دنیا میں جتنی بڑی ایجادات ہوئی ہیں ان کے پیچھے ایک اجتماعی سوچ، ایکشن پلان، اور پھر فولواپ پلان ملتا ہے، تبھی جا کر نتائج آتے ہیں۔ اگر ہم نیوکلئیر سانئیس میں ایٹم بم، اور پہلے نیوکلئیر ری ایکٹر جوکہ امریکہ میں دوسری جنگ عظیم کے دوران مین ہیٹن پروجیکٹ کے دوران دریافت ہوئے، کو ہی دیکھیں تو ہمیں سمجھنے میں آسانی ہوگی، کہ کس برق رفتاری سے امریکی قیادت اور سانئیسدانوں نے اس پراجیکٹ کو مکمل کیا۔ اس ایک پروجیکٹ کی کامیابی نے امریک کو دنیا کا بادشاہ بنا دیا۔ اگر ہم پاکستان کو ہی دیکھیں تو ہمارے ملک میں بھی وہی پراجیکٹ مکمل ہوئے ہیں جن میں قومی قیادت کی دلچسپی نمایاں تھی، اس کی وجہ انڈیا سے روایئتی دشمنی یا کوئی اور بھی ہو سکتی ہے۔
قومی سطح پہ پلان کے بعد ہی پراجیکٹس اہمیت اختیار کرتے ہیں اور اس کے ذمہ داران خود کو زیادہ باصلاحیت سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر تحقیقی ادارے اب تک مضبوط نہیں ہو سکے تو اس کی وجہ کوئی اور نہیں، بلکہ تحقیقی اداروں کی ترقی کے لیے موزوں ایکشن پلان کی عدم دستیابی اور مطلوبہ فنڈز کی کمی ہے۔
تحقیق ایک انفرادی کام نہیں ہے۔ عام طورپہ ہمیں میڈیا سے یہ تعاثر ملتا ہے کہ ایڈیسن نے بلب بنا دیا،جس سے ایک نوجوان ذہن کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ شائد یہ اکیلا آدمی لیب میں لگا رہا ہوگا اور ایک چیز ایجاد کر دی۔ یہ ایک غلط تعاثر ہے۔ عام طور پہ میڈیا یا کتابوں میں پروجیکٹ لیڈر کا نام دیا جاتا ہے اور وہ بھی اس پراجیکٹ لیڈر کا جو پروجیکٹ کے آخری مرحلے پہ انچارج ہو، جبکہ ایجادات ایک پراسس کا نتیجہ ہوتی ہیں، جو کبھی کبھار کئی سالوں پہ محیط ہوتا ہے۔ ایجادات بلاشبہ ایک اداراجاتی کام ہیں، جس میں ایک فرد کی حیثیت جسم میں ایک عضو کی مانند ہوتی ہے، جو ضروری تو ہوتا ہے لیکن اس کو پورا جسم کہنا، باقی جسم سے ناانصافی ہو گی۔
دنیا میں تحقیقی اداروں کا موجودہ نظام مغربی یورپ کے چند مملالک نے 1850ﺀ کے لگ بھگ بنایا تھا۔ تحقیقی اداروں کا کام کارپوریٹ کی کامیاب تجارت پہ منحصر ہے۔ کارپوریٹ کی تجارت کو پھیلانے کے لے معاشی کمپینیاں تحقیتی اداروں کا رخ کرتی ہیں اور دونوں کے باہمی تعاون سے دونوں شعبے ترقی کرتے ہیں اور ان کا توازن قائم رہتا ہے۔ مغرب کے ان پبلک یا پرائیویٹ معاشی اداروں میں جو لوگ بھی بیٹھتے ہیں، ان میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ تحقیقی اداروں کے کردار کو سمجھتے ہیں، اور حکومت ان کو قومی ٹیکس سے اور کمپنیاں انفرادی حیثیت میں بھی فنڈز دیتی ہیں۔جبکہ پاکستان کے کسی سیٹھ نے آج تک تحقیق کے اوپر رتی بھی خرچ نہیں کی، ٹیکس چوری کی تو بات سب جانتے ہیں۔ قومی سطح پہ نااہلی کی اس سے بڑی اور مثال کیا ہوگی کہ جنرل مشرف سے پہلے یہاں پہ کسی نے ایچ۔ای۔سی کی ضرورت کو محسوس ہی نہیں کیا۔ جبکہ ہمارے پڑوسی ملک چین میں ہر ایک ٹکنالوجی کا الگ سے ایک منسٹر موجود ہے۔
کوئی بھی سانیئسدان ایک شعبہ کا ماہر ہوتا ہے، جبکہ ایک پراڈیکٹ کئی شعبہ جات کے ماہرین مل کرتکمیل کر پاتے ہیں۔ان تمام ماہرین کو تسبیح میں دانوں کی طرح پرونا قومی قیادت کا کام ہوتا ہے، نہ کہ انفرادی حیثیت میں ایک ادارے یا سانیئسدان کا۔ ہمارے ہاں نئی دریافتیں اور نئی ٹکنالوجیز تبھی ممکن ہوں گی، جب تمام ادارے مل کر قومی معاشی اداروں کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے کام کریں گے،اور قومی قیادت اس کے لیے مسلسل اور مناسب انداز میں اخلاقی، سیاسی،اور معاشی مدد جاری رکھے۔ اس کے علاوہ ہمارے سیٹھ بھی انفرادی طور پہ اپنا کردار ادا کریں تو کوئی مزاحقہ نہیں۔