یہ دعوی تو نہیں کیا جاسکتا کہ امام شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کے یہاں اجتماعی علوم کے تمام مباحث آج کی ضروریات اور یورپ کی تحقیقات کے مطابق مکمل طور پر موجود ہیں۔ یہ بات قرین قیاس بھی نہیں ہوسکتی۔ حضرت شاہ صاحب کا زمانہ آج سے کم و بیش تین سو سال پہلے کاتھا اور اس وقت سے اب تک دنیا بے شمار انقلابات سے گزر چکی ہے۔ اس عرصہ میں بہت سے نئے علوم مدون ہوگئے ہیں اور نئی نئی معلومات منظر عام پرآچکی ہیں لیکن ایک بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ امام شاہ ولی اللہ کے یہاں اجتماعی زندگی سے متعلقہ تمام ضروری مباحث ملتے ہیں اور انہیں مشرق کی علمی تحقیقات کی منزل اعلیٰ کہا جاسکتا ہے۔ مشرق علوم اجتماعی کی تحقیقات ابھی اسی قدر کرنے پایا تھا کہ زوال کا شکار ہوگیا۔ یہاں کی علمی تحقیقات زمانہ کی رفتار کا ساتھ نہ دے سکیں۔ لیکن حضرت شاہ صاحب کے نظریے آج بھی اجتماعی علوم کی بنیاد کا کام دے سکتے ہیں۔ مظاہر اجتماعی کی تحقیقات کا ہمارے ہاں ایک حد تک کام ہوچکا ہے ہمیں اسے اپنا کرآگے کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔ مشرقی اقوام اور خصوصاً مسلمانوں کے لئے یہ کچھ زیادہ مفید نہیں ہوسکتا کہ وہ یورپ کے ترقی یافتہ اجتماعی علوم کو بجنسہ قبول کرلیں۔ ایسا کرنے سے ان کی انفرادیت بری طرح مجروح ہوجائے گی اور فرد وجماعت کی ترتیب وتشکیل کی ضروریات کے لئے اجتماعی علوم جو کام انجام دیتے ہیں وہ تشنہ رہ جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ علوم اجتماعی کا جو ذخیرہ مسلمانوں کے یہاں موجود ہے وہ ان میں سے بنیادی افکارتلاش کریں۔ اور انہیں اپنے سامنے رکھ کر یورپ کی ترقی یافتہ تحقیقات سے فائدہ ضروراٹھائیں لیکن اپنے اجتماعی علوم کی نئی عمارت ان بنیادوں ہی پر اٹھائیں جو ان کی ذہنی زندگی سے مناسبت رکھتی ہیں۔