ایک ایسا معاشرہ جہاں بنیادی انسانی سوچ کا فقدان ہو،وہ معاشرہ اعلیٰ فکر کے ماہرین پیدا نہیں کر پاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہاں کا ماحول ہوتا ہے، کیونکہ ماحول ہمیں سکھاتا ہے۔ بچے کو زبان ہم نہیں سکھاتے، ماحول سکھاتا ہے۔ وہ ماحول پیدا کرنا سماج کی لیڈرشپ کا کام ہوتا ہے۔ آج کا مضمون ایک غیر پیداواری معاشرے میں سانئسدانوں کی کھیپ تیار کرنے کے بارے نہیں ہے، بلکہ اگر ایک معاشرہ پرامن اور خوشحال ہے تو اس میں کیسے سانئسی ذہن کے حامل ماہرین پیدا ہوتے ہیں، کے بارے میں ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غیر پیداواری معاشرے سے اچھے افراد پیدا ہونا بند ہو جاتے ہیں، پیدا تو ہو سکتے ہیں لیکن بہت کم مقدار میں اور وہ بھی اپنی انفرادی کوشش سے۔ اگر آپ بھی ایسی جدوجہد کرنا چاہتے ہیں تو یہ مضمون آپ کی مدد کرسکتا ہے۔
کیا وجہ ہے کہ ایک ہی ماحول میں کحچھ افراد اچھے سانئسدان بن جاتے ہیں اور کچھ نہیں بن پاتے۔ اس کے لیے آپ کو سانئسدان کا ذہن سمجھنا ہوگا۔ آپ کو سمجھنا ہوگا کہ سانئسدان کا ذہن شعرا، کسانوں،اور کاروباری حضرات سے مختلف ہوتا ہے۔ اگرچہ سب لوگ سوچتے تودلیل سے ہی ہیں، لیکن سب کے سوچنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ سانئسدان بننے کے لیے بنیادی طور پہ جس شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے: وہ مشاہدہ ، تجزیہ اور نتائج پہ ہر وقت غورو فکر کرنے والی ہونی چاہئیے۔ یادداشت بھی ایک ضروری ہتھیار ہے، لیکن یہ تجسس سے کم درجے کا ہے۔ سانئسدان بننے کے لیے کن خصلتوں کا ہونا ضروری ہے وہ درج ذیل ہیں۔
۱۔ مسلسل مشاہدہ اور تجسس۔
۲۔ اپنے پراجیکٹ اور پرابلم پہ ہی سوچنا۔
۳۔ روزانہ کی بنیادوں پہ اپنے سبجیکٹ کے متعلق ہی سوچنا۔
۴۔ اپنے پرابلم کو مخصوص حالات کی روشنی میں سمجھنا اور اپنا تجربہ کرنا۔
۵۔ اپنے تجربے کو جنرل تھیوری اور مخصوص ڈیٹا سے سمجھنا۔
۶۔ اپنے شعبے کی عینک اتار کے دوسرے شعبے کے ماہرین کی مدد لینا اور ان کے نقطہ نظر سے پرابلم اور نتائج کو سمجھنا۔
۷۔ اپنے پرابلم کی اہمیت کو سمجھنا۔
۸۔ خطرات مول لینا اور کبھی کبھار تُکے سے بھی کام چلانا۔
۹۔ تجربہ کی ناکامی سے سیکھنا اور کبھی بھی جلد بازی نہ کرنا۔
۱۰۔ اپنے نتائج پلان کے حساب سے سمجھ نہ آ رہے ہوں تو بھی ایمانداری اور اپنی سمجھ سے لکھ دینا۔
۱۱۔ اپنے ڈیٹا کو مختلف زاویوں سے دیکھنا۔
سانئسدان بننا ایک پراسس ہے اور سانئسدان جتنا پرانا ہوتا جاتا ہے قیمتی ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے اکثر ملکوں میں ریٹارمنٹ کے بعد بھی سانئسدانوں سے کام لیا جاتا ہے۔ جاپان میں پالیسی میکنگ میں ریٹارڈ سانئسدانوں کی خدمات لی جاتی ہیں۔ کم بولنے والے افراد اس شعبے کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ زیادہ بولنے والے افراد برے ہیں، وہ بھی مناسب ہو سکتے ہیں اگر مشاہدہ کی عادت رکھتے ہوں۔ اپنے کام سے جذباتی لگاؤ رکھنا اور دل کے قریب رکھنا بہت ضروری ہے۔ دل اور دماغ کا ایک پیج پہ ہونا بہت ضروری ہے۔ خیالوں میں رہنے والے افراد بھی اگراپنی توانائی کو صحیح سمت دیں تو سب سے موزوں امیدوار ہو سکتے ہیں۔ طاقت اور پیسے کے پیچھے بھاگنے والے افراد اس شعبے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ سانئسدان بن کر آپ کو سوچنا ہوگا، اپنے نتائج کا دفاع کرنا ہوگا، نئے نظریات کو جنم دینا ہوگا، پرانے نظریات سے مشاہبت قائم کرنی ہوگی اور کبھی کبھار ان کو خیرآباد بھی کہنا ہوگا۔
ان سب خطرات کے بعد آپ سانئسدان بن جائیں گے، لیکن امیر تو شائد نہ ہی ہوں، البتہ بھوکے بھی نہیں مریں گے، تو سوچ سمجھ کے آئیں گے تو سفر اچھا کٹے گا۔