اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بنائی ہے ،اس میں ہر ایک چیز کامقصد اور مرتبہ ہے، اسی طرح اس دنیائے انسانیت میں ہر انسان کی پیدائش کا ایک مقصد ہے کہ اس نے دنیا میں آکر وہ کام کرناہےجس کے لیے وہ پیداہواہے؛لیکن زندگی کا یہ مقصد جاننا کیسے ہے؟یہ ایک اہم سوال ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کسی غیر سنجیدہ انسان کے لئے نہیں رکھا۔ سوال کیا ہے؟ میں کون ہوں؟ میں کس کام کے لئے آیا ہوں؟ کیا میں نے اپنے آپ کو کبھی تسخیر کیا ہے؟
کیا میں نے کبھی اپنے آپ کو تلاش کیا ہے؟ کیا میںنے یونیورسٹی میں ایڈمیشن اپنے والدین کے کہنے پر لیا ہے؟ کیا میرا نام صرف اس کالج کی میرٹ لسٹ پر آ گیا ہے لہٰذا اس لئے میں یہاں پر آ گیا ہوں؟ آپ یہ دیکھیں کی خدا نے کس کام کے لئے آپ کو بھیجا ہے۔ مجھے ایک واقعہ نہیں بھولتا، ہمارے ایک استاد ہیں واصف علی واصف صاحب ، ان سے کسی نے سوال کیا کہ کیسے پتہ لگتا ہے انسان کو اپنے آپ کا۔ انہوں نے فرمایاکہ یہ سوال اب چند دن بعد مجھ سے کرنا۔ ایک ہفتہ بعد وہ شخص دوبارہ ملا تو واصف علی واصف نے پوچھا کہ تمہارا سوال کیا تھا؟ اس نے کہا کہ وہ سوال تو میں بھول چکا ہوں۔ تو واصف علی واصف نے کہا کہ جس سوال کو تم ایک ہفتہ اپنے پاس سنبھال کر نہیں رکھ سکے ، قدرت اس سوال کا جواب تمہیں نہیں دے گی۔ ٰ
لہٰذا جب آپ کی ذات کا سنجیدہ سوال یہ بنتا ہے کہ میں نے اپنے آپ کو پرکھنا ہے، اپنے آپ کو تلاش کرنا ہے۔ میں نے اپنے پوٹینشل کو دیکھنا ہے۔ آپ نے اپنی مضبوطی کو دیکھنا ہے،تو آپ اپنے پر غور کریں گے تودیکھیں گے کہ خدا نے آپ کے اندر ایک ٹیلنٹ ،ایک خوبی غیر معمولی درجے کی رکھی ہوئی ہے، اورآپ نے اس کو کبھی تسلیم ہی نہیں کیا۔ کبھی آپ نے اپنی اس صلاحیت پر دھیان ہی نہیں دیا۔ یہ ممکن ہے کہ آپ لوگوں میں سے کوئی پیدائشی ٹیچر ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے اندر کوئی شخص پیدائشی ریسرچر ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ لوگوں میں سے کوئی شخص بہت اچھا بزنس مین ہو لیکن وہ ڈگری کسی اور کام کی حاصل کر رہا ہو اور اس میں بزنس کی سینس بہت اچھی ہو۔ لہٰذا اپنی اس چھوٹی سی زندگی جس میں آپ کو ایک ہی بار موقع ملنا ہے۔
دنیا میں ہمارا ایک اور آخری سفر ہے اور ہمیں اکیس سال کی عمر میں یہ طے کرنا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو تلاش کرنا ہے۔اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ وہ کونسا راستہ یا طریقہ ہے جس سے آپ اپنے آپ کو پہچانیں کہ آپ کس کام کے لئے دنیا میں پیدا ہوئے ہیں۔
(۱) جس کام میں آپ کو ذاتی طور پر دلچسپی اور آپ کا رُجحان ہو۔ یہی سوال اگر میرے پاس پہلے موجود ہوتا تو میں کیمیکل انجینئرنگ کے ڈیپارٹمنٹ کے باہر کھڑا ہو کر اپنے آپ سے پوچھتا کہ کیا کیمیکل انجینئرنگ کر کے اطمینان حاصل ہو گیا ہے۔ تو میرااندر کا جواب نفی کی صورت میں ہوتا کیونکہ میرا اطمنان صرف اور صرف لوگوں سے باتیں کر کے ، لوگوں کو پڑھا کر ، ان کی زندگی کو بدلنے کے موضوع پر تقریر کر کے ایک استاد کی شکل میں ہے۔ میرے لئے سیلف ہیلپ، ایچ ۔آر۔ او سمجھانا آسان تھا اور انجینئرنگ کے سبق کو سمجھانا میرے لئے مشکل تھا۔
اللہ تعالیٰ کا انسان پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ جس کام کے لئے اللہ تعالی نے انسان کو پیدا نہیں کیا ، اس کام کو کرتے وقت انسان بور ہو جاتا ہے۔ لہٰذا بور ہونا بھی ایک قسم کا آلہ ہے جس کو استعمال کر کے آپ اپنی زندگی کے مقصد کا تعین کر سکتے ہیں۔ یہ ایک قسم کا ایسا آلہ ہے جو آپ کے اندر موجود ہے اور آپ کو یہ بتاتا ہے کہ یہ جگہ آپ کے لئے نہیں ہے ، یہ موضوع آپ کے لئے نہیں ہے ، یہ کلاس آپ کے لئے نہیں ہے، یہ بندہ بھی آپ کے مطلب کا نہیں ہے۔
(۲) جس کام کو کرتے ہوئے آپ کو معاوضہ کی پرواہ ختم ہو جائے ، اس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہوتا ہے۔ ہمارے پاس پڑی ہوئی اس کرسی نے کبھی ہم سے معاوضہ نہیں مانگا ، یہ اسی کام کے لئے بنی ہے کہ اس پر بیٹھا جائے یعنی جو سروس یہ کرسی دے رہی ہے اس کا بدلہ طلب نہیں کر رہی۔ لہٰذا وہ کام جس کو کرتے وقت آپ کو اس کے بدلہ کی توقع نہ ہو، تو جان لیں کہ اسی کام کے لئے اللہ تعالی نے آپ کو منتخب کیا ہے۔
(۳) جس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیدا کیا ہے ، آپ چاہیں یا نہ چاہیں ، دشمن بھی آپ کے اس کام کی تعریف کرے۔ انسان دنیا کی واحد مخلوق ہے جس کو تعریف کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم تعریف کے بھوکے نہیں ہوتے لیکن یہ ہماری روزانہ کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اپنے آپ کو بیک اپ کرنے کے لئے ، ہمیں اپنے آپ کو چارج کرنے کے لئے کسی نہ کسی کی شاباشی چاہیے ہوتی ہے، کسی چیزکی تعریف چاہیے ہوتی ہے ، کسی چیز کا کمپلیمنٹ چاہیے ہوتا ہے۔ یقین کیجیے گا یہ قدرت کا پکا اصول ہے کہ اگر آپ کے اندر ایک ٹیلنٹ موجود ہے آپ اس ٹیلنٹ کو لاکھ چھپا لیں ایک نہ ایک دن اس ٹیلنٹ کی وجہ سے آپ کی تعریف آنی شروع ہو جائے گی۔اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ گانا کون اچھا گاتا ہے ۔ تو تمام کلاس میں سب کے ذہن میں ایک لڑکے کا نام ضرور آ جائے گا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کیونکہ سب کو پتہ ہے کہ فلاں لڑکے کی آواز بہت اچھی ہے۔ اس لڑکے کے اندر یہ ٹیلنٹ خدا نے رکھا ہے چاہے تھوڑا ہو گا لیکن پوری کلاس کو یہ پتہ ہے کہ یہ ٹیلنٹ اس لڑکے کے اندر ہے۔
(۴) جس کام کے لئے اللہ تعالی نے آپ کو پیدا کیا ہوتا ہے ، اس کام کو کرتے وقت آپ ٹائم اینڈ سپیس سے آؤٹ ہو جاتے ہو، یعنی وہ کام آپ کو تھکاتانہیں ہے۔ آپ محسوس کرتے ہیں کہ جب آپ کسی کام کو کرتے وقت پورے طور پر منسلک ہوئے ہیں تو آپ کو وقت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ میں ایک ایسے بچے کو جانتا ہوں جو چھوٹی چھوٹی فلمیں بناتا تھا۔ وہ گورنمنٹ کالج سے ایف ۔ایس۔ سی کرنے کے بعد بیکن ہاؤس کے اسکول میں فلم میکینگ کی جاب کر رہا ہے۔ میں نے اس لڑکے سے پوچھا کہ تم یہ سب کچھ کیسے کر لیتے ہو؟(پچھلے دنوں وہ انڈیا گیا ہوا تھا’’ یش چوپڑا ‘‘ایک فلم بنا رہا تھا اس کو دیکھنے کے لئے کہ وہ لوگ فلم کیسے بناتے ہیں۔) تو اس نے جواب دیا کہ سر مجھے یہ پتہ لگ گیا تھا کہ یہ کام مجھے تھکاتا نہیں ہے لہٰذا میں اسی کام کے لئے پیدا ہوا ہوں۔ وہ کہتا ہے کہ میں اس کام کو کرتے وقت اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے مسلسل کام کرتا ہوں۔ میں دن میں تین تین چار چار موویز دیکھتا ہوں اور اسے دیکھتے وقت مجھے ہر ایک ایک سین یاد ہو کر ذہن نشین ہو جاتا ہے۔
(۵)یہ پوائنٹ بڑا اہم ہے ، آپ کے اندر جو خدا نے صلاحیت دی ہوئی ہوتی ہے ، نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کے اندر اس کی انفارمیشن اکٹھی ہو جاتی ہے۔ آپ کا دل کرتا ہے کہ میں اس کام کو جانو، آپ کے اندر سے یہ آواز نکلتی ہے کہ میں اس چیز کی تلاش کروں۔
یاد رکھیے گا ! اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو دنیا میں آگے بڑھنے کے لئے بھیجا ہے ، لہٰذا آگے بڑھنے کے لئے انسان کو محنت کرنی پڑتی ہے کام کرنا پڑتا ہے، انسان کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ اللہ کا خلیفہ ہے نائب ہے لہٰذا اللہ تعالی نے انسان کو یہ صلاحیت بھی دی ہے کہ انسان اپنے آپ کو جان لیتا ہے اور اپنی تلاش خود کر لیتا ہے ۔