دنیا کی کوئی طاقت آپ کا مستقبل تبدیل نہیں کر سکتی مگر آپ اپنی عادات تبدیل کر لیں یہ آپ کا مستقبل بدل کر رکھ دیں گی ۔۔ یہ تاریخی جملہ ایک ماہی گیر ہندوستانی کا ہے جو دریا کے کنارے کشتیاں کرائے پر دیا کرتا تھا ۔اس کی زندگی پر اس کے باپ (جو اس کا استاد بھی تھا) کا گہرا اثرتھا ۔ اسی پیشے سے اس نے اپنی پڑھائی مکمل کی اور پھر انڈین ایئر فورس میں رہنے کے بعد ہندوستان کا صدر بنا ۔ دنیا اسے ڈاکٹر عبدالکلام کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ حضور والا زندگی دنوں میں،مہینوں میں یا سالوں میں نہیں بدلتی بلکہ زندگی ایک لمحے میں بدل جاتی ہے ۔ وہ لمحہ جب آپ مان لیتے ہیں کہ ہاں ایسا ممکن ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کو شاید زندگی لگئی یہ جملہ بولنے کے لیے لیکن ہمارے لیے یہ ایک لمحہ ثابت ہو سکتا ہے اگر ہم یہ فیصلہ لیں کہ زندگی کو بدلنا ہے ۔ آپ اگر ایک لسٹ بنائیں جس میں دو کالم ہوں اور ایک میں آپ وہ چیزیں لکھیں جو ہم بدل نہیں سکتے اور دوسری میں وہ چیزیں جو ہم بدل سکتے ہیں تو آپ حیران ہوں گے کہ وہ چیزیں بہت زیادہ ہیں جن کو آپ بدل سکتے ہیں لیکن کبھی خیال ہی نہیں جاتا اس طرف کیونکہ ہمارا معاشرہ اور ہمارا میڈیا ہماری توجہ انہی چیزوں پر دلاتا ہے جو کہ انفرادی نہیں بلکہ اجتمائی ذمہ داری کے زمرے میں آتی ہیں اور ہم لوگ بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کے جب تک انفرادی سطح پر تبدیلی نہیں آئے گی اس وقت تک اجتمائی تبدیلی کی امید ایسے ہی ہے جیسے کسی معجزے کا انتظار ہو ۔ اقبال نے کیا خوب کہا:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
عادت کسی کام کو بار بار کرنے کا نام ہے اور کسی کام کو بار بار تبھی کرتے ہیں جب آپ اس کے بارے میں سوچتے ہیں اور سوچتے آپ تبھی ہیں جب آپ یہ یقین کرتے ہیں کہ یہ صحیح ہے ۔ اب یہ لفظ صحیح کی جانچ ہی وہ بیج ہے جو ہم انجانے میں بو دیتے ہیں اور اسی بیج سے ایک درخت (انسان) بنتا ہے ۔ استاد کہتے ہیں کہ اپنے دل کے دروازے پر دربان بن کے بیٹھو اور ہر اندر آنے والی سوچ سے پوچھو کہ اس کا ماخذ کیا ہے؟ سوچ /گمان /خیال ہمیشہ دل سے دماغ کو جاتا ہے ۔ آپ جیسا محسوس کرتے ہیں ویسے ہی خیالات اپنے دماغ کو بھیجتے ہیں ۔ اس لئے سب سے پہلے آپ اچھا محسوس کرنا شروع کریں اور اپنے دماغ کو اچھے خیالات بھیجیں تا کہ دماغ کے اندر پہلے سے موجود منفی خیالات سے چھٹکارا مل سکے ۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ سوچوں کی اس جمی ہوی تہہ تک پہنچنا ہے جس کو آج تک کبھی چھیڑا ہی نہیں گیا جو متھ کی شکل اختیار کر چکی ہوتی ہیں ۔ مثلا گالی کے بدلے میں گالی نہ دی تو بے عزتی ہو گی ۔ بہن اونچا بولے تو محبت بیوی بولے تو ہتک ۔ چاچو کچھ کہیں تو خیر ماموں کچھ کہہ کر جائیں کدھر ۔۔۔ایسی بہت سی سوچیں ہیں جو بچپن سے ہی پروگرام کر دی جاتی ہیں اور انسان آدھی زندگی ان کو مانتا ہے اور باقی زندگی اس لئے نہیں چھوڑتا کہ لوگ کیا سوچیں گے ۔
یہاں میں اپنے ہی معاشرے کی ایک مثال دے کر آپ کے ذھن کو جھنجھوڑنا چاہوں گا ۔ ایک لڑکا اور لڑکی جب رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتے ہیں تو:
۱) کیا کوئی ایسا فورم ہے جس پر لڑکے اور لڑکی کو سٹینڈرڈز اور بنچمارکس سمجھائے جائیں کہ زندگی ایسے گزارنی ہے؟
۲) لڑکے کو اس کے دوست سمجھاتے ہیں (اپنی زندگی کے تجربہ سے) اور لڑکی کو اس کی سہیلیاں (اپنے اور دوسری سہیلیوں کے تجربہ سے) کیا ایسا ہونا چاہئیے؟
۳) لڑکے /لڑکی نے جس طرح اپنے ماں باپ کو زندگی گزارتے ہوے دیکھا ہے ۔ کیا ضروری ہے کہ وہ طریقہ سب کا ٹھیک ہو؟
۴)کبھی آپ نے سوچا ہے کہ لڑکا لڑکی آپس میں کیسے نباہ کریں گے اسکا طریقہ کار کیا ہونا چاہئیے؟
۵) کیا ہم اپنی نئی زندگی اپنے دوستوں یا والدین کی طرح گزار سکتے ہیں؟
حضور والا ایسی بہت سی مثالیں ہیں جو دی جا سکتی ہیں ۔ آپ اوپر والی مثال کی روشنی میں یہ تجزیہ کر سکتے ہیں کہ رشتہ ڈھونڈتے وقت کیا سوچ کارگر ہوتی ہے؟ وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ہمیں لڑکی ایسی چاہئیے ہوتی ہے جو دکھنے میں کترینا لیکن گھر میں سکینہ ہو ۔ کم نصیبی یہ ہے کہ رشتہ دیکھتے وقت ہم صرف بچی کا حسن اور بچی والوں کا پیسہ دیکھتے ہیں اور بچی جب گھر میں آ جاتی ہے پھر اسکی اور اسکے گھر والوں کی عادتوں پر تنقید کر نا شروع کر دیتے ہیں ۔اسی سوچ کی وجہ سے ہمارے گھروں میں مسایل ختم نہیں ہوتے اور نہ حتم ہونگے جب تک ہماری سوچ کو نیا ماخذ نہیں ملتا ۔
پرانی سوچوں سے پیچھا چھڑانے اور نیا سیکھنے کے تین طریقے ہیں:
ایڈورڈ ڈ دی بونو(Edward De Bono) نے سوچنے پردنیا میں سب سے زیادہ کام کیا ہے ۔ اس کی کوئی ایک بک پڑھ کے سوچنا سیکھا جا سکتا ہے ۔
دوسرا طریقہ سوچ کو بدلنے کا استاد اور بابوں کی مجالس ہیں ۔ کوئی استاد، کوئی رہبر کوئی مرشد جس کو آپ دل سے مانتے ہوں وہ آپ کی سوچ بدل سکتا ہے ۔
اگر یہ دونوں طریقے قابل عمل نہ ہوں تو ایک طریقہ رہ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی میں کوئی ایک مقصد لائیں جو آپ کی سوچ،طاقت، فکر اور خلوص کو ایک جگہ پر مرکوز کر دے جو آپ کو صحیح معنوں میں اس چیز سے بے خبرکر دے کہ کون کیا کر رہا ہے ۔ کثیر المقصدیت کی زندگی سوچوں کو یکجا نہیں ہونے دیتی اور آپ ساری زندگی کوئی فیصلہ نہیں کر پاتے ۔
سورج قدرت کا بنایا ہوا ایک شاہکار ہے جو ایک ہی قسم کی دھوپ سے ہمیں گرمی بھی دیتا ہے اور سردی بھی ۔ اگر سورج ہی کی روشنی کو ایک چھوٹے سے عدسے پر مرکوز کر لیا جاے تو کاغذ کو آگ لگا دیتا ہے بالکل اسی طرح اگر ہم اپنی سوچوں کو کسی ایک کام کے لیے مختص کر دیں تو ہمارے لیے روشنی بننا مشکل نہیں ہے ۔یہاں یہ بتاتا چلوں کہ حال ہی میں ہمارے ایک بڑے مشہور صدر گزرے ہیں (ابھی بھی سیاست میں ہیں) انہوں نے اس انگریز مصنّف کو پاکستان بلایا اور ان سے با قاعدہ سوچنا سیکھا اور بد لے میں قومی خزانے سے بھاری فیس بھی ادا کی گئی ۔ حضور والا زندگی بہت ہی محتصر ہے ساٹھ میں سے تیس تو سو کر گزر جاتے ہیں، باقی تیس میں سے دس سال بچپن /بیوقوفی میں، پندرہ سال ہم کاروبار/نوکری میں گزار دیتے ہیں اور باقی پانچ چھے سال بچ جاتے ہیں ۔ خدارا کچھ کر لیں ۔ اللہ تعا ل ہمیں اپنی زندگیوں کو سمجھنے کی توفیق دے اور اسے با مقصد بنانے کی ہمّت دے ۔آمین