وطن عزیز پاکستان اس وقت کئی مسائل سے دوچار ہیں لیکن سب سے اہم اور پیچیدہ مسئلہ مذہبی ہے فرقوں کے مزید گروپ بن چکے ہیں یہ انتہائی پریشان کن اورتشویشناک صورتحال ہے جس کی وجہ سے دشمن عناصر فائدہ اٹھا کر معصوم اور بے گناہ لوگوں کا خون بہارہے ہیں لیکن افسوس کہ مذہبی سکالر قران و سنت کے مطابق چلنے کو تیار نہیں ہیں
حرم پاک بھی ،اللہ بھی،قران بھی ایک
کیابڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
اللہ کا دین مکمّل ہے۔ اِسلام میں نہ فرقے ہیں نہ فرقوں میں اِسلام ۔فرقہ پرستی، اکابرپرستی، مقابر پرستی، مسلک پرستی، جماعت پرستی، پیرپرستی وغیرہم، دین اسلام کے غلبے اوراتحاد امة اور عالم اسلام کی ترقی و استحکام اور امن و آشتی کی راہ میں حائل واحدنہیں تو کم از کم سب سے بڑی رکاوٹ ضرورہیں اوراس لعنت و ناسور سے نجات پائے بغیراصلاح احوال کی کوئی بھی دوسری صورت ممکن نظرنہیں آتی ۔کیوں کہ یہی فرقہ پرستی، اکابرپرستی، مقابر پرستیجس طرح لوگوں کو گمراہ کر کے قرآن و سنت کی پیروی سے ہٹادیا گیا اورفرقہ پرستی، اکابرپرستی، مقابر پرستی، مسلک پرستی، جماعت پرستی، مفاد پرستی پر لگادیا گیا اسی کا لازمی و منطقی نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ اللہ رب العالمین کے نازل کردہ دین حق “الاسلام”کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے، امة مسلمہ کو متعدد فرقوں، مذہبی گروہوں، سیاسی دینی جماعتوں، مسلکوں، ٹولیوں اور ٹکڑیوں میں تقسیم در تقسیم کر دیا گیا ہے، مسلمانوں کو قرآن و سنت کی اطاعت و اتباع سے متنفر نہیں توکم از کم دورکرنے کی اس گھناؤنی سازش کے پیچھے کہیں نہ کہیں پاکستان اور اسلام دشمنوں کا نادیدہ ہاتھ اور کوئی نہ کوئی عمل دخل تو ضرور ہو سکتاہے۔
چاروں فقہی مکاتب فکر کا معاملہ فرقہ پرستی، اکابرپرستی، مقابر پرستی، مسلک پرستی، جماعت پرستی، پیرپرستی وغیرہم سے بالکل مختلف ہے کیونکہ وہ تفقہ فی الدین کے زمرے میں آتے ہیں او ان چاروں کے پیروکارمحض باہمی فقہی آراء اوراجتہاد کے اختلاف کی بناء پر ایک دوسرے کو گمراہ نہیں سمجھتے۔ اوراصول دین میں وہ چاروں متفق و متحد ہیں ان کے مابین صرف بعض اجتہادی مسائل (فروعات) میں اختلاف ہے جوایک فطری امرہے کیوں کہ اجتہاد انسانی غور و فکر، فہم و فراست، عقل و شعور کا اخذ کردہ نتیجہ ہوتا ہے۔
کس قدر بد قسمتی اور ستم ظریفی ہے امن و اتحاد، صلاح و فلاح، اخوّۃِ اسلامی او ر مساواتِ انسانی کا داعی دین اسلام (جس میں کہ تقرقے کی کوئی گنجائش ہی نہیں بلکہ اس کی سخت ترین ممانعت ہے) آج فرقوں میں بٹ کر رہ گیا ہے، اصل دین اسلام کے پیروکار آج بہت کم نظر آتے ہیں ہر طرف طوفان بد تمیزی برپا ہے فرقہ پرست گروہوں کا راج اور ایک بے ہنگم ہجوم ہے جن میں سے ہرایک فرقہ اپنے علاوہ باقی تمام تر فرقوں، مذہبی گروہوں اور مسالک وغیرہ کو پیروکاروں کو گمراہ، بدعتی، جہنمی، کافر و مشرک اور مرتد سمجھتا اور بتاتا ہے اور واجب القتل گردانتا ہے۔ کوئی بھی فرقہ ایسا نہیں جس نے مخالف فرقوں کے خلاف مسلّح جتھے تیار نہ کر رکھے ہوں۔ مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے کے قتل پر آمادہ کیا جاتا ہے اور اس فتنہ انگیزی کو نہ صرف جائز بلکہ باعثِ اجر و ثواب اور سیدھا سیدھا جنّت الفردوس کا ٹکٹ تصوّر کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہےکہ کوئی بھی فرقہ پرست شخص اپنے دین کا نام اسلام اور اس کو ماننے والوں کا نام مسلمان سننے بتانے اور اختیار کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا ہر کوئی شرم سے نہیں بلکہ فخراور ڈھٹائی کیساتھ بتاتا ہے کہ جی الحمد للہ میں بریلوی، میں دیوبندی، تبلیغی، اہلحدیث ، طاہری ہوں( دیگر بہت سارے اور بھی ہیں) جو سب کے سب علی الاعلان اور فخریہ طور پر یہی کہتے ہیں کہ میرا فرقہ ہی میرا دین و مذہب ہے اور بس وہی ایک حق پر ہے۔ باقی سارے کافر و مشرک اور مرتد ہیں اور وہ اپنے انہی افکار و نظریات کو اسلام جانتا اور مانتا ہے کیوں کہ فرقہ پرست دینی قیادت اور مذہبی پیشواؤں نے عام مسلمانوں کو یہی تعلیم دی ہے۔ فرقہ پرستی کا یہ گندہ و غلیظ زہر افراد امت کی اکثریت کے رگ و پے میں اس قدرسرایت کر چکا ہے کہ اب لوگ دین اسلام کے ساتھ تعلق اورمسلمان ہونے کے لیئے، فرقوں کے ساتھ وابستگی کو اولین شرط اور دینی ضرورت اور دین و ایمان کا ناگزیر تقاضاتصور کرنے لگے ہیں حالانکہ ایسے افکار و نظریات کو قرآن و سنّت میں واضح طور پر ایسے من گھڑت، بے بنیاد اور خود ساختہ افکار و اعمال او رنظریات کو شرک و کفرکے مصداق حرام اور باطل قراردیا گیا ہے ـ
اس بدترین صورتحال کی وجہ سے امت مسلمہ اور اصل دین اسلام کو توبلا شک و بلاشبہ نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے البتہ فرقہ پرست، اکابرپرست، مقابر پرست، مسلک پرست، جماعت پرست، پیر پرست وغیرہ ملا مولویوں کی لاٹری نکلی ہوئی ہے ان کی دوکان خوب چل نکلی ہے صدقات، خیرات، زکوة، عطیات اورفطرانہ و نذرانہ کے ساتھ ساتھ اپنے گھروں کی زیبائش اور آرائش تک کے لیےکم علم اور سادہ لوح لوگوں سے پیسے بھٹورتے ہیں
یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ نہ صرف فرقہ واریت کو فروع دینےوالوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں بلکہ آئینی طور پر ایک مجوزہ قانون بھی بنایا جائے جس کے تحت ہرقسم کی فرقہ واریت اور تقسیم کو ناقابل معافی جرم قرار دیا جائے۔