وہ عظیم ہستی جس نے تیئس (23) سال کی قلیل مدت میں بت پرست، بدکردار، خوں آشام، وحشی او رخود سرعربوں کو بطل اقوام بنادیا۔ روحانیت سے ناآشنا ریگزار جس کے نقش پاکے طفیل فرشتوں کی سجدہ گاہ بن گیا جس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر یہ وحشی قوم دنیا کی متمد ن اور مہذب اقوام کی رہبر بن گئی ، جو صحرا ظلمت کدہ تھا۔ اور جہاں قانون، انصاف، انسانیت اور روحانی مراتب دیوانے کا خواب تھے، الفت ومروت، انسانیت ومحبت کا گہوارہ بن گیا۔
وہ جس نے ایک عظیم تہذیب کی بنیاد رکھی اور ایک قلیل عرصے میں اس تہذیب کو صدیوں کے ارتقائی مراحل سے گزار کر اس مقام پر پہنچادیا جہاں ہزارہا سال سے پرورش پانے والی سربفلک تہذیبیں بونی نظر آنے لگیں، جس نے اقوام عالم سے مصری، شامی، ایرانی، تورانی، حبشی اور رومی کے نسلی امتیازات اور کالے گورے کا فرق مٹاکر انہیں ایک ملت بنادیا، جس نے انسان کو ہر قسم کی غلامی سے نجات دلائی، جس نے طلب علم کا حکم دے کر تحریک علمی قائم کی ، وہ جس نے شعور انسانی کو اسباب وعلل پر غور کرنے کی راہ پر لگایا، وہ اولین شخصیت جس نے تسخیر کائنات کی تعلیم دی، وہ جس نے ہر شعبہ زندگی کو حکم خداوندی کے تابع کیا، جس نے سیاست، معاشرت، اقتصادیات، عمرانیات، تہذیب وتمدن، کردار واخلاق ،احساسات وجذبات کو معتدل ضوابط کا پابند کیا،۔
جس نے انسانی مساوات قائم کی، جو قواعد اس نے دوسروں کو دئیے خود بھی ان پرپابند رہا، جس نے حق کی خاطر تن تنہا حوادث زمانہ کا مقابلہ کیا، بے یارومددگار تھا تو بھی پائے استقامت میں جبنش نہ آئی، اقوام عالم کی زمام اقتدار ملی تو بھی ناقابل تغیر رہا ، اس کا مہر کردار بے داغ، عمل بے ریا، احساس نزاکتوں سے بھرپور، دل رافت ورحمت سے لبریز ، جس کو کسی دشمن کی دشمنی جادہ انصاف سے سر مونہ ہٹاسکی، شجاعت وسخاوت جس پر رہتی دنیا تک فخر کرتی رہے گی، جس کے گھر قناعت نے پرورش پائی، استغنیٰ نے جس کی قدم بوسی کی ، پیر صدق وصفاء، مجسم تسلیم ورضا شب بیدار کم آرام، بے نفس، حق کوش وحق طلب، دستگیر، متقی، مقدس، سادگی پسند، دوسروں کی تکلیف میں بے چین ہوجانے والا، رہبرورہنما ،میر کاروان ملت، عالی نسب ، والا حسب، ہاشمی ومطلبی، قریش ومکی ومدنی وعربی ،قبلہ دین، کعبہ ایمان ، محمد الرسول اللہﷺ جن کے نام پر فدا ہوجانا ہر مسلمان کے لئے فوزعظیم، چرخ گردوں کی یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ اس ذات والا صفات کا جو خاکہ اس کے مغربی دشمنوں نے اپنی من گھڑت، تحریروں میں پیش کیا اس کا حقائق سے دودور تک کوئی تعلق نہیں نظر آتا۔
صدیوں تک مغرب نے نبوت کو ہی تسلیم نہیں کیا۔ پھر جب دانشوروں کو انکار میں دقت ہونے لگی تو انہوں نے نبوت کو مقامی قراردیا، جو محض بطحا، حجاز یا عربوں تک محدود تھی۔ ہوتی آئی ہے کہ لوگ اپنے عیوب دوسروں سے منسوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی اسلام کے ساتھ بھی کیا گیا۔بائبل کے سارے انبیاء یہاں تک کہ یسوع مسیحؑ بھی اپنے دائرہ کار کو صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں تک محدود رکھنے کا اعلان کرتے رہے۔ جو لڑکوں کی روٹی کتوں کو دینے کے قائل نہیں کہے جاتے ، ان کی مسیحائی تو عالمی قراردی جاتی ہے اور جو روز اول سے عالمی دعوت کے مدعی ہوں ان کی دعوت کو مقامی ٹھہرایا جائے، کیا یہ بوالعجبی بائبل کی خامی کو قرآن سے منسوب کرنے کی جسارت نہیں ہے؟( اسلام میں نبوت کی عالمیت کے لئے ملاحظہ ہو، قرآن مجید، سورۃ آل عمران۔۹۶،۱۰۴:سورۃ مائدہ۔۶۷، سورۃ الانبیاء۔۱۰۷: سورۃ الفرقان۔ ۱۔ سورۃ ص۔۸۷، سورۃ القلم،۵۲، سورۃ التکویر۔۹وغیرہ)
قرآ ن نے آنحضرتﷺ کی ذات کو مومنوں کے لئے اسوہ حسنہ قرا ردیا کیونکہ ان کی ذات گرامی مجسم اخلاق قرآنی تھی۔ لیکن چونکہ مغرب نے ہزار سال سے زیادہ کذاب بیانی کی تھی اس لیے یہ کذاب اس طرجح ان کے رگ وریشے میں بس گیا تھا کہ جب اسلام کی حقیقت ان کے سانے آئی تو اسے بھی جھٹلانے لگے۔ انہوںنے جہاں اس بات کو تسلیم کیا کہ متعصب مغربی، اسلام کی تصویر میں غلط رنگ اور بھدے نقوش عمداً استعمال کرتے ہیں وہیں یہ بھی کہنے سے باز نہ آئے کہ یہ مثالی کردار سیرت اور مغازی کی مدد سے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس تجسیم میں احادیث کا ہاتھ ہے جن کے ذریعے کردار کے اہم پہلونمایاں کیے گئے ہیں۔ مغربی اسکالرز نے خصوصیت کے ساتھ احادیث کا تنقیدی مطالعہ کیا۔ انہوںنے اس میں تاریخیت کی تلاش کی اور پھر یہ حکم لگادیا کہ بیشتر احادیث ناقابل اعتبار ہیں، شائد اس لیے کہ مغربی تصور کی تائید نہیں کرسکتیں۔
رسول اللہﷺ کے بارے میں وہ جب کوئی واقعہ پڑھتے ہیں تو منطق کے بل پر کوئی نہ کوئی اعتراض پیدا کرلیتے ہیں۔ حالانکہ حضرت عیسیٰؑ کے بار ے میں اگر کوئی ایسا واقعہ انجیل میں نظر آتا ہے جس کی توجہیہ نہ کر سکیں تو اس کے دفاع میں کہتے ہیں کہ،
(اگر یسوع نے ایسا نہیں بھی کیا(مثلاً عورتوں کی بے حرمتی کے معاملے میں) تو یہ وہ عمل ہے یقینا ان کے معتقدین نے گمان کیا ہوگا کہ ان حالات میں وہ ایسا کرتے۔)
M.WAT:WHAT IS ISLAM,P229‘
ایک ہی نوعیت کے معاملات میں مختلف فیصلے منصف کی جانبداری کا بین ثبوت ہوتے ہیں اور جانبداری کے فیصلے واضح طور پر عدل وانصاف سے مبرا ہوتے ہیں۔
داعی اسلام کی مخالفت کیوں؟
تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی انقلاب آفریں فکر کوبلاشدید مخالفت کے تسلیم کرلیا گیا ہو۔ ایسی فکر چونکہ معاشرتی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے۔ جس کے باعث انفرادی اور اجتماعی مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔ اس لیے معاشرے کا مقتدر طبقہ اس فکر کو بالجبر روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ سقراط کو یونان کا عظیم ترین مفکر سمجھا جاتا ہے، اس کی فکر اگرچہ کوئی عملی تحریک نہیں تھی اس کے باوجود اسے اپنے ہی ہاتھوں زہر کا پیالہ پینا پڑا۔ بائبل کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کی تبلیغ کا سیاست سے کوئی تعلق نہ تھا، انہو ں نے نہ صرف سیرز کو تسلیم کیا بلکہ اس کے حلقہ اقتدار کو اپنے دائرہ کار سے خارج بھی کیا، اور اپنے شاگردوں کو طاقت کے استعمال سے حکماً روکا، اس کے باوجود انہیں سزائے موت سنادی گئی۔ آخر کیوں؟ انکا جرم کیا تھا؟
تلاش جرم وخطا کے لیے ہمیں سیزر کا انداز فکر اختیار کرنا ہوگا۔ اس کے علاقے میں صرف اسی کا اقتدار ہوتا ہے کوئی گردن اٹھائے تو خود سر، کوئی زبان کھولے تو باغی۔ ہر شخص کے دل ودماغ میں صرف سیزر کی عظمت کا احساس ہونا چاہیے۔ یہ عظمت کا احساس جس سر میں نہ ہو وہ سبک سر ٹھہرے۔ ہر فرد کو صرف اسی کے قانون کا پابند ہونا چاہیے۔ اگر پابند نہ ہوتو قانونی مجرم۔قانون سازی اسی کا حق ہے، کوئی دوسرا قانون یا قانون ساز اس کی مملکت میں ناقابل برداشت۔ حق وصداقت صرف وہ ہے جسے سیزر تسلیم کرلے۔ بااختیار انداز گفتگو صرف سیزر کے لئے ہی وقف ہے، کوئی دوسرا اس کی مملکت کی حدود میں یہ اندازاختیار نہیں کرسکتا۔
انبیاء تو کیا مفکرین بھی مبینہ پابندیوں کو پرکاہ کی حیثیت نہیں دیتے۔ ان کا ایک مقصد حیات ہوتا ہے اور اس کی تکمیل انہیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ وہ سیزر کو نظر انداز کرتے ہیں۔ قیصریت اور نبوت میں چھڑ جاتی ہے۔ کبھی قیصریت بندہ حق کو راہ سے مٹانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس کی مخالفت کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ ان کے افکار کبھی تو پروان چڑھ جاتے ہیں اور کبھی صرف کتابوں کی زینت بن کر رہ جاتے ہیں۔ اس طریقہ کار میں کسی سیزر کو رعایت دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کبھی موسیٰؑ فرعون کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اورکبھی ابراہیمؑ نمرود کی مملکت سے ہجرت کرجاتے ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ حالات کے مطابق طریقہ کار جدا ہیں لیکن ان سب میں جو قدر مشترک ہے وہ اعلائے کلمۃ الحق ہے۔ اور بے باک، آزاد اور خودمختار انداز کلام کو معاشرہ اور اس کا سربراہ برداشت نہیں کرسکتا۔ یہی تحکم کلام انکا جرم بن جاتا تھا۔
حضورﷺ کا ہر انداز منفرد، بااختیار ،بااقتدار اور پرعظمت ہے۔دیگر انبیاء کی طرح ان کی بھی مخالفت کی گئی۔ اوروں کی مخالفت اس لیے ختم ہوگئی کہ یا تو معاشرہ ان پر حاوی آگیا یا پھر ان کی فکروتعلیمات کو معاشرے نے اپنے مفاد کے مطابق ڈھال لیا۔ لیکن آنحضرتﷺ نہ تو مغلوب ہوسکے نہ ہی ان کی محکم تعلیمات میں معاشرہ کوئی تبدیلی لاسکا۔
مسلم معاشرے کا دائرہ جتنا وسیع ہوتا گیا اتنے ہی اجنبی معاشروں سے اس کا واسطہ پڑتا گیا۔ ہر اجنبی معاشرے نے اسلام کو انقلاب آفریںپایا اور جس معاشرے نے جتنی شدت سے ضرب محسوس کی اسی مناسبت سے اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔