اسرائیل کے سابق وزیر جنگ موشے دایان نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھا تھا کہ غیر متحد عرب جو ہر چھوٹے بڑے مسئلہ پر ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں،اسرائیل کے لئے کوئ خطرہ نہیں بن سکتے.واشنگٹن پوسٹ نے مزید نقل کیا ہے کہ اسرائیل کے محکمہ جنگ کے ایک افسر نے کہا کہ اسرائیل میں یہ یقین کیا جاتا ہے کہ لبنان کے شمالی اور مشرقی حصہ میں یاسر عرفات کے خلاف بڑھتی ہوئ بغاوت کا یہ نتیجہ ہوا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیل فوجیوں پر فلسطینی حملوں کی تعداد کم ہوگئ ہے.
اسرائیل کے محکمہ جنگ کے دوسرے افسر نے اس کے جواب میں کہا:
They are busy themselves, and that is good for us.
اختلافات دراصل دشمن کا ہتھیار ہے. یہی صورت حال پاکستان کی بھی ہے. ہم جس باہمی ٹکراؤں کا شکار ہوگئے ہیں. ہم آپس میں جس کشمکش میں مبتلا ہیں، کبھی بھی ہم بیرونی خطرے کو ٹال نہیں سکتے.مقدس اداروں کو جہاں لڑنا چاہئے وہاں سے ناکام لوٹ آئے ہیں.جہاں پر شجر ممنوع کو ناجانے کا حکم دیا ہے وہاں پہ اس درخت کو کاٹ کر لایا ہے بے بسی کا عالم دیکھئے ناکام جمہوری نظام کا حال دیکھئے. یہاں ایک سربراہ کے ماتحت ادارہ اپنے سربراہ کا راستہ روکھ لیتا ہے. مقدس ادارے کبھی عدلیہ کے ساتھ اُلجھ پڑتے ہیں تو کبھی حکمرانوں کے ساتھ اُلجھے ہوئے نظر اتے ہیں.حکومت اور عوم مذہبی جلسے جلوسوں سے الجھن کا شکار ہیں. مسئلہ صرف اختلافات نہیں ہے بلکہ مسلہ یہ ہے کہ ہم اختلافات کو کم کرنے کے بجائے اسے ہوا دیتے ہیں. اختلافات ہر جگہ ہوتے ہیں ہر ملک ہر ادارہ حتیٰ کے گھروں میں بھی اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں. یہ انسانوں کی فطرت نہیں ہے کہ انکی راہیں مختلف نہ ہوں، یہ ہرگز ممکن نہیں ہے کہ تمام لوگ بالکل متفق الرائے ہوجائیں.مگر جب ملک ایسے حالات سے دو چار ہو جمہوریت کو خطرہ ہو دشمن موقعہ سے فائدہ اٹھاتا ہو تو پھر ہمیں ایسے حالات میں شعوری طور پر بیدار ہونا چاہئے. ایسے حالات میں اختلاف کو پس پشت رکھنا ہوگا ، اس افراتفری اور کشیدگی کم کرنے کیلئے متحدہ کوششیں اور مشترکہ لائحہ عمل کو ممکن بنانا ہوگا ہمیں باہمی شکایات کو ختم کرنا ہوگا جذباتی ردعمل کو سینوں میں دفن کرنا ہوگا ہمیں برداشت کے زمیں پر کھڑا ہونا ہوگا.تب ہم کسی سے آگے جانے کا خواب دیکھ سکتے ہیں تبھی ہم کسی کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں.اگر یہ سب کچھ ممکن نہیں ہے تو جناب عالی ہمیں پھر کسی دشمن کی بھی ضرورت نہیں ہے.