اب یہ انفرادی سوچ جو ایک گھر ،کمیونٹی ،محلہ یا قصبہ تک محدود ہوئی .اس کی بنیادی وجہ مایوسی ہے .1970 کے الیکشن شاید آخری الیکشن تھے جو بنیادی عوامی مسائل جیسے روزگار ،مہنگائی،خارجہ پالیسی اور قومی حقوق کے مطالبے پہ لڑے گئے .اس کے بعد جب الیکشن کے بار بار ادوار کے باوجود عوام کو کوئی ریلیف حاصل نہ ہو سکا تو عوام کے ایک حصّہ نے تو ووٹ دینے کو لایعنی عمل سمجھ کر کنارہ کر لیا اور دوسرے حصّے نے ووٹ کو انفرادی درجے کی سہولیات کی فراہمی کے لئے لین دین کا ٹوکن سمجھا .کچھ غریب تو اسے چند سکوں کے عوض بیچنے پہ بھی تیار ہو گئے .
یہی وجہ ہے کہ ووٹر ٹرن آوٹ اکثر الیکشن میں چالیس فیصد کے درمیان ہی رہتا ہے .اب یہاں سے روشنی کی ایک کرن پھوٹتی ہے .ایک طبقاتی سیاسی نظام میں جو سرمایہ کے بل پہ کھڑا ہو ، اس نظام میں مزدور اور کسان کے نمائندے کیوں کر پارلیمنٹ میں پہنچ سکتے ہیں .لہٰذا ضرورت ہے کہ جمہوری سیاسی طریقے سے اس نظام پہ اپنے عدم اعتماد کا اظہار کیا جائے۔ جو ساٹھ فیصد لوگ اس نظام سے مایوس ہیں .انھیں اس مایوسی سے حکمت عملی کے سفر پہ گامزن کیا جائے .جو انفرادی فائدے کے لئے ووٹ کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کو اس عمل کی بے مقصدیدیت کی طرف توجہ دلائی جائے اور کوشش کی جائے کہ جب تک سیاسی عمل میں طبقاتی سیاست اور سرمایہ کی اولیت کو ختم نہیں کیا جاتا .کسان اور مزدور کے حقیقی نمائندوں کو برابر کی سطح کی مقابلہ بازی کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے تو الیکشن کے عمل سے عوام دور رہیں.
اگر عوام اس بات پہ قائل ہو کر الیکشن کے عمل سے دستبردار ہو جائے تو یہ نظام خود ٹوٹ جائے گا .آپ خود سوچیں کہ دس سے بارہ فیصد ٹرن آوٹ والے الیکشن کی اخلاقی حیثیت کیا ہو گی اور لامحالہ سسٹم کو بدلنا پڑے گا.محض شکلیں بدل بدل کر سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کو چنتے رہنے کی آزادی سے کسی حقیقی تبدیلی کا ممکن ہو جانا اشرفیہ کا سب سے بڑا ڈھکوسلہ ہے …