الیکشن 2018 کے بعد حکومت سازی بحران کا شکار نظر آرہی ہے، وفاق میں بھی عمران خان صاحب کی حکومت ہمیشہ اسی خطرے کی دوچار رہے گی، جس کا ذکر خان صاحب نے الیکشن سے کچھ دن پہلے ہی کیا تھا “مجھے معلق حکومت نہیں چاہئیے” لیکن حکومت ساز عناصر ہر کام ناپ تول کر کرتے ہیں، اپنے لیڈر کی حیثیت کا بھی اندازہ خوب کرتے ہیں، اس کو حکومتی مسند دینے سے پہلے اس کو اس مسند سے اتارنے کا سامان احتیاطاً اپنے پاس محفوظ کر لیتے ہیں تاکہ جناب والا کو آزاد خیالی اور اپنی ذات میں آمریت کا احساس پیدا نہ ہو، اور اپنے آپ کو “کل” سمجھنے کی غلطی نہ کرے، اگر کرے تو بآسانی ذلت کے بھیانک راستے پر ڈال کر تاریخ بنا دیا جائے… ذلت کےاس سلسلے کا آغاز قاعداعظم اول جناح صاحب سے ہوا، اس کے بعد قائد ملت نواب لیاقت علی خان، حسین شہید سہروردی سے ہوتا ہوا، عقل اور طاقت کل جنرل ایوب صاحب تک پہنچا، جنرل یحییٰ نے مزہ چکھا، پھر مشرق میں شیخ مجیب صاحب اس اعزاز کو پاسکے اور مغرب میں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو صاحب بذریعہ عدالت بانصیب ٹھہرے…. لیکن یہ سلسلہ کہاں رکنے والا تھا… پھر اپنے وقت کے امیرالمومنین جناب ضیاء الحق کو جنت کا راستہ براستہ بہاولپور دکھایا، اب یہ اعزازت کی نئی قسم کی شیلڈز تیار کی گئیں، اب اس ذلت کے اعزاز کو پانے کے لیے مرنا شرط نہیں ٹھہرا، کچھ رعائت ملنے لگی، نواز شریف صاحب کو صرف بر طرفی سے جھٹکا دیا کہ سنبھل جاؤ، دو تہائی پرغرور اچھا نہیں، وہ نہ مانے پھر وہی ہوا، طاقت کی خواہش کسے نہیں، طاقت کے لیے بینظیر نے اپنے آپ کو راضی کیا اور چل نکلیں کہ بس طاقت مل جائے تو سب ٹھیک کر دوں گی، لیکن کیوں اور کیسے، پھر جھٹکے ہو ئے نواز شریف کو موقع ثانی دیا، لیکن نوازشریف صاحب کہاں باز آنے والےتھے وہ پھر شرارتی ہوگئے، اب حکومت میں شرارتی انسان کہاں برداشت ہوتا ہے بالآخر مشرف کے سر پر ہما بیٹھا اور خوب اپنی منوائی لیکن مشرف سیانا بننا شروع ہوا ہی تھا، قوم کے بارے سوچنے ہی لگا تھا کہ آمریت بری بن گئی انسانی حقوق پامال ہونا شروع ہوگئے آزادی رائے کا بحران پیدا ہوا اور مشرف صاحب “پاکستان تیرااللہ ہی حافظ” کہتے ہوئے پاکستانیوں کو جمہوریت کے حوالے کر گئے، جمہوریت کا حسن پیپلز پارٹی نے خواب دکھایا اور ملک مالی بحران کا شکار ہوتا گیا، عوامی نمائندے “وزرا اعظم” اپنے پانچ سال نہ پورے کر پائے، قرعہ پھر نواز شریف صاحب کے نام نکلا لیکن باعزت واپسی نصیب نہ ہوئی، اب پھر وہی طاقتیں ایک نئے چہرے کو تبدیلی کے لبادہ میں کھوٹے سکوں کے ہمراہ میدان میں ہیں اور قائد اعظم ثانی عمران خان صاحب سے نئے پاکستان کا سنگ بنیاد رکھوانے جارہی ہیں. قائداعظم ثانی نے 22 سال کی خجالت کے بعد یہ جانچ لیا تھا اگر پاکستان میں کچھ کرنا ہے تو اس کے لیے کم ازکم وزیر اعظم بننا ہو گا، اور اس مسند تک پہنچنے کا واحد طریقہ ماضی کی اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ محکمہ زراعت کے تعاون سے ہی ممکن ہوگا،
ان کا یہ ادراک بالکل درست نکلا اور نتیجتاً وہ اس منزل کو پانے میں کامیاب ہوگئے جس کے لیے کئی بار الیکشن میں اپنی ضمانتیں ضبط کروا چکے تھے. اس ساری تاریخ سے جو نتیجہ نکلتا ہے، وہ پریشان کن ہے. جب کوئی بھی لیڈر ان طاقتوں کے کندھے پر سوار ہو کر آتا ہے، وہ تب تک ہی اس منزل پر ٹھہر پاتا ہے جب تک وہ ان کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنا رہے ورنہ اسے کسی نہ کسی ذلت سے ضرور سامنا کرنا پڑتا ہے، پھر بھی بات نہ بنے تو اس دنیا سے رخصت کا سامان مہیا کیا جاتا ہے.
اس شارٹ کٹ کی بجائے اگر مستند طریقہ اپنایا جائے تو نتائج مختلف ہوسکتے ہیں، قوم بھی صحیح ڈگر پر چل سکتی، قومی وقار بھی بحال ہو سکتا ہے، اس کے لیے اپنے نظریات پر پختگی پیدا کی جائے، ان نظریات پر جماعت سازی اور تربیت کا انتظام ہو، جو لوگ آپ کے ساتھ ہوں وہ واقعی آپ کے ساتھی ہوں نہ کہ کھوٹے سکے یا چلے ہوئے کارتوس، تو آپ کو یقیناً حقیقی قومی نمائندگی میسر آسکتی، ایک واحد انسان کا ویژن، ایک واحد انسان کی ایمانداری، لگن اور خلوص قومی سیاست کے لئے ناکافی ہوتے ہیں، قومی تبدیلی کے لئے کم از کم آپ کے ایم این ایز، ایم پی ایز اور سینیٹرز بھی اسی نظریہ اور اہداف سے منسلک ہوں جس کے آپ خواہش مند ہیں تو تبدیلی کی توقع کی جاسکتی ہے، ورنہ آپ کو بھی محض قائداعظم ثانی کے لقب پر ہی گزارا کرنا پڑے گا…
مناظر: 159