’’عن عبداللّٰہؓ ابن عمرؓ قال: قال رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ و سلّم: أعطوا الأجیر أجرہٗ قبل أن یجفّ عرقہٗ۔‘‘
’’حضرت عبد اللہؓ ابن عمرؓ سے روایت کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے پہلے اس کی مزدوری اور اُجرت ادا کردیا کرو۔‘‘ (رواہ ابن ماجہ)
اس حدیثِ مبارکہ میں مزدوروں کے حقِ اُجرت کے حوالے سے رہنمائی دی گئی ہے کہ مزدور جب اپنا کام مکمل کرچکے تو اس کا حق اسے فوری طور پر ادا کردیا جائے۔ اس میں ٹال مٹول کرنا اس کی حق تلفی ہے۔ حضوؐر نے فرمایا: ’’مطل الغنیّ ظلم‘‘ (مال دار کا ٹال مٹول سے کام لینا، ظلم ہے۔) اس طرح حضوؐر نے مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔
آج دنیا میں معاشرتی بے چینی کی گہری جڑیں دنیا پر مسلط اقتصادی نظام میں پائی جاتی ہیں۔جس کی بنیاد ہی مزدوروں، کاشت کاروں اور کمزور طبقات کے استحصال پر ہے۔ مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد کو عموماً شکاگو کے مزدوروں کے احتجاج سے جوڑا جا تا ہے۔ حال آں کہ اسلام نے بہت پہلے مزردوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ اسلام نے فرد کے انفرادی مفادات کے مقابلے میں ہمیشہ اجتماع اور پورے معاشرے کے حقوق کی بالادستی کو تسلیم کیا ہے۔ طاقت وَر اور بالادست طبقات کے مقابلے میں اسلام ہمیشہ مزدوروں، کاشت کاروں اور عام محنت کشوں کے حقوق کی بات کرتا ہے۔ جاگیرداری، سرمایہ داری اور طبقاتی بالادستی کی جس طرح حوصلہ شکنی اسلام نے کی ہے، وہ حضور اکرمؐ، جماعتِ صحابہؓ، صوفیا اور اَسلاف کی زندگیوں سے نمایاں ہے۔قرآن حکیم نے مساکین، مستضعفین، ضرورت مندوں اور محتاجوں کی کفالت پرمبنی نظام قائم کرنے کی جہاں دعوت دی ہے، وہاں اس نے دولت مندوں کو زجر و توبیخ بھی کی ہے۔ اور اپنی دولت میں مسکینوں اور غریبوں کو شامل کرنے کے تہدیدی احکامات بھی دیے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ: ’’یہ غلام (خادم، مزدور) تمہارے بھائی ہیں۔ ان کو وہی کھلاؤپلاؤ، جوتم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ آپ ﷺ جب دنیا سے انتقال فرماتے ہیں تو آپؐ کی زبان پر کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کی تلقین تھی۔ایک اور موقع پر ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اسکے ہاتھ کھردرے اور سخت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا کہ محنت اور مشقت کرتے ہو اس شخص نے بتایا کہ پہاڑوں کی چٹانیں کاٹ کر روزی کماتا ہوں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس محنت کش کے ہاتھ چوم لیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے الکاسب حبیب اللہ کہ مزدور تو اللہ کا دوست ہے۔ حضور اکرمؐ کی بعثت کا مقصددنیا سے قیصروکسریٰ کے ظالمانہ نظاموں کا خاتمہ تھا، تاکہ انسانیت ان کے معاشی استحصال اور سیاسی جبر سے آزاد ہو۔ اسلام نے انسانوں کے بنیادی حقوق اور مزدوروں کے اقتصادی اور معاشی مسئلے کو محنت کی عظمت اور عدل کی ضرورت واہمیت کے تناظر میں حل کیا ہے۔
ایک اور حدیث میں انسانوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے مندرجہ ذیل تین حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے: رسالت مآب ﷺ کا ارشاد ہے کہ زندگی بسر کرنے کے لیے انسان کو تین چیزیں لازماً درکار ہیں: کسرۃ خبزِِ (روٹی کا ٹکڑا)، قطعۃ ثوبِ (بدن ڈھاپنے کے لیے کپڑا) قطعۃ ارضِِ (رہنے کے لیے زمین کا ٹکڑا) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان امور کا محض وعظ ہی نہیں کہا، بلکہ ایک ایسا عملی نظام بھی تشکیل دیا، جو تمام انسانوں کو بلاتفریق رنگ، نسل اور مذہب ان چیزوں کے مہیا کرنے کے لیے عملی کردار ادا کرے۔ اور آپؐ کے ہی نقش قدم پر چل کر صحابہ کرامؓ نے ایک ایسا بین الاقوامی نظام قائم کیا جو تمام انسانوں کے معاشی مسائل کا حل تھا۔ اور پھر ہر دور میں اولیاء اللہ اور علمائے ربانّیین نے مزدوروں سمیت سوسائٹی کے تمام کمزور اورپسے ہوئےطبقات سے نہ صرف ہمدردی کی بلکہ ایک انسانیت دوست نظام عدل قائم کرنے کے لیے ہمیشہ ظلم و جبر کی قوتوں کے خلاف مزاحمت کا راستہ بھی دکھایا۔ اور سچی خدا پرستی کے نتیجے میں انسانیت دوستی کو فروغ دینے کے لیے ایک پاور فل کردار ادا کیا۔ اسلام انسانوں کو ان کے بنیادی معاشی حقوق سے محروم نہیں دیکھنا چاہتا۔ آج ہماری فلاح اسی میں ہے کہ ہم اسلام کے دیے ہوئے نظامِ حیات کو بطورِ سسٹم اور نظام کے غالب کرنے کی حکمت عملی اپنائیں۔ تاکہ ہم انسانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرکے ان کی حقیقی خدمت سرانجام دیں۔ اور رضائے الٰہی حاصل کریں۔