے کی کوشش بے سود ثابت ہو گی ۔دور زوال کی گھڑیوں سے ہی مغربی پروپگنڈا مشین اس بابت نہایت یکسوئ کے ساتھ اذہان میں نفسیاتی برین واشنگ کے ذریعے سے قرآن حکیم اور سیرت کے باہمی پختہ رشتے کی ڈوری کو کاٹنے کی گھناونی سازش میں مصروف عمل ہے۔ جس کے نتیجے میں ان کے طے شدہ عزائم پورے ہو سکیں ,اس فلیش پوائنٹ پر ذہن کو شعوری سانچے میں ڈھالنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ سیرت و قرآن حکیم جن کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے سمجھ سکے اس کے افتراق پر عمومی ذہن کے سامنے قرآن حکیم کی عملی اپیل ماند پڑھ جاتی ہے ۔
لمحہ موجودہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم سیرت کو تعمیر معاشرہ جس کی بنیاد فطرت کے اصولوں پر استوار ہو کی عملداری میں سیرت سے رہنمائِی لیں جس کا ہر زاویہ باعث مینارہ روشنی ہے زوال کی عمیق گھاٹی اور گھٹا ٹوپ اندھیرے میں,قرآن حکیم ایک خاص بات کی سمت توجہ مبذول کراتے ہوے کہتا ہے:
تمارے لیے رسول اللہ کی زندگی بہترین نمونہ ہے”
لہذا آپ کی پر شکوہ اور بے نظیر کمالات و اوصاف کی حامل شخصیت کو تعمیر معاشرہ کا لاثانی پیمانہ رہنمائ مان کر روۓ زمین پر آباد قوموں کی سیاسی، اقتصادی اورسماجی صورتحال وغیرہ کو پرکھ سکتے ہیں اور اس کے مطابق اپنے اجتماعی کردار کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔
آپکی شخصیت ہر جہت سے درست سمت میں مقصد تخلیق کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے رہنمائ کرتی ہے چاہے اقترابات ہوں یعنی عبادات کا نظام یا معاملات یعنی سیاسی ,معاشی اقتصادی نظام وغیرہ ۔
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ سیرت کے انقلابی پہلو سے گہرا شعور حاصل کیا جاۓ تاکہ فرسودہ سوسائٹی کی خرابیوں کا بیخ و بن سے خاتمہ ہو سکے اور انسانیت اپنی فطرتی ترقی کی روشن شاہرہ پر گامزن ہو کر اپنے مقصد تخلیق کی ناؤ کو مراد ساحل پر لنگز انداز کر سکے۔
اس ضمن میں بنیادی طور پر سیرت کے مطالعے سے چند اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں:
کہ زوال یافتہ سوسائٹی کا خاتمہ کیسے ہوتا ہے ؟
اس کے خاتمہ کے لیے جہدوجہد کا میکنزم کیا ہو؟
اجتماعی کردار ادا کرنے کی افادیت کیونکر اتنی اہم ہے؟
ارتقائ طریقہ روگی سوسائٹی میں کیونکر نتیجہ خیز نہیں ہوتا؟